Saturday, April 5, 2008

ذوالفقار علی بھٹو پر دستاویزی ف

ذوالفقار علی بھٹو پر دستاویزی فلم

ذوالفقارعلی بھٹو
ذوالفقارعلی بھٹو کی برسی چار اپریل کو منائی جائے گی
اسلام آباد کے نیشنل لائبریری آڈیٹوریم میں سابق وزیراعظم ذوالفقار علی بھٹو کے بارے میں بنائی گئی دستاویزی فلم کی افتتاحی تقریب منعقد ہوئی۔

فلم کی افتتاحی تقریب ذوالفقار علی بھٹو کی اٹھائیسویں برسی کی ہفت روزہ تقریبات کا حصہ ہے، جو چار اپریل کو منائی جائے گی۔

پیپلز پارٹی کے بانی چئیرمین ذوالفقار علی بھٹو کی زندگی کے بارے میں یہ فلم صحافی جاوید ملک نے پارٹی کی مرحوم سربراہ بینظیر بھٹو کی ہدایت پر تیار کی ہے۔

دستاویزی فلم میں ذوالفقار علی بھٹو کے اہل خانہ کے علاوہ ان کے رفقاء کار اور ان لوگوں کے انٹرویوز ریکارڈ کیےگئے ہیں جو انکی اسیری سے لے کر پھانسی کے دنوں تک مختلف حوالوں سے ان کے قریب رہے۔ان میں سابق جیل حکام، وکلاء اور فوجی افسران بھی شامل ہیں۔

فلم کی افتتاحی تقریب میں مہمان خصوصی کی حیثیت سے خطاب کرتے ہوئے وزیراعظم یوسف رضا گیلانی نے کہا کہ ’ ذوالفقار علی بھٹو کی زندگی اور موت کا مقصد نظام کی تبدیلی ہے اور یہی مقصد لیکر ہم حکومت میں آئے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ جس ملک کےلیےذوالفقار علی بھٹو نے قربانی دی اسے ہم کمزور ہوتا نہیں دیکھ سکتے اور ملک مضبوط اس وقت ہوگا جب ادارے مضبوط ہوں گے۔ انہوں نےکہا کہ ان کی جماعت انیس سو تہتر کے آئین کو اسکی روح کے مطابق بحال کرے گی‘۔

وزیراعظم یوسف رضا گیلانی نے سرکاری حکام سے کہا ہے کہ ان کے نام کے ساتھ ’مخدوم‘ کا خاندانی لقب استعمال نہ کیا جائے اور انہیں صرف سید یوسف رضا گیلانی کہہ کر پکارا جائے۔

اسلام آباد کے نیشنل لائبریری آڈیٹوریم میں سابق وزیراعظم ذوالفقار علی بھٹو کے بارے میں بنائی گئی دستاویزی فلم کی افتتاحی تقریب سے خطاب کرتے ہوئے وزیراعظم گیلانی نے کہا کہ انکے جد امجد کو مخدوم کا خطاب ان کی دین کے لیے خدمت کے عوض دیا گیا تھا جبکہ وہ خود سیاستدان ہونے کے ناطے ایک عوامی خدمت گار ہیں لٰہذہ وہ ’مخدوم‘ کا خطاب اپنے نام کے ساتھ لگانا نہیں چاہتے۔

وزیراعظم نے مزید کہا کہ ’وہ اوران کی جماعت بینظیر بھٹو اور ذوالفقار علی بھٹو کے خون کو رائیگاں نہیں جانے دیں گے اور حکومت کے ذریعے لوگوں کو سہولیات پہنچائیں گے۔‘

وزیراعظم کا کہنا تھا کہ انہوں نے اپنے وزراء سے کہا ہے کہ وہ تمام وزارتوں اور محکموں کی موجودہ صورتحال سےعوام کو فوری طور پر آگاہ کرنے کا بندوبست کریں تاکہ لوگوں کو پتہ چلے کہ حکومت ہمیں کن حالات میں ملی ہے

BBCUrdu.com

بھٹو زندہ ہے:’پرانے حقائق، نیا انداز‘وسعت اللہ خان

بھٹو زندہ ہے:’پرانے حقائق، نیا انداز‘

ذوالفقار علی بھٹو
دستاویزی فلم میں بھٹو صاحب کے بچپن سے وفات تک کی زندگی کو ایک سرسری مگر مربوط انداز میں بیان کیا گیا ہے
ذوالفقار علی بھٹو کی انتیسویں برسی کے موقع پر ان کی زندگی اور کامیابیوں اور ناکامیوں پر مبنی جو دستاویزی فلم ریلیز کی گئی ہے اس کی اچھی بات یہ ہے کہ سوا دوگھنٹے کی اس فلم میں بھٹو صاحب کی جھلکیاں دس منٹ کے لگ بھگ ہیں جبکہ باقی وقت ان کی زندگی کے مختلف ادوار اور پہلوؤں پر دوسروں کی زبانی روشنی ڈالی گئی ہے۔

ْبھٹو صاحب کی کہانی کو بے نظیر بھٹو، بھٹو صاحب کے بھانجے طارق اسلام ، عبدالحفیظ پیرزادہ، غلام مصطفی کھر، جہانگیر بدر، قیوم نظامی، الٰہی بخش سومرو، پروفیسر غفور احمد، منو بھائی، حمید اختر، جنرل ریٹائرڈ فیض علی چشتی، جنرل ریٹائرڈ حمید گل، جسٹس ریٹائرڈ صمدانی ( فلم میں ان کا پورا نام نہیں دیا گیا) ، جسٹس ریٹائرڈ ظفر مرزا، مؤرخ ڈاکٹر حبیب اللہ صدیقی اور اے جے بھرگری کے ذریعے آگے بڑھایا گیا ہے۔

لیکن بطور ناظر فلم میں کئی ایسے لوگوں کی کمی محسوس ہوتی ہے جو ذوالفقار علی بھٹو کی زندگی کے مختلف ذاتی، نفسیاتی اور عوامی پہلوؤں کو اور بہتر طریقے سے بیان کرسکتے تھے۔ مثلاً ڈاکٹر مبشر حسن جن کے گھر پر پیپلز پارٹی کی بنیاد رکھی گئی، معراج محمد خان جنہیں بھٹو صاحب ایک عرصے تک اپنا جانشین کہتے رہے، ٹیلنٹڈ کزن ممتاز علی بھٹو جو بیرسٹری کے زمانے میں بھٹو صاحب کے ساتھ لندن میں بھی رہے، سندھ میں بھٹو کے دستِ راست غلام مصطفی جتوئی ، بھٹو صاحب کے معروف سوانح نگار سٹینلے وولپرٹ وغیرہ وغیرہ۔

دستاویزی فلم کا ایک بڑا حصہ ذوالفقار علی بھٹو کے مقدمہ قتل کے بارے میں بیان و مباحثے پر مشتمل ہے جس سے پرانے حقائق نئے انداز میں تازہ ہوتے ہیں۔
اچھی بات یہ ہے کہ یہ دستاویزی فلم خالص پروپیگنڈہ نہیں بلکہ اسے دیکھنے سے چالیس برس قبل کے پاکستان کے بارے میں کئی نئی باتیں سامنے آتی ہیں اور کچھ تازہ سوالات بھی اٹھتے ہیں۔

تاریخی کمزوریاں
سکرپٹ میں بعض تاریخی کمزوریاں بھی ہیں مثلاً ایک جگہ کہا گیا ہے کہ بطور وزیرِ خارجہ بھٹو صاحب کی کوششوں سے چین نے پاکستان کو ساڑھے سات سو مربع گز علاقہ دے دیا۔حالانکہ یہ رقبہ ساڑھے سات سو مربع میل کے لگ بھگ تھا۔اسی طرح ایک جگہ کہا گیا کہ معاہدہ تاشقند پر پاکستان نے امریکی دباؤ میں دستخط کئے۔حالانکہ یہ معاہدہ سوویت یونین کی کوششوں سے اس زمانے میں ہوا جب امریکہ روس سرد جنگ عروج پر تھی چنانچہ امریکہ کس طرح ایک ایسے معاہدے پر دستخط کے لئے دباؤ ڈال سکتا تھا جو سوویت یونین کی کوششوں سے ہو رہا ہو۔

تاہم ممتاز صداکار طلعت حسین کی طاقتور آواز کے باوجود سکرپٹ کمزور ہے اور اکثر جگہ گفتگو اور مناظر آگے نکل جاتے ہیں اور سکرپٹ پیچھے رہ جاتا ہے۔ جو باتیں مختلف کردار کرچکے ہوں انہیں سکرپٹ میں دہرانے کی ضرورت نہیں ہوتی لیکن فلم میں ایسا بارہا ہوا ہے۔

ایڈیٹنگ اور آڈیو کے بھی مسائل ہیں بالخصوص بھٹو صاحب کی تقاریر کی آڈیو اکثر جگہ تکلیف دہ حد تک خراب ہے۔ حالانکہ ان دنوں تکنیکی اعتبار سے آواز بہتر بنانا کوئی زیادہ بڑا مسئلہ نہیں ہے۔

سکرپٹ میں بعض تاریخی کمزوریاں بھی ہیں مثلاً ایک جگہ کہا گیا ہے کہ بطور وزیرِ خارجہ بھٹو صاحب کی کوششوں سے چین نے پاکستان کو ساڑھے سات سو مربع گز علاقہ دے دیا۔حالانکہ یہ رقبہ ساڑھے سات سو مربع میل کے لگ بھگ تھا۔ اسی طرح ایک جگہ کہا گیا کہ معاہدہ تاشقند پر پاکستان نے امریکی دباؤ میں دستخط کیے حالانکہ یہ معاہدہ سوویت یونین کی کوششوں سے اس زمانے میں ہوا جب امریکہ روس سرد جنگ عروج پر تھی چنانچہ امریکہ کس طرح ایک ایسے معاہدے پر دستخط کے لیے دباؤ ڈال سکتا تھا جو سوویت یونین کی کوششوں سے ہو رہا ہو۔

تاہم یہ اس اعتبار سے ایک اچھی کوشش ہے کہ پہلی مرتبہ بھٹو صاحب کے بچپن سے وفات تک کی زندگی کو ایک سرسری مگر مربوط انداز میں بیان کیا گیا ہے۔ورنہ اب تک بھٹو صاحب کی تقاریر کی وہی آڈیو اور وڈیوز موجود تھیں جو بھٹو کے پرستار اپنے اپنے طور پر اکھٹے کرتے رہے ہیں۔

یہ بات بھی وضاحت طلب ہے کہ قائدِ عوام آرکائیوز کے نام سے یہ دستاویزی فلم کیا پیپلز پارٹی کا پروجیکٹ ہے یا کوئی پرائیویٹ کوشش۔



BBCUrdu.com

بھٹو صاحب کی لاش کو رات دو بج کر پینتیس منٹ پر پھانسی کے پھندے سے جدا کر دیا گ

’رات کے دو بجے تم سبھی سو چکے تھے۔۔۔‘

  ذوالفقار علی بھٹو
جب قتل کی ایف آئی آر انکے خلاف درج ہوئی توانہوں نے کہا تھا: ’پولیس نے اپنا فرض پورا کیا ہے۔‘
’’رات کے دو بجے تم سبھی سو چکے تھے
مگر وہ ابھی جاگتا تھا
کھبی ایک کاغذ پہ کچھ لکھ کر پرزے اڑاتا
کبھی مسکراتا
کبھی آسماں کی طرف دیکھتا
آسماں دو پہاڑوں کی میخوں پر اترا ہوا
اسکی چکی کے روزن سے ہنستا رہا
اور وہ دیر تک شیو کرتا رہا‘‘

’رات کے دو بجے‘ ذولفقار علی بھٹو کی پھانسی پر شاعر مسعود منور نے لکھی تھی۔

ایوان صدر کے غالباً پانچویں فلور پر دس گيارہ سال بعد جب تخت طاؤس نما صوفوں پر نشستہ بڑی بڑی وردیوں اور بڑے بیش بہا سوٹوں والوں کی موجودگي میں نہ جانے کہاں سے کوئی جیالا ’زندہ ہے بھٹو زندہ ہے‘ کا نعرہ لگاتا ہے تو نہ فقط پہلی قطار میں براجماں وی وی آئی پیز کے سوٹوں اور وردیوں میں سلوٹیں اور تیوریوں میں بل بھی پڑ جاتے ہونگے۔

یہی گذشتہ دنوں ریٹائرڈ جنرل پرویز مشرف کے ہاتھوں یوسف رضا گیلانی کے وزرات اعظمی کا حلف اٹھانے کے دن بھی ہوا، اور اس سے قبل قومی اسبملی میں ، اور یہی کچھ دو دسمبر انیس سو اٹھاسی کو بینظیر بھٹو کے تب کے صدر غلام اسحاق خان کے ہاتھوں حلف اٹھانے کے دن بھی ہوا تھا جب جیکب آباد کے ایک جیالے نے یہی نعرہ لگایا تھا۔ جس کے بعد بینظیر بھٹو کی حکومت کے خاتمے کے وقت صدر علام اسحاق خان نے اپنی ٹیلیویژن تقریر میں کچھ یوں اظہار کیا تھا ’شرپسند اور سماج دشمن عناصر ایوان صدر میں دندناتے پھر تے تھے‘۔

انیس سو سترہ کے روس میں زار کے محل میں بولشویکوں کے قبضے کے وقت شور شرابہ میکسم گورکی کو اچھا نہیں لگا تھا تھا اور پاکستان کی قومی اسمبلی میں جیالوں کے ’زندہ ہے بھٹو زندہ ہے‘ کے نعرے بظاہر کسی جنرل کو نہیں مخدوم امین فہیم کو ناگوار گزرے۔ شاید ان کی شاعرانہ طبعیت یا کسی اور وجہ سے۔

تاریخ اگر دنیا کے کسی اور حصے میں خود کو دہراتی یا نہ دہراتی ہو لیکن پیارے پاکستان میں ’یہ تو وہی جگہ ہے گزرے تھے ہم جہاں سے‘ بنی ہوئی ہے۔ ہر دس گیارہ سال کے بعد ایک بھٹو ختم کیا جاتا ہے، پھر اس کے نام پر حکومت آجاتی ہے، پھر حکومت ختم ہوتی ہے، پھر ایک دہائي کے جبر کے بعد پھر بھٹو کے نام پر حکومت۔ پھر وہی جبر پھر وہی کہانی۔ سچ تو یہ ہے کہ پاکستان میں عظیم قومی مفاہمت میں ضیاء اور بھٹو دونوں ہی اب ساتھ ساتھ زندہ ہیں۔

سنہ انیس سو چوہتر میں جب تب کے وزیر اعظم ذوالفقار علی بھٹو کو انکے ملتان کے دورے کے دوران پنجاب کے سابق آئی جی پولیس راؤ رشید احمد نے اطلاع دی تھی کہ احمد رضا قصوری کے والد نواب محمد احمد خان کا لاہور میں قتل ہوگیا ہے اور احمد رضا قصوری اپنے والد کے قتل کی ایف ائی آر ان کے ( ذوالفقار علی بھٹو کے) خلاف درج کروانا چاہتے ہیں تو بھٹونے کہا تھا جس طرح وہ بحيثیت فریادی کہتے ہیں اس طرح ہی انکی آیف آئی آر درج ہونی چاہیے۔ جب نواب محمد احمد خان کے قتل کی ایف آئی آر ان کے خلاف درج ہو چکی تو انہوں نے کہا تھا: ’پولیس نے اپنا فرض پورا کیا ہے۔‘

بھٹو خود لنکنز اِن کے بیرسٹر ایٹ لاء اور کرمنل قانون کے ایک منجھے ہوئے وکیل تھے۔ انہوں نے کراچي میں مشہور ڈنگو مل فرم سے اپنی پریکٹس کا آغاز کیا تھا اس دوران اور اس کے بعد آزادانہ طور پر بھی قتل کے کیسوں میں تب کی سندھ چیفس کورٹ (بعد میں سندھ بلوچستان ہائیکورٹ) سے کئي اپیلیں جیت چکے تھے۔ انکے موّکلوں میں جیکب آباد کا ایک غریب نوجوان بھی شامل تھا جسے قتل کے ایک مقدمے میں ذاتی دشمنی کی بنا پر پھنسایاگیا تھا۔ جس کی سزا کیخلاف اپیل بغیر کسی فیس لیے بھٹو نے سندھ چیفس کورٹ میں لڑ کر جیتی تھی اور اپنے بیٹے کی بریت پر اس نوجوان کی غریب ماں نے بھٹو کو بہت دعائيں دی تھی۔ بھٹو کچھ عصرے تک ایس ایم لاء کالج میں پڑھاتے بھی رہے تھے جہاں حسن علی عبد الرحمان اور طفیل علی عبد الرحمان جیسے ممتاز وکلاء بھی اساتذہ اور پرنسپلز رہے تھے۔ حسن علی عبدالرحماں شیری رحمان کے والد اور طفیل علی عبد الرحمان چچا تھے۔

ذوالفقار علی بھٹو جس وقت آئی جی پنجاب کو اپنے سیاسی مخالف نواب محمد احمد خان کے قتل کی ایف آئی آر ان کے اپنے ہی خلاف کاٹے جانے کا مشورہ بڑے اطمینان سے دے رہے ہونگے تب بھی بحیثیت ایک فوجداری وکیل کے انہیں اچھی طرح معلوم تھا کہ اس طرح کے کیسوں کا میرٹ کیا ہوتا ہے؟

ذوالفقار علی بھٹو کو راولپنڈی جیل میں پھانسی دے دی گئی (تصویر بشکریہ جنرل خالد محمود عارف)

جو بات ذوالفقار علی بھٹو نہیں جان سکے تھے وہ یہ تھی کہ اسی ایف آئی آر میں محسن کش جنرل ان کی منتخب حکومت کا دھڑن تختہ کر کے چیف جسٹسز انوار الحق اور مولوی مشتاق جیسے ججوں کے ذریعے ان کا ’عدالتی قتل‘ کروائيں گے، جس سے باقی ماندہ پاکستان اور اس کی عدلیہ مہذب دنیا کی نظروں میں خوار و رسوا ہوجائيں گے۔ جیسے حبیب جالب نے ان دنوں کہا تھا:
اک حشر بپا ہے گھر گھر میں
دم گھٹتا ہے گنبدِ بے در میں
اک شخص کے ہاتھوں مدت سے
رسوا ہے وطن دنیا بھر میں۔‘

بھٹو کی راولپنڈی جیل میں سکیورٹی کے انچارج کرنل رفیع الدین اپنی کتاب ’بھٹو کے آخری تین سو تئيس دن‘ میں لکھتے ہیں کہ ’آدھ گھنٹہ پھانسی پر لٹکائے جانے کے بعد اور جیل ڈاکٹر کے سرٹیفیکیٹ پر کہ ان کی موت واقع ہو چکی ہے ۔ بھٹو صاحب کی لاش کو رات دو بج کر پینتیس منٹ پر پھانسی کے پھندے سے جدا کر دیا گیا۔ ان کی میت کو غسل دیا گیا جس کا بندوبست وہیں کرلیاگیا تھا۔ ایک فوٹوگرافر نے جسے ایک انٹیلیجنس ایجنسی نے بھیجا تھا ضرورت کے مطابق بھٹو صاحب کے چند فوٹو اتارے۔ ان تصویروں سےحکام کا یہ شک دور ہوگیا کہ ان کے ختنے نہیں ہوئے تھے‘۔

کرنل رفیع کے اس مشاہدے سے پاکستانی ایجنسیوں کی بیہودگی کا اندازہ خود ہی لگا لیجیے کہ وہ وہیں کھڑے ہیں جب ہرمرد کی شلوار اتار کر اس کی ’مسلمانی‘ دیکھا کیے۔ جسٹس مولوی مشتاق نے بھٹو کی مسلمانی کا کھلی عدالت میں مذاق اڑایا اور ان کی ہر وقت ہزیمت کرتے رہے۔

بھٹو کی پھانسی سے ثابت ہو چکا ہے کہ ایک عدالتی قتل ہی تھا اور پاکستان پیپلزپارٹی کے نو منتخب وزیر اعظم یہ اعلان بھی کر چکے ہیں کہ پارلیمان سے ایک قرارداد کے ذریعے سابق وزیراعظم ذوالفقار علی بھٹو کے عدالتی قتل پر پاکستان کے عوام سے معافی مانگی جائے گي۔ لیکن بھٹو کا یہ عدالتی قتل پارلیمان نے تو نہیں کیا تھا (اور نہ ہی پارلیمان وجود رکھتی تھی سوائے سینیٹ کے )! بھٹو کے عدالتی قتل میں پاکستانی ریاست اور اس کے دو اہم ترین ستون فوج اور عدلیہ ملوث تھے۔ کیا وزیر اعظم پاکستانی ریاست کے سربراہ کی حییثیت میں ریٹائرڈ جنرل پرویز مشرف یا آنیوالے صدر، آرمی چیف اور چیف جسٹس سے یہ معافی منگوا سکتے ہیں۔ کیا وہ بھٹو کے مقدمہء قتل کو پھر سے کھلوا سکتے ہیں؟



BBCUrdu.com

کرّم: دھماکے کے بعد فرقہ وارانہ جھڑپیں عبدالحئی کاکڑ

کرّم: دھماکے کے بعد فرقہ وارانہ جھڑپیں

کرم ایجنسی(فائل فوٹو)
کرم ایجنسی میں فرقہ وارانہ جھڑپوں میں اب تک 250 افراد مارے گئےہیں
فرقہ وارانہ فسادات سے متاثرہ قبائلی علاقہ کرم ایجنسی میں ہونے والے ایک بم دھماکے اور اس کے بعد شروع ہونے والی فرقہ وارانہ لڑائی میں دو افراد ہلاک اور اٹھارہ کے زخمی ہونے کی اطلاعات موصول ہوئی ہیں۔

مقامی لوگوں نے بی بی سی کو بتایا ہے کہ سنیچر کی صبح گیارہ بجےفوج کی نگرانی میں مسافر گاڑیوں کا ایک قافلہ صدر مقام پاڑہ چنار سے پشاور جا رہا تھا کہ لوئر کرم ایجنسی کے علاقے خار کلے کے قریب سڑک پر نصب بم ایک دھماکے سے پھٹ گیا۔ ان کے بقول دھماکہ میں ایک شخص ہلاک جبکہ آٹھ زخمی ہوئے ہیں۔

عینی شاہدین کےمطابق اس واقعہ کے فوراً بعد خار کلے اور بلیش خیل گاؤں کے رہنے والوں کے درمیان فرقہ وارانہ جھڑپیں شروع ہوگئیں اور فریقین کے درمیان ہونے والی فائرنگ میں مزیدایک شخص ہلاک جبکہ تین دیگر زخمی ہوگئے۔

لوئر کرم ایجنسی کے اسٹنٹ پولٹیکل ایجنٹ مجیب خان نے رابطہ کرنے پر اس سلسلے میں کچھ بتانے سے انکار کردیا۔تاہم پاڑہ چنار ہسپتال کے ڈاکٹر اصغر نے بی بی سی کو بتایا کہ وہاں اب تک دو لاشیں اور اٹھارہ زخمی لائے گئے ہیں۔ ان کا یہ بھی کہنا تھا کہ تین زخمیوں کی حالت نازک ہے۔

دوسری طرف لڑائی رکوانے کے لیے جمعہ کو ضلع ہنگو سے پاڑہ چنار پہنچنے والے شیعہ اور سنی عمائدین پر مشتمل سولہ رکنی جرگے نے فریقین سے رابطے شروع کر دیے ہیں۔ جرگہ کے ایک رکن شاہ حسین خان نے بتایا کہ جرگہ میں شامل سنی رہنماؤں نے پاڑہ چنار میں جرگہ کے شیعہ ممبران سے رابطہ کر کے انہیں مقامی شیعہ رہنماؤں سے لڑائی روکنے کو کہا ہے جبکہ انہوں نے صدہ کے علاقہ میں موجود سنی عمائدین کیساتھ رابطہ قائم کرلیا ہے۔

کرم ایجنسی کا علاقہ گزشتہ ڈیڑھ سال سے فرقہ وارانہ فسادات کا مرکز رہا ہے اور اس دوران فریقین کے درمیان تین دفعہ ہونے والی لڑائی میں سرکاری اعداد و شمار کے مطابق تقریباً دو سو پچاس افراد ہلاک اور سینکڑوں زخمی ہوئے ہیں جبکہ مقامی افراد مرنے والوں کی تعداد ساڑھے تین سو سے زیادہ بتا رہے ہیں۔


BBCUrdu.com

حاملہ امریکی مرد: ایک ’معجزہ‘

حاملہ امریکی مرد: ایک ’معجزہ‘
تھامس بیٹیی
’میں ایک مستحکم مردانہ شناخت بھی رکھتا ہوں۔‘
امریکہ میں ایک مرد جس نے دس برس قبل اپنی جنس تبدیل کروائی تھی، اب حاملہ ہے اور اس کا کہنا ہے کہ اس کا یہ بچہ ایک معجزے سے کم نہیں۔

دس برس قبل جب تھامس بیٹیی ایک آپریشن کے ذریعے عورت سے مرد بنے تھے تو انہوں نے اپنے تولیدی نظام کو تبدیل نہیں کروایا تھا۔ اب تھامس، جو چونتیس برس کے ہیں، کا کہنا ہے کہ بچہ پیدا کرنا ان کا حق ہے۔

مسٹر تھامس کی بیوی نے ایک سپرم بینک سے حاصل کئے گئے سپرمز کو ایک سرنج کی مدد سے مسٹر تھامس کے جسم میں داخل کیا جس سے حمل ٹہرا۔
ان کے ڈاکٹر کا کہنا ہے کہ ان کا حمل بالکل نارمل ہے۔

تھامس کا کہنا ہے کہ بچہ پیدا کرنے کی خواہش زنانہ یا مردانہ نہیں بلکہ ایک انسانی خواہش ہے اور ’میں ایک مستحکم مردانہ شناخت بھی رکھتا ہوں۔‘

ان کا کہنا ہے کہ دس برس قبل جب انہوں نے جنس تبدیل کروانے کا آپریشن کروایا تھا تو اس وقت اپنے تولیدی نظام کو برقرار رکھا تھا کیونکہ وہ ایک دن بچہ پیدا کرنا چاہتے تھے۔

مسٹر تھامس جو پچھلے پانچ برس سے اپنی بیوی نینسی کے ساتھ رہتے ہیں، کا کہنا تھا کہ بچے کی پیدائش کے بعد گھر میں ماں اور باپ کا کردار تبدیل نہیں ہوگا اور وہ باپ ہی کا کردار ادا کریں گے۔



BBCUrdu.com

’صفدر ھمٰدانی۔۔ لندن : سابق وزیسابق وزیر اعظم ذوالفقار علی بھٹو کو آج علی الصبح راولپنڈی جیل میں پھانسی دے دی گئی۔�

’سابق وزیر اعظم ذوالفقار علی بھٹو کو آج علی الصبح راولپنڈی جیل میں پھانسی دے دی گئی۔‘



اپریل کو موسم بہار کا مہینہ کہا جاتا ہے لیکن اسی اپریل میں خون رنگ پھول بھی شاخوں پر جھول جاتے ہیں۔فیض احمد فیض نے بھی جب یہ کہا تھا کہ، ’پھول کھلتے ہیں ان مہینوں میں‘۔ تو نہ جانے انکے ذہن میں یہ پھول بھی تھا کہ نہیں کہ جسے ایک آمر مطلق جنرل نے اپنی انا کی شاخ پر ایسے کھلا دیا تھا کہ آج اسکی خوشبو جمہوریت اور آمریت دشمن بستیوں میں پھیلی ہوئی ہے۔

ذوالفقار علی بھٹو سے ہماری عمر کے لوگوں کی محبت اور عقیدت ان کے اس نظریے کی وجہ سے تھی کہ جس کا مقصد حکومت عوام کی اور عوام کے لیئے قائم کرنا اور ان کے منہہ میں زبان دینا تھی۔

جنرل محمد ایوب خان ملک کے دوسرے صدر تھے جو 11سال اس منصب پرفائز رہے ۔انہوں نے 27 جنوری 1958کو صدر کا عہدہ سنبھالااور 25 مارچ 1969کو اقتدار جنرل یحیْ خان کے سپرد کردیا.صدر جنرل یحیْ خان نے سقوط ڈھاکہ کے 4 روز بعد20 دسمبر 1971 کو اقتدار چھوڑ دیا اور اس طرح پاکستان پیپلز پارٹی کے چیرمین اور سابق وزیرخارجہ ذوالفقار علی بھٹو ملک کے چوتھے صدر بنے۔

1968اور1969میں جب ایوب خان اور یحیٰ خان کے خلاف بھٹو صاحب کی تحریک چل رہی تھی تو میں اسوقت لاہور کے ایف سی کالج میں تعلیم حاصل کر رہا تھا اور یہ وہ کالج تھا جس کے طلبانے کبھی کسی تحریک یا ہڑتال یا مظاہرے میں حصہ نہیں لیا تھا۔

یہ پہلا موقع تھا کہ ایف سی کالج لاہور کے طلبا نے ہڑتالوں اور مظاہروں میں بہت بھر پور طریقے سےحصہ لیا اور صورت حال اس درجہ خراب ہوئی کہ جنرل شیر علی نے ایف سی کالج سے ملحقہ نہر پر باقاعدہ توپیں لگوا دیں کہ طلبا کالج سے نکل نہ سکیں۔

کالج کی انتظامیہ بھی یہی چاہتی تھی کی طلبا باہر نہ جائیں لیکن ہم سب دوست جن میں سید زادہ انجم انور،جمیل الدین راٹھور،طارق چوہدری،راجہ اعجاز اللہ،ندیم افضل اور دیگر ساتھی شامل تھے ہم نے ہیلی کالج آف کامرس کے طالب علم رہنما جہانگیر بدر اور گورنمنٹ کالج کے ثمر خان سے یہ وعدہ کر رکھا تھا کہ ہم جلوس لیکر ہر طرح مال روڈ تک پہنچیں گے اور پھر یونہی ہوا کہ ہم نے طے کیا کہ نہر کے راستے جانے کی بجائے گلبرگ کی طرف سے جایا جائے۔

اسی دوران نیو کیمپس سے نکلنے والا جلوس بھی ایف سی کالج کے قریب پہنچ گیا لیکن پولیس نے سخت لاٹھی چارج اور آنسو گیس پھینک کر جلوس کو منتشر کر دیا تا ہم نیو کیمپس کے طلبا بھی ٹولیوں میں تقسیم ہو کر کسی نہ کسی طرح مال روڈ پر پہنچ گئے اور اسی طرح ہم سب ایف سی کالج سے چھوٹی چھوٹی ٹولیوں میں بکھر کر مال روڈ پہنچے اور ایم اے او کالج سے افتخار فتنہ کی قیادت میں طلبا یہاں پہنچے جہاں جہانگیر بدر کی قیادت میں زبردست جلوس نکلا جس نے انتظامیہ کی نیندیں اڑا دیں اور پولیس نے ہر طرح سے مظاہرین کومنتشر کرنے کا تہیہ کر لیا۔

اسی دوران ثمر خان اور چند دیگر ساتھیوں نے مال روڈ پر واقع ‘‘راجہ وائن‘‘ کی دوکان کو آگ لگا دی تو پولیس نے بیدردی سے طلبا پر لاٹھی چارج کیا۔ مجھے اسوقت خدائی امداد کے طور پر معروف صحافی صالح ظافر نے اپنے ویسپا سکوٹر پر بٹھا کر وہاں سے نکالا اور اس طرح سے اس دن ہماری جان بچ گئی لیکن اگلے روز ہم میں سے بیشتر ساتھی مال روڈ پہنچنے سے پہلے ہی گرفتار کر لیئے گئے۔

ایف سی کالج کے ساتھیوں میں میرے علاوہ،جمیل الدین راٹھور،راجہ اعجاز اللہ اور کچھ دوسرے طلبا اور اسی طرح ہیلی کالج سے جہانگیر بدر اور گورنمنٹ کالج سے ثمر خان اور کچھ اور طلبا کو شمع سینماکے سامنے کیمپ جیل میں رکھا گیا لیکن جلدہی ذاتی مچلکوں پر رہائی مل گئی۔

میں نے کالج کے بعد صحافت میں ایم کرنے کے لیئے جب پنجاب یونیورسٹی میں داخلہ لیا تو اسوقت تک شعبہ صحافت پر جماعت اسلامی کی گرفت تھی اور شعبے کی صدر ڈاکٹر عبدالسلام خورشید کے علاوہ مرحوم وارث میر اور مسکین علی حجازی کے نظریات و خیالات بھی جماعت اسلامی سے مطابقت رکھتے تھے۔ علامہ علاؤ الدین صدیقی جامعہ پنجاب کے وائس چانسلر تھے اور شعبہ صحافت کے ترقی پسند استاد مہدی حسن کی نوکری اپنے ترقی پسندانہ خیالات کی وجہ سے معطل تھی۔ جامعہ پنجاب میں بائیں بازو کے طلبا کی قیادت اس وقت راجہ انور کر رہے تھے۔لہٰذا ہم سب نے مل کر مہدی حسن صاحب کو بحال کروانے کی تحریک چلائی اوربالآخر انکی بحالی پر جب تقریب منعقد کرنے کے لیئے مرحوم حنیف رامے کو مدعو کیا تو صدرشعبہ ڈاکٹر عبدالسلام خورشید نے رخصت لے لی تا ہم طلبا کے مشیر ہونے کے ناطے وارث میر صاحب نے اس تقریب میں شرکت کی۔

یہی وہ زمانہ تھا جب پاک ٹی ہاؤس میں ہم نوجوان لکھاریوں کا گروپ خوب ابھرا تھا جن میں میرے علاوہ زاہد کامران،باصر کاظمی،حسن سلطان کاظمی،اختر کاظمی،شعیب بن عزیز،جاوید سید،راجہ اعجاز،محسن نقوی،اظہر سہیل،افضال سید،سلیم طاہر،ارشاد عرشی وغیرہ شامل تھے۔

پھر جب میں 1974میں ریڈیو پاکستان میں ملازم ہوا تو اپنے ترقی پسندانہ خیالات و نظریات کی وجہ سے ہمیشہ مشکلات کا شکار رہا۔ یہاں بھی ایسے قلم کار ساتھی میسر آئے جنہوں نے اس آتش کو اور بھڑکایا جن میں اقبال فہیم جوزی،مرحومہ شائستہ حبیب،نسرین انجم بھٹی،ستار سید،افضال بیلا خاص طور پر نمایاں تھے۔

اسوقت کے لاہور کے اسٹیشن ڈائریکٹر سلیم گیلانی یوں تو اپنے نظریات میں دائیں بازو کے فرد تھے لیکن ابن الوقتی کے فارمولے سے خوب آشنا ہونے کے باعث انہوں نے مزدور اور کسانوں کے لیے نغمات لکھ کر خود کو بائیں بازو اور ترقی پسند حلقوں میں بھی متعارف کروا لیا تھا لیکن جب آمر مطلق جنرل ضیاء الحق نے 5جولائی 1977 کو وزیر اعظم ذوالفقار علی بھٹو کی حکومت کا تختہ الٹنے کے بعد ملک میں مارشل لاء نافذ کردیا تو اس رات ذوالفقار علی بھٹو کی آخری پریس کانفرنس اور جنرل ضیاالحق کی پہلی کانفرنس میں نے خود ریکارڈ کی تھی اور مارشل لا لگنے کی وجہ سے مجھے رات دفتر میں ہی رکنا پڑا اور مارشل لا کا سرکاری اعلان لاہور ریڈیو سے نشر کرنا پڑا۔

لاہور ریڈیو پر بیرونی تقریبات کی ریکارڈنگ کی ٹیم میں میرے علاوہ مرحوم عتیق اللہ شیخ، افضالبیلا،اقبال جوزی تھے اور ہمیں لوگ بھٹو صاحب کی تقاریر ریکارڈ کر کے نشر کیا کرتے تھے۔ ایسے میں جب بھٹو صاحب کی حکومت کا تختہ الٹا تو لاہور ریڈیو کے اسوقت کے اسٹیشن ڈائریکٹر سلیم گیلانی نے صدر دفتر اور مارشل لا انتظامیہ کو یہ کہہ کر کہ ہم پیپلز پارٹی کے لوگ ہیں ہمیں لاہور سے ٹرانسفر کروا دیا۔ میرا اور عتیق اللہ کا تبادلہ حیدر آباد ہوا اور اقبال جوزی شاید کراچی بھیجا گیا۔

میں نے طے کر لیا کہ حیدر آباد نہیں جاؤں گا اب جو تگ و دو شروع کی تو میری اہلیہ ماہ پارہ کے ایک رشتے کے چچا بریگیڈئر جرار حیدر اسوقت چیف انسپکٹر آف آرمامنٹ تھے اور مارشل لا ڈیوٹی پر تھے،

لہٰذا انکی مدد سے تبادلہ حیدر آباد کی بجائے ریڈیو پاکستان کے اسٹیشن راولپنڈی تھری پر ہو گیاجو ریڈیو تراڑ کھل تھا جہاں اسوقت ہمارے اسٹیشن ڈائریکٹر محمد عمر،پروگرام مینجر بشیر زیدی اسیر اور ترقی پنسد دوستوں میں طاؤس بانہالی،بشیر صرفی ،احمد ظفر اور فقیر حیسن ساحر شامل تھے۔

یہ ریڈیو تراڑ کھل پشاور روڈ پر سپریم کورٹ کی اس عمارت کے قریب تھا جہاں بھٹو صاحب پر قتل کا مقدمہ چل رہا تھا۔ یہاں بھی ایک عجیب واقعہ ہوا جو ہماری انٹیلی جنس ایجنسیوں کی نا اہلی کی ایک سچی کہانی ہے۔

ہوا یوں کے قائد اعظم یونیورسٹی کے میرے ایک ہمنام سٹوڈنٹ لیڈر بھی اسوقت راولپنڈی میں تھے اور فلش مین ہوٹل میں بھٹو صاحب کے وکیل یحییٰ بختیار سے ملا بھی کرتے تھے اور مقدمے کی سماعت سننے سپریم کورٹ بھی جایا کرتے تھے لیکن خفیہ والے ساری رپورٹ تو انکی لکھتے لیکن گاڑی کا نمبر میرا لکھ دیتے تھے۔
میرے ایک کالج فیلو اور بہت اچھے دوست سید زادہ انجم انور ان دنوں ‘‘دلائی کیمپ‘‘ سے تبدیل ہو کر راولپنڈی تعینات ہوئے تو انکے خفیہ محکمے نے انہیں پہلا کام یہ سونپا کہ ‘‘صفدر ھمدانی ‘‘ کو اٹھایا جائے۔

سید زادہ نے جب فائل دیکھی تو وہ میرے پاس تراڑکھل ریڈیو آئے اور باتوں باتوں میں اس کا تذکرہ کیا اور وہ فائل بھی دکھائی جو انہیں کے محکمے کے ‘‘فدویوں‘‘ نے تیار کی تھی۔ وہ تو میری قسمت اچھی تھی کہ میں اس ایک غلطی پر بچ گیاکہ فدوی نے ہر بار فائل میں لکھا تھا‘‘صفدر ھمدانی،سٹوڈنٹ لیڈر ریڈیو پاکستان‘‘

میرا قیام لالہ زار میں تھا جہاں میرے قریب ہی پی ٹی وی کے شعبہ خبر کے ایڈیٹر مرحوم خالد محمود ربانی بھی رہتے تھے جو اکثر رات کو ٹی وی سے واپسی پر میرے ہاں آ جاتےتھے اور ہم دیر تک حالات حاضرہ پر گفتگو کیا کرتے تھے۔

میری اہلیہ ماہ پارہ ان دنوں پی ٹی وی راولپنڈی ،اسلام آباد میں نیوز کاسٹر تھیں اور اسلام آباد ہی کے ‘‘لوک ورثہ‘‘ میں محقق کے طور پر کام کر ہی تھیں اور 3 اور 4 اپریل 1979کو اپنی تحقیق کے سلسلے میں ایبٹ آباد میں تھیں۔ اسی 3 اور 4 اپریل 1979کی درمیانی رات جب خالد محمود ربانی کوئی رات دس بجے میرے ہاں آئے تو انہوں نے بتایا کہ آج علی الصبح بھٹو صاحب کو پھانسی ہو جائے گی۔ میں نے پوچھا کہ یہ کیا آپ کا قیافہ ہے یا کوئی یقینی بات۔ وہ بولے کہ نہیں ،دراصل آج دفتر میں کچھ احکامات ایسے ہیں جن سے یہی لگتا ہے کیونکہ اسلم کیمرہ مین کو بھی فوج نے بلوایا ہے۔(یہ وہی اسلم کیمرہ مین ہے جس نے بھٹو صاحب کے تمام آخری لمحات کی فلم بنائی تھی جسے بعد میں آئی ایس پی آر میں ضائع کر دیا گیا تھا)

چار اپریل کی صبح کوئی چار بجے کے قریب میں اور خالد محمود ربانی جب راولپنڈی جیل کی طرف گئے تو فضا یوم عاشور کی طرح سوگوار تھی لیکن مردہ مردہ سی فضا کسی کے قتل کی خبر دے رہی تھی تا ہم بظاہر جیل اور اسکے اطراف میں کسی قسم کی کوئی غیر معمولی صورت حال نہیں تھی۔

مجھے خالد محمود ربانی کی اطلاع پر یقین نہیں تھا لیکن وہ خود اس خبر پر مصر تھے۔ گھر واپس آکر ہم دونوں سو نہ سکے تا آنکہ ریڈیو پاکستان کی صبح 6 بجے کی خبروں میں یہ خبر حمید اختر نے پڑھی۔خبروں کے پورے بلیٹن کے آخر میں مختصر سی خبر یوں تھی کہ ’سابق وزیر اعظم ذوالفقار علی بھٹو کو آج علی الصبح راولپنڈی جیل میں پھانسی دے دی گئی۔‘سارے ملک کی فضا سوگوار تھی، دفتر میں طاوس بانہالی،احمد ظفر،بشیر زیدی،محمد عمر سب ایک دوسرے سے مل کر رورہے تھے۔
میں نے اس دن دو غزلیں لکھی تھیں۔ ایک کچھ اس طرح تھی۔
پتہ ہواؤں سے پوچھے کی فاختہ کس کا
چلے گا میرے توسط سے سلسلہ کس کا
۔۔۔۔۔
جہاں پہ کل ابابیلوں نے سنگ پھینکے تھے
لگا ہے آج وہیں پر مجسمہ کس کا
دوسری غزل تھی،
نازک ہے بہت وقت ہواؤں کو بتا دو
کاغذ پہ لکھی آیتیں پانی میں جلا دو
۔۔۔۔۔
ہم بخت جلے لوگوں کے تاریک گھروں میں
بس ایک ضیا ہے اسے سولی پہ چڑھا دو

ماہ پارہ کو اسی شام ایبٹ آباد سے واپس آنا تھا لیکن دوپہر سے ہی پی ٹی وی کے ڈپٹی کنٹرولر حبیب اللہ فاروقی کا باربار فون آ رہا تھا کہ کیا وہ یہ خبر پڑھ سکیں گی۔ میں نے کسی نہ کسی طرح ماہ پارہ سے رابطہ کر کے انہیں یہ اطلاع دی۔ پیشہ وارانہ مہارت کے حامل لوگوں کا یہی کمال ہوتا ہے کہ وہ دل پر گزرنے والے حالات کو اپنے سامعین و ناظرین پر ظاہر نہیں ہونے دیتے اور اسی کمال مہارت کے ساتھ پی ٹی وی کے رات نوبجے کے خبر نامے میں یہ خبر ماہ پارہ اور خالد حمید نے پڑھی۔

اس روز پاکستان کے ان گنت گھروں میں چولہا نہیں جلا۔کتنے ہی لوگ اس خبر کو برداشت نہ کر سکے۔ ایک ان کہی دہشت تھی جو ہر طرف برس رہی تھی۔ جیسے گھر میں موت واقع ہونے پر بچے سہم جاتے ہیں۔

اسی پھانسی پر ادبی جریدے ‘‘فنون‘‘ میں اختر حسین جعفری کی نظم ’نوحہ‘ چھپی تھی جس نے حکومتی حلقوں میں ایک شور مچا دیا تھا اورآمر مطلق ضیا الحق نے اسی نظم کے مصرعے دہرا کے نام نہاد اور ظلم کا ساتھ دینے والے سرکار نواز اہل قلم کانفرنس میں ادیبوں کی خوب گت بنائی تھی۔
اختر حسین جعفری کی نظم ’نوحہ‘
اب نہیں ہوتیں دعائیں مستجاب
اب کسی ابجد سے زندانِ ستم کھلتے نہیں
سبز سجادوں پہ بیٹھی بیبیوں نے
جس قدر حرف عبادت یاد تھے
پو پھٹے تک انگلیوں پہ گن لیے
اور دیکھا رحل کے نیچے لہو ہے
شیشۂ محفوظ کی مٹی ہے سرخ
سطر مستحکم کے اندر بست و در باقی نہیں
ایلچی کیسے بلاد مصر سے
سوئے کنعاں آئے ہیں
اک جلوس بے تماشہ گلیوں بازاروں میں ہے
یا الہی، مرگِ یوسف کی خبر سچی نہ ہو
اب سمیٹو مشک و عنبر
ڈھانپ دو لوح و قلم
اشک پونچھو اور ردائیں نوک پا تک کھینچ لو
کچی آنکھوں سے جنازے دیکھنا اچھا نہیں


’سابق وزیر اعظم ذوالفقار علی بھٹو کو آج علی ال�

Tuesday, April 1, 2008

BBCUrdu.com کل کے مجرم، آج کے وزیر

کل کے مجرم، آج کے وزیر

مشرف اور گیلانی
صدر مشرف کے سب سے زیادہ ستائے ہوئے تو خود وزیرِ اعظم یوسف رضا گیلانی ہیں جنہیں پانچ برس تک جیل میں رکھا اور پھر بری کرنا پڑا
چوبیس رکنی وفاقی کابینہ کو ہر کوئی اپنے اپنے انداز میں دیکھ رہا ہے۔ کوئی گِن کے بتا رہا ہے کہ اس کابینہ میں ایک چوتھائی وزراء یا تو کشمیری النسل ہیں یا پھر سیّد۔ کوئی علاقائی سطح پر آنکڑے لگا کر بتا رہا ہے کہ کابینہ میں لاہور اور راولپنڈی کی نمائندگی باقی علاقوں کی نسبت بہت زیادہ ہے۔

لیکن ایک انگریزی اخبار نے بڑی عرق ریزی سے کی گئی تحقیق سے ثابت کیا ہے کہ کابینہ میں کوئی شائد ہی کوئی ایسا وزیر ہو جس نے صدر مشرف کے نو سالہ دور میں کوئی مقدمہ، جرمانہ، قید یا تشدد نہ بھگتا ہو۔

اخبار دی نیوز کی رپورٹ کے مطابق صدر مشرف کے سب سے زیادہ ستائے ہوئے تو خود وزیرِ اعظم یوسف رضا گیلانی ہیں جنہیں بطور سپیکر قومی اسمبلی ناجائز تقرریوں کی پاداش میں مشرف حکومت نے پانچ برس تک جیل میں رکھا اور پھر بری کرنا پڑا۔

آج گیلانی کابینہ کے جن وزرا نے حلف اٹھایا ان میں وزیرِ نجکاری و سرمایہ کاری و جہاز رانی سید نوید قمر نے مشرف دور میں ایک برس سے زائد قید بھگتی ہے۔ ان پر الزام تھا کہ انہوں نے بینظیر حکومت کے دوسرے دور میں نجکاری کے عمل میں بے قاعدگی کی تھی۔

پانی و بجلی کے وزیر راجہ پرویز اشرف نے آصف زرداری کے خلاف نیب میں چلنے والے ایک مقدمے میں بطور ضمانت دس لاکھ روپے مالیت املاک کے کاغذات جمع کروائے۔ جنہیں نیب نے ضبط کرلیا۔

چوہدری نثار علی خان
مشرف حکومت نے بلا کسی فردِ جرم کے ڈیڑھ برس تک قید میں رکھا

محنت و افرادی قوت کے وزیر خورشید شاہ کے خلاف نیب میں کئی کیس دائر کئےگئے لیکن کوئی مقدمہ ثابت نہ ہوسکا۔ وزیرِ دفاع چودھری احمد مختار کو نیب نے چاول کی فروخت کے ایک مقدمے میں سترہ ماہ قید رکھا لیکن مقدمہ ثابت نہ ہوسکا۔

کابینہ کے سینئر وزیر برائے مواصلات و خوراک و زراعت چوہدری نثار علی خان کو مشرف حکومت نے بلا کسی فردِ جرم کے ڈیڑھ برس تک قید میں رکھا۔ وزیرِ خزانہ اسحاق ڈار کو مشرف حکومت نےسترہ ماہ تک اٹک کے قلعے اور پھر گھر پر نظربند رکھا اور انہیں شریف خاندان کی جلاوطنی کے بعد چھوڑا گیا۔

اسی طرح وزیرِ تعلیم احسن اقبال اور وزیر برائے امورِ خواتین تہمینہ دولتانہ کو اگرچہ مقدمات کا سامنا نہیں کرنا پڑا لیکن مشرف مخالف مظاہروں کے دوران دونوں اکثر تشدد کا نشانہ بنتے رہے۔ جبکہ ہائر ایجوکیشن کمیشن نے احسن اقبال کی جانب سے یونیورسٹی قائم کرنے کے اجازت نامے کی فائل کو مسلسل دبائے رکھا۔

خواجہ محمد آصف کو نیب نے ایک مقدمے میں ایک برس سے زائد عرصے تک لاہور اور اٹک میں قید رکھا اور جب مقدمہ ثابت نہ ہوسکا تو نیب کے سربراہ نے ان سے معذرت کی۔

وزیرِ ریلوے سردار مہتاب عباسی کو گندم کی غیر قانونی نقل وحمل کا ایک مقدمہ بھگتنا پڑا۔ جس سے وہ بعد ازاں بری ہوگئے۔ وزیرِ پٹرولیم و قدرتی وسائل خواجہ محمد آصف کو نیب نے ایک مقدمے میں ایک برس سے زائد عرصے تک لاہور اور اٹک میں قید رکھا اور جب مقدمہ ثابت نہ ہوسکا تو نیب کے سربراہ نے ان سے معذرت کی۔

دفاعی پیداوار کے وزیر رانا تنویر حسین بھی آٹھ ماہ تک جیل میں رہے اور پھر بری ہوگئے۔ جبکہ وزیرِ تجارت شاھد خاقان عباسی نے مشرف طیارہ ہائی جیکنگ کیس میں سترہ ماہ کی قید کاٹی۔

وزیرِ امورِ نوجوانان خواجہ سعد رفیق نے مشرف دور میں متعدد مرتبہ جیل کی ہوا کھائی۔ ایک مرتبہ تو انہیں اس لئے گرفتار کیا گیا کہ انہوں نے ڈنمارک کے اخبارات میں شائع ہونے والے اشتعال انگیز مذہبی کارٹونوں کے خلاف مظاہرے میں حصہ لیا تھا۔

اور آج صدر مشرف کو اپنے ہی دور میں ستائے ہوئے ان لوگوں سے حلف لینا پڑ گ

BBCUrdu.com

ڈان اخبار اداریہ: ’کرم کے حالات پر قابو نہ پایا گیا تو فرقہ وارانہ تنازعات ملحقہ اضلاع میں پھیل سکتے ہیں‘

خیبرپختونخوا کے قبائلی ضلع کرم میں گزشتہ چند ماہ سے صورت حال عدم استحکام کا شکار ہے، ایسے میں جمعرات کو پیش آنے والا ہولناک واقعہ حیران کُن...