Saturday, May 17, 2008
Wednesday, May 14, 2008
انور غازی کا کالم صیہونی ریاست کے 60 سال ؟
یہ کالم پڑھنے کے بعد اس پر تبصرہ ضرور کریں
اور میرا تبصرہ تو یہ ہے کہ بہت سے اسلامی ممالک بھی ہمیں اسراییل اور امریکہ کے ہمنوا نظر آ رہے ہیں-حالانکہ انکے عوام اسراییل اور امریکہ کے خلاف ہیں اور اسراییل اور امریکہ کو اپنا دشمن تصور کرتے ہیں
کالم پڑھنے کیلیے کلک کریں
Jang Group Online
اور میرا تبصرہ تو یہ ہے کہ بہت سے اسلامی ممالک بھی ہمیں اسراییل اور امریکہ کے ہمنوا نظر آ رہے ہیں-حالانکہ انکے عوام اسراییل اور امریکہ کے خلاف ہیں اور اسراییل اور امریکہ کو اپنا دشمن تصور کرتے ہیں
کالم پڑھنے کیلیے کلک کریں
Jang Group Online
Tuesday, May 13, 2008
ماں کا دن! Mother day
وسعت اللہ خان
بی بی سی اردو ڈاٹ کام، اسلام آباد
ماں! تو اب بچے جننا بند کردے۔تو نے جو چھ ارب بچے جن لیے انہوں نے تجھ سے کیا کیا نہیں لیا۔
تیرے پیٹ کے قلعے میں نو ماہ کا تحفظ۔ پیدائش کے بعد تیرے ہاتھوں کے لمس کی گرمی۔ تیرے رت جگوں کی قیمت پر میٹھی نیند۔ بن مانگے چھاتی کا دودھ۔گرم و سرد موسموں اور منڈلاتے گدھوں سے بچنے کے لئے تیری گود کی چھتری۔ انگلی پکڑ پکڑ کر چلنے کی راحت۔ تیری بھوک کی قیمت پر بھر پیٹ کھانا۔ تیری بوسیدہ چنری کے عوض صاف کپڑے۔ تو نے اپنے خواب فروخت کرکے کتاب اور قلم تھمایا۔ تجھ سے جوتوں کے تسمے بندھوائے۔ تو نے الف ب ت کی مشق کروائی۔ اپنے جائے کی نادانی اپنے سر لے کر باپ کی ڈانٹ کا رخ اپنی طرف موڑ لیا۔
مگر تو نے جو چھ ارب بچے جن ڈالے انہوں نے تجھے کیا دیا ! صرف ناسمجھی کے دور کی کلکاریاں، مسکراہٹ اور معصوم شرارتوں کی مسرت۔ بس!
جسے جنتے ہوئے تو نے اپنا جسم، جان اور روح داؤ پر لگادی کیا اپنے پاؤں پر کھڑا ہونے کے بعد اس نے تجھے اس قابل بھی سمجھا کہ جیب کترا، نوسر باز، چور یا ڈاکو بننے سے پہلے تجھ سے صرف ایک بار ہی پوچھ لیتا۔ یا کسی اور کے بچے کو قتل کرنے سے پہلے تجھے اعتماد میں لے لیتا۔ بارودی جیکٹ پہننے کے بعد تجھ سے مل کر رخصت ہوتا۔ جنگ کا طبل بجانے یا گولہ پھینکنے سے پہلے تجھے فون کرلیتا۔ کسی کا گھر برباد کرنے سے پہلے تیرے پلو کی چادر میں سوتے سمے کو بلا لیتا۔ کسی کا گیت برباد کرنے سے پہلے تیری پہلی لوری کو یاد کرلیتا۔
کسی کا کھیت نذرِ آتش کرتے وقت تیری گود کی گرمی کا تصور کرلیتا۔ کسی کا روزگار چھیننے سے پہلے تیرے ہاتھوں سے کھایا پہلا نوالہ ہی تصور میں لے آتا۔ دوسروں کی بھوک کے عوض تجوریاں بھرتے وقت تیری دودھ سے بھری چھاتی کا خیال کرلیتا۔ کسی کو دھوکا دینے سے پہلے تجھ سے ملنے والے ہمیشہ سچ بولو کے سبق کو ہی ذہن میں لے آتا۔ ریل کی پٹڑی پر سر رکھنے سے پہلے تیری آنکھوں سے اپنے گالوں پر ٹپکنے والے پہلے خواب کو ہی یاد کر لیتا۔
دیکھ لے ماں! تو نے کیا کیا اور تیرے بچوں نے کیا کیا۔
وہ زمانے اور تھے جب تیری کوکھ سے اشرف الانسان جنتے تھے۔
مگر مجھے معلوم ہے کہ یہ سب کچھ جانتے ہوئے بھی تو بچے جننا بند نہیں کرے گی۔ تیری آس کبھی نہ ٹوٹے گی۔
بس یہی ایک خرابی ہے تجھ میں۔
بی بی سی اردو ڈاٹ کام، اسلام آباد
ماں! تو اب بچے جننا بند کردے۔تو نے جو چھ ارب بچے جن لیے انہوں نے تجھ سے کیا کیا نہیں لیا۔
تیرے پیٹ کے قلعے میں نو ماہ کا تحفظ۔ پیدائش کے بعد تیرے ہاتھوں کے لمس کی گرمی۔ تیرے رت جگوں کی قیمت پر میٹھی نیند۔ بن مانگے چھاتی کا دودھ۔گرم و سرد موسموں اور منڈلاتے گدھوں سے بچنے کے لئے تیری گود کی چھتری۔ انگلی پکڑ پکڑ کر چلنے کی راحت۔ تیری بھوک کی قیمت پر بھر پیٹ کھانا۔ تیری بوسیدہ چنری کے عوض صاف کپڑے۔ تو نے اپنے خواب فروخت کرکے کتاب اور قلم تھمایا۔ تجھ سے جوتوں کے تسمے بندھوائے۔ تو نے الف ب ت کی مشق کروائی۔ اپنے جائے کی نادانی اپنے سر لے کر باپ کی ڈانٹ کا رخ اپنی طرف موڑ لیا۔
مگر تو نے جو چھ ارب بچے جن ڈالے انہوں نے تجھے کیا دیا ! صرف ناسمجھی کے دور کی کلکاریاں، مسکراہٹ اور معصوم شرارتوں کی مسرت۔ بس!
جسے جنتے ہوئے تو نے اپنا جسم، جان اور روح داؤ پر لگادی کیا اپنے پاؤں پر کھڑا ہونے کے بعد اس نے تجھے اس قابل بھی سمجھا کہ جیب کترا، نوسر باز، چور یا ڈاکو بننے سے پہلے تجھ سے صرف ایک بار ہی پوچھ لیتا۔ یا کسی اور کے بچے کو قتل کرنے سے پہلے تجھے اعتماد میں لے لیتا۔ بارودی جیکٹ پہننے کے بعد تجھ سے مل کر رخصت ہوتا۔ جنگ کا طبل بجانے یا گولہ پھینکنے سے پہلے تجھے فون کرلیتا۔ کسی کا گھر برباد کرنے سے پہلے تیرے پلو کی چادر میں سوتے سمے کو بلا لیتا۔ کسی کا گیت برباد کرنے سے پہلے تیری پہلی لوری کو یاد کرلیتا۔
کسی کا کھیت نذرِ آتش کرتے وقت تیری گود کی گرمی کا تصور کرلیتا۔ کسی کا روزگار چھیننے سے پہلے تیرے ہاتھوں سے کھایا پہلا نوالہ ہی تصور میں لے آتا۔ دوسروں کی بھوک کے عوض تجوریاں بھرتے وقت تیری دودھ سے بھری چھاتی کا خیال کرلیتا۔ کسی کو دھوکا دینے سے پہلے تجھ سے ملنے والے ہمیشہ سچ بولو کے سبق کو ہی ذہن میں لے آتا۔ ریل کی پٹڑی پر سر رکھنے سے پہلے تیری آنکھوں سے اپنے گالوں پر ٹپکنے والے پہلے خواب کو ہی یاد کر لیتا۔
دیکھ لے ماں! تو نے کیا کیا اور تیرے بچوں نے کیا کیا۔
وہ زمانے اور تھے جب تیری کوکھ سے اشرف الانسان جنتے تھے۔
مگر مجھے معلوم ہے کہ یہ سب کچھ جانتے ہوئے بھی تو بچے جننا بند نہیں کرے گی۔ تیری آس کبھی نہ ٹوٹے گی۔
بس یہی ایک خرابی ہے تجھ میں۔
مرحوم والدہ محترمہ کے نام
تم تھے تو زندگی کی حاصل تھی ہر رعنائی
اب میں ہوں اور بس میری یہ تنہائی
تیرے دو ہاتھ ہی اُٹھتے تھے دعاؤں کیلیے
اب تو خونِ دل ہوا اور آواز تلک نہ آئی
بند آنکھوں سے دیکھا جو تیرا حسیں چہرہ
جانے کیوں تیری آنکھوں میں ویرانی پائی
کچھ خواب تھے تیری ویران آنکھوں میں
جانے تعبیر سے پہلے کیوں زندگی نے کی بیوفائی
سختیوں کے سبھی موسم اکیلے برداشت کیے
گلشن چھوڑ دیا تو نے جب اُمیدِ بہار آئی
پورا نشیمن بکھر گیا تیرے بعد کچھ اس طرح سے
دکھایا اثر اپنوں نے اور کچھ تیز طوفاں آئے
اب شکوہ کسی سے کیا کرنا اے ناز
جانے والے جاتے ہیں مجبور ہیں اور کوئی ہرجائی
اب میں ہوں اور بس میری یہ تنہائی
تیرے دو ہاتھ ہی اُٹھتے تھے دعاؤں کیلیے
اب تو خونِ دل ہوا اور آواز تلک نہ آئی
بند آنکھوں سے دیکھا جو تیرا حسیں چہرہ
جانے کیوں تیری آنکھوں میں ویرانی پائی
کچھ خواب تھے تیری ویران آنکھوں میں
جانے تعبیر سے پہلے کیوں زندگی نے کی بیوفائی
سختیوں کے سبھی موسم اکیلے برداشت کیے
گلشن چھوڑ دیا تو نے جب اُمیدِ بہار آئی
پورا نشیمن بکھر گیا تیرے بعد کچھ اس طرح سے
دکھایا اثر اپنوں نے اور کچھ تیز طوفاں آئے
اب شکوہ کسی سے کیا کرنا اے ناز
جانے والے جاتے ہیں مجبور ہیں اور کوئی ہرجائی
Sunday, May 11, 2008
acceptable solution to end the crisis my letter to thefrontierpost.com
Happenings in Kurram Agency
Shafiue Ahmed shafiqueahmed110@gmail.com
What is happening in the Kurram Agency it is since mid eighteenth century and before the Britain they had fought a lot with the local tribes and they Succeeded. When the Britain arrived in the valley and they found the Turis very hard to defeat and they negotiate with the Turis in a result they decided to form a force who depend the sovereignty and dignity of both parties. So the formation of Turis Militia was initiated under Captain C.M. Dallas on 18 Oct. 1892, with a view to avoid the serious commitment of regular Army units for the protection of borders as well as to provide protection to Turis Shia Community in the valley. The raising of Turi Militia was later on completed by Captain E.W.S.K Maconchey of the 4th Punjab Infantry. The headquarters of the Militia was originally located at Balish Khel about 30 kilometers east of Parachinar but was soon shifted to Parachinar itself. Initially in 1899 an experiment was made of dividing the Militia into two separate battalions under separate commandants. The first battalion with strength of 957 was to be mobile force for defense against foreign aggression, while the second was for garrisoning the valley. However, when this arrangement proved impracticable, the two battalions were amalgamated under one commandant in 1902. About this time the Turi Militia was renamed as Kurram Militia. Now the community once again facing the same situation like the mid 18th century. And the people of the Valley is requesting the government to install the Kurram Militia on the previous position I mean on 1986 position because before 88 there were no such situation in the Agency. When Kurram Militia displays from his position in 1988 by the Zia regime in since that day clashes between the different factions and sects began. Now the people of the Kurram Valley want to reinstall the Kurram Militia because the people are suffering since 30 years and this is the only acceptable solution to end the crisis.
my letter to thefrontierpost.com
http://www.thefrontierpost.com/News.aspx?ncat=le&nid=387
Shafiue Ahmed shafiqueahmed110@gmail.com
What is happening in the Kurram Agency it is since mid eighteenth century and before the Britain they had fought a lot with the local tribes and they Succeeded. When the Britain arrived in the valley and they found the Turis very hard to defeat and they negotiate with the Turis in a result they decided to form a force who depend the sovereignty and dignity of both parties. So the formation of Turis Militia was initiated under Captain C.M. Dallas on 18 Oct. 1892, with a view to avoid the serious commitment of regular Army units for the protection of borders as well as to provide protection to Turis Shia Community in the valley. The raising of Turi Militia was later on completed by Captain E.W.S.K Maconchey of the 4th Punjab Infantry. The headquarters of the Militia was originally located at Balish Khel about 30 kilometers east of Parachinar but was soon shifted to Parachinar itself. Initially in 1899 an experiment was made of dividing the Militia into two separate battalions under separate commandants. The first battalion with strength of 957 was to be mobile force for defense against foreign aggression, while the second was for garrisoning the valley. However, when this arrangement proved impracticable, the two battalions were amalgamated under one commandant in 1902. About this time the Turi Militia was renamed as Kurram Militia. Now the community once again facing the same situation like the mid 18th century. And the people of the Valley is requesting the government to install the Kurram Militia on the previous position I mean on 1986 position because before 88 there were no such situation in the Agency. When Kurram Militia displays from his position in 1988 by the Zia regime in since that day clashes between the different factions and sects began. Now the people of the Kurram Valley want to reinstall the Kurram Militia because the people are suffering since 30 years and this is the only acceptable solution to end the crisis.
my letter to thefrontierpost.com
http://www.thefrontierpost.com/News.aspx?ncat=le&nid=387
Subscribe to:
Posts (Atom)
ڈان اخبار اداریہ: ’کرم کے حالات پر قابو نہ پایا گیا تو فرقہ وارانہ تنازعات ملحقہ اضلاع میں پھیل سکتے ہیں‘
خیبرپختونخوا کے قبائلی ضلع کرم میں گزشتہ چند ماہ سے صورت حال عدم استحکام کا شکار ہے، ایسے میں جمعرات کو پیش آنے والا ہولناک واقعہ حیران کُن...
-
جنرل مشرف کی نسبت جنرل کیانی زیادہ پراعتماد نظر آئے آخر کار جنرل پرویز مشرف نے آرمی چیف کا عہدہ چھوڑدیا اور پاکستان فوج کی کمان ایک گ...
-
shafiqueahmed110.com - Articals form Saleem Safi, Hamid Mir, snt Babar Awan, Imran Khan and others READ THE ARTICALS FROM VIREOUS WRITER