Tuesday, November 18, 2008

shafiqueahmed110.com - ضیا الحق نے شیعہ سنی فسادات کرائے سیاستدانوں

ضیا الحق نے شیعہ سنی فسادات کرائے سیاستدانوں نے عقل نہ کی تو فوج پھر آجائے گی: ائر مارشل (ر) اصغع خان
جمعرات اکتوبر 30, 2008
اسلام آباد( زیر نگرانی: خوشنود علی خان، رپورٹ: عبدالحمید تبسم، قاسم نواز، عمر ریاض عباسی، فوٹوگرافر: شیخ حبیب) میثاق مدینہ ایک سیکولر دستاویز تھی جس پر مذہب کے ماننے والے کو اپنے مذہب پر چلنے کی اجازت تھی، بھٹو کیخلاف چلنے والی تحریک نظام مصطفیٰ کیلئے نہیں بلکہ انتخابات میں ہونیوالی دھاندلیوں کیخلاف تھی، سیاست کا نام عوام کو بے وقوف بنانا ہے، سیاستدان چور، عیاش اور بے ایمان ہیں۔ انہوں نے اپنی بداعمالیاں نہ چھوڑیں تو فوج تیار ہے وہ پھر کسی بھی وقت آسکتی ہے۔ لوگ حکمرانوں سے تنگ ہیں عوام انہیں ویلکم کہیں گے۔ ان خیالات کا اظہار سابق ائیرمارشل اصغر خان نے ’’جناح‘‘ کو خصوصی انٹرویو دیتے ہوئے کیا۔ اصغر خان نے کہا کہ فوج کا یہ کام نہیں کہ الیکشن میں دھاندلی کرے یا کرائے، میں نے سپریم کورٹ میں بھی استدعا کی تھی کہ فوج کو ایسا کوئی حکم نہیں ماننا چاہئے تھا اور آج بھی میں یہی مشورہ دیتا ہوں کہ خلاف آئین اور قانون فوج کو کوئی حکم نہیں ماننا چاہئے کیونکہ وہ لافل کمانڈ کے تحت ہوتی ہے انہوں نے کہا کہ جرمنی میں ایک فوجی نے بوڑھی عورت کو گولی ماری جس پر عدالت نے حکم دیا تھا کہ حکومت کے غیر قانونی حکم کے باوجود حکم نہ مانے۔ آج بھی میں کہتا ہوں کہ فوج غیر قانونی حکم نہ مانے جنرل ضیاء الحق نے مجھے کورٹ مارشل کرنے کی دھمکی دی تو میں نے کہا کہ کر لو، آج بھی میں اپنے اس قول پر ثابت قدم ہوں کہ غیر قانونی حکم کسی کا نہ مانا جائے۔ انہوں نے کہا کہ دنیا کی 2 سے تین ہزار سالہ تاریخ میں مشرقی پاکستان واحد مثال ہے جس میں اکثریت نے اقلیت پر گولیاں چلائیں پیپلزپارٹی کی مخالف پارٹیوں کو تشدد کا نشانہ بنایا گیا ملتان میں مجھے پتھر مارے گئے جب میں نے مطالبہ کیا کہ بنگالیوں پر فائر نہ کرو تو مجھے بنگالیوں کا ایجنٹ کہا گیا انہوں نے کہا کہ پچاس ساٹھ سال لوگوں کی تاریخ میں بہت لمبا عرصہ نہیں ہوتا تاہم ہم نے اتنی غلطیاں کی ہیں سیاست میں بے وقوف داخل ہو چکے ہیں خدا کرے یہ ملک چلے ، اگر قوم نے عقل سے کام لیا تو یہ بچ جائیں گے تاہم موجودہ آثار ایسے نہیں ہیں کہ بچ جائیں ایک سوال کے جواب میں انہوں نے کہا کہ ذوالفقار علی بھٹو کیخلاف چلائی جانیوالی تحریک نظام مصطفیٰ کیلئے نہیں تھی بلکہ 77 ء کے الیکشن میں دھاندلیوں کیخلاف احتجاج تھی جس میں ہمارے ساتھ ولی خان اور بزنجو بھی شامل تھے ہم نے کبھی نظام مصطفیٰ کا نعرہ نہیں لگایا تاہم اس میں مولوی بھی شامل تھے وہ اچھے لوگ ہیں ساتھ ملنا بری بات نہیں تاہم کسی کو کوئی نعرہ لگانے سے روکا بھی نہیں جا سکتا نظام مصطفیٰ نعرہ تھا منشور نہ تھا انہوں نے کہا کہ مدینہ کا نظام سیکولر تھا اور میثاق مدینہ ایک سیکولر دستاویز تھی جس میں ہر ایک کو اپنے مذہب پر چلنے کی اجازت تھی انہوں نے مثال دیتے ہوئے کہا کہ 77ء کے انتخابات میں وزیراعظم اور وزیراعلیٰ کیخلاف کوئی الیکشن میں کھڑا نہ ہو سکتا تھا جو ایسا کرتا تھا گرفتار کر لیا جاتا تھا یہی وجہ ہے کہ ہمارا ایک ہی پوائنٹ تھا کہ دوبارہ الیکشن کرائے جائیں اور تمام پارٹیاں الیکشن کیلئے اکٹھی تھیں۔ کیونکہ الیکشن فراڈ تھے انہوں نے کہا کہ کوہالہ میں میں نے خطاب کرتے ہوئے لوگوں کو جذبہ دلانے کیلئے بھٹو کو پھانسی دینے کی بات کی تھی بھٹو کو پھانسی جہاں ملنی تھی مل گئی تاہم میرے خطاب کے بعد پھر تحریک چل پڑی، میری بھٹو سے دشمنی نہ تھی اصغر خان نے کہا کہ جب حالات خراب ہوتے ہیں تو وردیوں میں فوجی اچھے لگتے ہیں لوگ توقع کرتے ہیں لیکن اس ملک کا ستیاناس ہو گیا ہے جمہوریت کا نام لینے والوں اور سیاستدانوں کی حماقتوں نے حالات خراب کر دئیے ہیں سیاسی جماعتیں جب ناکام ہو جاتی ہیں تو پھر قوم فوج کی طرف دیکھتی ہے اب بھی قوم فوج کی طرف دیکھے گی سیاستدان چور، عیاش اور بے ایمان ہیں انہوں نے کہا کہ اب بھی یہی امکان ہے کہ فوج آجائے گی وہ بطور ادارہ تیار رہتی ہے کیونکہ لوگ حکمرانوں سے تنگ ہوتے ہیں اس لئے وہ انہیں ویلکم کرتے ہیں۔ قوم کا پیسہ کھاتے ہیں کام نہیں کرتے۔ عیاشیاں کرتے ہیں یہ قوم کے محافظ ہیں ان حالات میں کوئی نہ کوئی جنرل تیار ہوتا ہے انہوں نے کہا کہ جب تک سیاسی جماعتیں کام نہیں کرتیں یہ حالات ایسے ہی رہیں گے انہوں نے کہا کہ سیاسی جماعتیں عوام کو بے وقوف بناتی ہیں وہ سچ بولیں تو شاید قوم ان پر یقین کرلے۔ انہوں نے کہا کہ اگر ہمارے ملک میں 50یا 60 سال تک فوج اقتدار میں نہ آتی تو شاید ہم کچھ سیکھ جاتے اصغر خان نے کہا کہ معزول چیف جسٹس افتخار محمد چوہدری نے اچھا سٹینڈ لیا ہے تاہم انہوں نے بھی پی سی او کے تحت حلف اٹھایا تھا یہ بڑی ہمت ہے اللہ تعالیٰ انہیں کامیاب کرے انہوں نے کہا کہ میں نے انہیں ایک خط لکھا تھا کہ آئی ایس آئی کے بارے میں کیس سماعت کریں لیکن اس کا کوئی جواب نہیں ملا انہوں نے بتایا کہ 75ء میں بھٹو نے وزیراعظم کی حیثیت سے آئی ایس آئی کا پولیٹیکل ونگ قائم کرنے کے احکامات جاری کئے تھے اصغر خان نے کہا کہ میں نے سابق چیف جسٹس سجاد علی شاہ کو خط لکھا تھا کہ آئی ایس آئی کیس بارے سوموٹو ایکشن لیں جب کیس شروع ہوا تو چیف جسٹس نے کہا کہ کیا آپ کا کوئی وکیل ہے تو میں نے جواب دیا کہ آپ کے پاس رسیدیں ہیں تو وہ ادھر ادھر دیکھنے لگے اسی دوران میں نے ایک وکیل کو دیکھا کہ وہ موجود ہیں وہ نامور مہنگے وکیل ہیں جب میں نے بات کی تو وہ کہنے لگے کہ میں پیش نہیں ہوں گا دوسرے دن میں نے دیکھا کہ اس وکیل کا نام بھی آئی ایس آئی کے کیس میں 35لاکھ وصول کرنیوالوں میں شامل ہے۔ اس کیس کی سماعت کے دوران دو تین چیف جسٹس آئے تاہم میں جسٹس افتخار کو داد دیتا ہوں وکلاء تحریک میں پیسے کے حوالے سے انہوں نے کہا کہ 77ء کی تحریک میں بھی ہم پر الزام لگا تھا کہ امریکہ سے پیسہ آرہا ہے یہ سب جھوٹ ہے یہی الزام وکلاء تحریک پر بھی لگایا گیا ہے۔ انہوں نے کاہ کہ پاکستان میں جہادی کلچر امریکہ نے متعارف کرایا تھا کیونکہ سابق صدر جنرل ضیاء الحق خلیفہ بننا چاہتے تھے اس دوران امریکہ سے پیسہ آرہا تھا اور یہ کلچر اسے تقویت دیتا تھا اب یہ کلچر ہمارے اور امریکہ کے سر پڑ گیا ہے اب صورتحال خطرناک ہو گئی ہے انہوں نے کہا کہ یہی وجہ ہے کہ قائداعظم نے 1947ء میں ان علاقوں کو آزاد علاقے قرار دیا تھا لیکن اس کے مقابلے میں افغانستان نے 1957ء میں اپنے قبائلی علاقوں کو حکومتی عملداری میں شامل کر لیا تھا لیکن ہم نے ان علاقوں کو آزاد ہی چھوڑ دیا انہوں نے کہا کہ ہم نے امریکی امداد کیلئے یہ سب کچھ کیا ہے۔ اصغر خان نے کہا کہ فرقہ واریت نے ملک کو بہت نقصان پہنچایا ہے کراچی میں شیعہ فرقے کے 100 ڈاکٹروں کو گولیوں کا نشانہ بنایا گیا اسی طرح کرم ایجنسی اور سکردو سمیت دیگر علاقوں میں بھی ایسے واقعات ہوئے ہیں جہاں سینکڑوں افراد کو قتل کیا گیا یہ سب قائداعظم کی اس سوچ سے ہٹنے کا نتیجہ ہے جس میں انہوں نے کہا تھا کہ سٹیٹ کے معاملات میں مذہب کو لانا غلطی ہے جنرل ضیاء الحق نے بھی سوچے سمجھے منصوبے کے تحت شیعہ سنی فسادات کروائے تھے۔ ایک سوال کے جواب میں انہوں نے کہا کہ سابق وزیراعظم ذوالفقار علی بھٹو سے میرے بہت اچھے تعلقات اور دوستی تھی جب میں پاکستان کی ائیرفورس کا سربراہ تھا تو وہ وزیر خارجہ تھے جب ایوب خان کابینہ سے استعفیٰ دیکر بھٹو قید ہوئے تو انہوں نے مجھ سے وعدہ لیا کہ آپ سیاست میں آجائیں میں نے انکار کیا لیکن یہ وعدہ کیا کہ اگر بھٹو کو گرفتار کیا گیا تو میں اس پر احتجاج کروں گا یہی وجہ ہے کہ میں نے بھٹو کی گرفتاری پر احتجاج کیا تو مجھے بھی گرفتار کر لیا گیا۔ اس طرح بھٹو رہا ہو گیا انہوں نے کہا کہ کیونکہ مجھے سیاست سے دلچسپی نہ تھی اس لئے میں کچھ عرصے کیلئے اس سے علیحدہ ہو گیا تاہم 6 سے6 ماہ تک میرا بھٹو کے ساتھ
shafiqueahmed110.com - ضیا الحق نے شیعہ سنی فسادات کرائے سیاستدانوں

shafiqueahmed110.com - امریکہ بھارت اور اسرائیل ہمارے خیر خواہ نہیں

امریکہ بھارت اور اسرائیل ہمارے خیر خواہ نہیں ہو سکتے: جھک کر سلام کرنیکی پالیسی ترک کرنا ہوگی: آغا مرتضی پویا
اتوار اکتوبر 5, 2008
اسلام آباد( انٹرویو: خوشنود علی خان، رپورٹ: قاسم نواز، تصاویر: خادم حسین) ڈالر اب دنیا بھر میں پٹ رہا ہے، اس کی پاور گیم ختم وہ رہی ہے اسرائیل کی جلد رسم قل ادا کی جائے گی طالبان کو مقامی افراد نے پہچان لیا ہے امریکہ ڈیڑھ لاکھ بھارتی فوج افغانستان میں لانا چاہتا ہے۔ حکومت اور فوج میں ہم آہنگی ہے واشنگٹن کیخلاف نفرت بڑھ رہی ہے سی آئی اے، را اور موساد کے مقتدر اسلامی پاکستان کے حامی نہیں، جھک جھک کر سلام کرنے کی پالیسی ترک کی جائے، گوربا چوف نے ہندوستان کو پاکستان پر حملہ کرنے پر وارننگ دی تھی ان خیالات کا اظہار معروف دانشور آغا مرتضیٰ پویا نے ’’جناح‘‘ کے چیف ایڈیٹر خوشنود علی خان کو خصوصی انٹرویو دیتے ہوئے کیا، انہوں نے کہا کہ طالبان تحریک کے عزائم ٹھیک نہ تھے خدا کا شکر ہے کہ مقامی افراد نے اب انہیں پہچان لیا ہے اور انہیں پسپائی پر مجبور کر دیا ہے۔ اب امریکہ بھی مجبوراً افغانیوں سے سمجھوتہ کرنا چاہتا ہے۔ انہوں نے کہا کہ بھارت کی اس علاقے سے پسپائی ہوئی ہے اس کے بعض مقامی شدت پسند جماعتوں کا رول بھی واضح ہو گیا ہے جو وہ پاکستان اور اسلام کیخلاف کردار ادا کر رہی تھیں۔ اب امریکی فیصلہ کر چکے ہیں کہ ملا عمر سے مذاکرات کئے جائیں۔ حامد کرزئی کی پیشکش کے جواب میں ملاعمر کے انکار کرنے کی وجہ یہ تھی کہ وہ کئی بار دھوکہ کھا چکے ہیں۔ اب لگ رہا ہے کہ اگلے چھ ماہ میں افغانستان کا مسئلہ شدت اختیار کر جائے گا اس لئے امریکہ اور اس کے حواری پاکستان پر پریشر بڑھا رہے ہیں لیکن امریکہ کو اب سیاسی اور فوجی سطح پر مزاحمت کا سامنا ہے جب آغا مرتضیٰ پویا سے خطے میں را، موساد اور سی آئی اے کے کردار کے حوالے سے سوال کیا گیا تو انہوں نے جواب دیا کہ امریکہ، بھارت اور اسرائیل اسلامی مقتدر پاکستان برداشت نہیں کر سکتے امریکہ خطے میں ہندوستان کی بالادستی چاہتا ہے اس حوالے سے امریکہ نے نہ صرف بھارت کیخلاف تمام الزامات واپس لے لئے ہیں بلکہ اسے بھارتی کردار پر کوئی اعتراض بھی نہیں۔ انہوں نے کہا کہ مجھے لگتا ہے کہ اس تمام گیم میں اسرائیل پٹ گیا ہے امریکہ مستقبل میں ہندوستان پر انحصار کرنا چاہتا ہے لیکن اس کی سب سے بڑی رکاوٹ پاکستان ہے جب تک پاکستان رام نہ ہوجائے یہ مقصد پورا نہیں ہو سکتا امریکہ ہمیں ایران اور چین سے دور کرکے ہندوستان کی گود میں بٹھانا چاہتا ہے اس کے بعد 25سے 30سالوں بعد ہندوستان بھی ہمیں چھوڑ جائے گا اب امریکہ کا منصوبہ ہے کہ وہ عراق اور افغانستان چھوڑ دے اور افغانستان میں ڈیڑھ لاکھ بھارتی فوج آجائے لیکن پاکستان کی مرضی کے بغیر یہ ممکن نہیں ہے اس موقع پر صدر آصف علی زرداری نے عجلت پسندی کی ہے اور اس مسئلے پر صدر مملکت کو امریکہ کو کسی قسم کی مراعات نہیں دینی چاہئیں۔ انہوں نے کہا کہ چین اپنے فیصلے خود کرتا ہے پچھلے 10 سے 30 برسوں کا اسے پاکستان کے حوالے سے تجربہ اچھا نہیں ہوا۔ وہ اب سوچتے ہیں کہ کیا پاکستانیوں کو پاکستان چاہئے یا نہیں 65ء اور 71ء میں بھی یہی ہوا تھا۔ ایک سوال کے جواب میں آغا مرتضیٰ پویا نے کہا کہ اب پاکستان اور اس کے حکمرانوں کو اسلامی تشخص پر اصرار کرنا چاہئے اور اسلامی بنیاد پر مبنی پالیسی اپنانی چاہئے اور جھک جھک کر سلام کرنے کی بھی پالیسی بدلنی چاہئے امریکہ، اسرائیل اور بھارت کے مقابلے میں اپنے حقوق سے دستبردار نہ ہوں، یہ پالیسی غلط ہے کہ فوراً ہی پالیسی بدل لی جائے۔ ہمیں اپنے اصولی موقف پر ڈٹ جانا چاہئے۔ کشمیر پر اپنا حق جتانا چاہئے، بھارت سے صرف اسی صورت دوستی ہو سکتی ہے جب وہ ہمارے حقوق تسلیم کرے۔ انہوں نے دونوں ملکوں کے درمیان ہونیوالے سی بی ایم ایس کو تابوت قرار دیتے ہوئے کہا کہ پاکستانی حکمرانوں نے امریکہ اور بھارت کے درمیان ہونیوالے سول نیوکلےئر معاہدے پر چھوٹا سا بھی اعتراض نہیں کیا۔ بلکہ اشارے بھی نہیں دئیے یہ پالیسی پاکستان کیخلاف ہے۔ روس کے حوالے سے سوال پر جواب دیتے ہوئے انہوں نے کہا کہ روس سے ہمارے تعلقات اچھے تھے جب تک سوویت یونین قائم تھا لیکن افغانستان میں روس کی دخل اندازی کے نتیجے میں بھی تعلقات اتنے برے نہ تھے روسی صدر گوربا چوف نے 1986ء میں پاکستان کو بھارت کے حملے سے بچایا تھا اور بھارت کو وارننگ دی تھی کہ وہ پاکستان کیخلاف جارحیت نہ کرے اس کے باوجود ہم روس سے اچھے تعلقات قائم نہ کر سکے۔ ہمیں روس کی قیادت کو باور کرانا چاہئے تھا کہ وہ ہمیں بھارت کی نگاہ سے نہ دیکھے۔ اسلام آباد اور ماسکو میں اچھے تعلقات ہیں جارجیا کے معاملے پر روس نے امریکہ کو آنکھیں دکھائی ہیں امریکہ نے نیٹو کے دستور کی خلاف ورزی کرتے ہوئے اسے ایشیا میں پھنسا دیا ہے جن میں عراق اور افغانستان شامل ہیں۔ ایران بارے سوال پر انہوں نے کہا کہ ایران پاکستان کے اچھے دوستوں میں شامل ہے وہ ہماری مجبوریوں کو سمجھتے ہیں ایرانی رہنما خامنائی نے موجودہ حالات میں بھی پاکستان کیلئے مثبت بیان دیا ہے انہوں نے کہا کہ اس وقت پاکستان میں حکومت اور فوج کے درمیان تضاد نہیں ہم آہنگی ہے تمام معاملات کنٹرول میں آجائیں گے تو ملک ترقی کرے گا انہوں نے کہا کہ امریکہ کیخلاف پاکستان میںآئے روز نفرت بڑھ رہی ہے انہوں نے کہا کہ امریکہ اور بھارت چین کیخلاف کارروائی نہیں کر سکتے اور ہندوستان تو سر بھی نہیں اٹھا سکتا دونوں ملکوں نے چین کیخلاف تمام کلیم بھی ختم کر دئیے ہیں۔ ان حالات میں چین دونوں سے اتحاد نہیں کر سکتا چین ہماری کمزوریوں کے باوجود ہم پر اعتماد کرتا ہے شنگھائی تعاون تنظیم میں روس اور چین کے اچھے تعلقات ہیں ۔ ایران مکمل ممبر ہے جبکہ بھارت اور پاکستان مبصرکی حیثیت سے شریک ہیں ان حالات میں امریکہ کسی قابل نہیں کہ وہ چین کو دھمکی دے سکے۔ اب امریکہ خود دیوالیہ ہو رہا ہے ویت نام کی جنگ کے بعد بھی امریکہ دیوالیہ ہو گیا تھا اب پھر 30 سے 35 سال بعد اسے خود جنگ لڑنی پڑ رہی ہے انہوں نے اسلامی دنیا بارے کہا کہ اسے اپنی کرنسی کا تعلق ڈالر سے توڑ لینا چاہئے جیسا کہ ایران نے اپنی بیرونی تجارت ڈالر کے بجائے یورو میں کر لی ہے۔ اب وینزویلا نے بھی ڈالر قبول کرنے سے انکار کر دیا ہے لیکن امریکیوں نے جاپان، چین اور مشرق وسطیٰ کی معیشت کو ڈالر کے شکنجے میں پھنسا لیا ہے انہوں نے دعویٰ کیا کہ ڈالر کی دھنس دھونس ختم ہو رہی ہے اور وہ اب پٹ رہا ہے اس کی پاور گیم ختم ہو رہی ہے آغا پویا نے پیشنگوئی کی کہ اگلے چھ ماہ فلسطین کی آزادی کے حوالے سے بہت اہم ہیں امریکی پالیسی اب فلسطینی دوستوں اور اسرائیلی دوستوں پر مشتمل ہو گی۔ اب اسرائیل میں بھی یہ شعور بیدار ہو رہا ہے کہ ان کا وجود غیر فطری ہے اور یہ ریاست اس قابل نہیں ہے کہ وہ اپنا وجود برقرار رکھ سکے۔ انہوں نے کہا کہ اگر 50لاکھ فلسطینی مہاجر اسرائیل واپس آجائیں تو یہودی خود بخود اقلیت میں تبدیل ہو جائیں گے اور کھیل ختم ہو جائے گا انہوں نے کہا کہ اسرائیل کی اگلے 3سے 6ماہ میں رسم قل ادا کی جائے گی۔ انہوں نے کہا کہ امریکہ کے سابق وزرائے خارجہ ہنری کسنجر، کولن پاول اور میڈیلین البراہٹ نے سی این این کے حالیہ پروگرام میں ان باتوں پر اتفاق کیا ہے کہ ایران سے غیر مشروط مذاکرات کرنے چاہئیں ایران کے ایٹمی پروگرام کو تسلیم کر لینا چاہئے اور اسرائیل کو سمجھا دیا جائے کہ وہ ایران کی مخالفت سے باز آجائے۔ انہوں نے کہا کہ حزب اللہ اور حماس کی فتح کے اثرات اب مرتب ہو رہے ہیں عرب ممالک جو حزب اللہ کو تنہا چھوڑ گئے تھے اب اسرائیل کے سامنے حزب اللہ اور حماس کے رہنماؤں کو دعوت دیکر بلاتے ہیں حماس کے رہنما خالد مشعل کو حال ہی میں سعودی عرب نے دعوت دی ہے اور میں نے بھی خالد مشعل سے ملاقات کی ہے اس طرح ایران کے سابق صدر ہاشم رفسنجانی نے بھی سعودی عرب کا دورہ کیا ہے جہاں خادم حرمین شریفین شاہ عبداللہ نے
shafiqueahmed110.com - امریکہ بھارت اور اسرائیل ہمارے خیر خواہ نہیں

shafiqueahmed110.com - امریکہ بھارت اور اسرائیل ہمارے خیر خواہ نہیں

امریکہ بھارت اور اسرائیل ہمارے خیر خواہ نہیں ہو سکتے: جھک کر سلام کرنیکی پالیسی ترک کرنا ہوگی: آغا مرتضی پویا
اتوار اکتوبر 5, 2008
اسلام آباد( انٹرویو: خوشنود علی خان، رپورٹ: قاسم نواز، تصاویر: خادم حسین) ڈالر اب دنیا بھر میں پٹ رہا ہے، اس کی پاور گیم ختم وہ رہی ہے اسرائیل کی جلد رسم قل ادا کی جائے گی طالبان کو مقامی افراد نے پہچان لیا ہے امریکہ ڈیڑھ لاکھ بھارتی فوج افغانستان میں لانا چاہتا ہے۔ حکومت اور فوج میں ہم آہنگی ہے واشنگٹن کیخلاف نفرت بڑھ رہی ہے سی آئی اے، را اور موساد کے مقتدر اسلامی پاکستان کے حامی نہیں، جھک جھک کر سلام کرنے کی پالیسی ترک کی جائے، گوربا چوف نے ہندوستان کو پاکستان پر حملہ کرنے پر وارننگ دی تھی ان خیالات کا اظہار معروف دانشور آغا مرتضیٰ پویا نے ’’جناح‘‘ کے چیف ایڈیٹر خوشنود علی خان کو خصوصی انٹرویو دیتے ہوئے کیا، انہوں نے کہا کہ طالبان تحریک کے عزائم ٹھیک نہ تھے خدا کا شکر ہے کہ مقامی افراد نے اب انہیں پہچان لیا ہے اور انہیں پسپائی پر مجبور کر دیا ہے۔ اب امریکہ بھی مجبوراً افغانیوں سے سمجھوتہ کرنا چاہتا ہے۔ انہوں نے کہا کہ بھارت کی اس علاقے سے پسپائی ہوئی ہے اس کے بعض مقامی شدت پسند جماعتوں کا رول بھی واضح ہو گیا ہے جو وہ پاکستان اور اسلام کیخلاف کردار ادا کر رہی تھیں۔ اب امریکی فیصلہ کر چکے ہیں کہ ملا عمر سے مذاکرات کئے جائیں۔ حامد کرزئی کی پیشکش کے جواب میں ملاعمر کے انکار کرنے کی وجہ یہ تھی کہ وہ کئی بار دھوکہ کھا چکے ہیں۔ اب لگ رہا ہے کہ اگلے چھ ماہ میں افغانستان کا مسئلہ شدت اختیار کر جائے گا اس لئے امریکہ اور اس کے حواری پاکستان پر پریشر بڑھا رہے ہیں لیکن امریکہ کو اب سیاسی اور فوجی سطح پر مزاحمت کا سامنا ہے جب آغا مرتضیٰ پویا سے خطے میں را، موساد اور سی آئی اے کے کردار کے حوالے سے سوال کیا گیا تو انہوں نے جواب دیا کہ امریکہ، بھارت اور اسرائیل اسلامی مقتدر پاکستان برداشت نہیں کر سکتے امریکہ خطے میں ہندوستان کی بالادستی چاہتا ہے اس حوالے سے امریکہ نے نہ صرف بھارت کیخلاف تمام الزامات واپس لے لئے ہیں بلکہ اسے بھارتی کردار پر کوئی اعتراض بھی نہیں۔ انہوں نے کہا کہ مجھے لگتا ہے کہ اس تمام گیم میں اسرائیل پٹ گیا ہے امریکہ مستقبل میں ہندوستان پر انحصار کرنا چاہتا ہے لیکن اس کی سب سے بڑی رکاوٹ پاکستان ہے جب تک پاکستان رام نہ ہوجائے یہ مقصد پورا نہیں ہو سکتا امریکہ ہمیں ایران اور چین سے دور کرکے ہندوستان کی گود میں بٹھانا چاہتا ہے اس کے بعد 25سے 30سالوں بعد ہندوستان بھی ہمیں چھوڑ جائے گا اب امریکہ کا منصوبہ ہے کہ وہ عراق اور افغانستان چھوڑ دے اور افغانستان میں ڈیڑھ لاکھ بھارتی فوج آجائے لیکن پاکستان کی مرضی کے بغیر یہ ممکن نہیں ہے اس موقع پر صدر آصف علی زرداری نے عجلت پسندی کی ہے اور اس مسئلے پر صدر مملکت کو امریکہ کو کسی قسم کی مراعات نہیں دینی چاہئیں۔ انہوں نے کہا کہ چین اپنے فیصلے خود کرتا ہے پچھلے 10 سے 30 برسوں کا اسے پاکستان کے حوالے سے تجربہ اچھا نہیں ہوا۔ وہ اب سوچتے ہیں کہ کیا پاکستانیوں کو پاکستان چاہئے یا نہیں 65ء اور 71ء میں بھی یہی ہوا تھا۔ ایک سوال کے جواب میں آغا مرتضیٰ پویا نے کہا کہ اب پاکستان اور اس کے حکمرانوں کو اسلامی تشخص پر اصرار کرنا چاہئے اور اسلامی بنیاد پر مبنی پالیسی اپنانی چاہئے اور جھک جھک کر سلام کرنے کی بھی پالیسی بدلنی چاہئے امریکہ، اسرائیل اور بھارت کے مقابلے میں اپنے حقوق سے دستبردار نہ ہوں، یہ پالیسی غلط ہے کہ فوراً ہی پالیسی بدل لی جائے۔ ہمیں اپنے اصولی موقف پر ڈٹ جانا چاہئے۔ کشمیر پر اپنا حق جتانا چاہئے، بھارت سے صرف اسی صورت دوستی ہو سکتی ہے جب وہ ہمارے حقوق تسلیم کرے۔ انہوں نے دونوں ملکوں کے درمیان ہونیوالے سی بی ایم ایس کو تابوت قرار دیتے ہوئے کہا کہ پاکستانی حکمرانوں نے امریکہ اور بھارت کے درمیان ہونیوالے سول نیوکلےئر معاہدے پر چھوٹا سا بھی اعتراض نہیں کیا۔ بلکہ اشارے بھی نہیں دئیے یہ پالیسی پاکستان کیخلاف ہے۔ روس کے حوالے سے سوال پر جواب دیتے ہوئے انہوں نے کہا کہ روس سے ہمارے تعلقات اچھے تھے جب تک سوویت یونین قائم تھا لیکن افغانستان میں روس کی دخل اندازی کے نتیجے میں بھی تعلقات اتنے برے نہ تھے روسی صدر گوربا چوف نے 1986ء میں پاکستان کو بھارت کے حملے سے بچایا تھا اور بھارت کو وارننگ دی تھی کہ وہ پاکستان کیخلاف جارحیت نہ کرے اس کے باوجود ہم روس سے اچھے تعلقات قائم نہ کر سکے۔ ہمیں روس کی قیادت کو باور کرانا چاہئے تھا کہ وہ ہمیں بھارت کی نگاہ سے نہ دیکھے۔ اسلام آباد اور ماسکو میں اچھے تعلقات ہیں جارجیا کے معاملے پر روس نے امریکہ کو آنکھیں دکھائی ہیں امریکہ نے نیٹو کے دستور کی خلاف ورزی کرتے ہوئے اسے ایشیا میں پھنسا دیا ہے جن میں عراق اور افغانستان شامل ہیں۔ ایران بارے سوال پر انہوں نے کہا کہ ایران پاکستان کے اچھے دوستوں میں شامل ہے وہ ہماری مجبوریوں کو سمجھتے ہیں ایرانی رہنما خامنائی نے موجودہ حالات میں بھی پاکستان کیلئے مثبت بیان دیا ہے انہوں نے کہا کہ اس وقت پاکستان میں حکومت اور فوج کے درمیان تضاد نہیں ہم آہنگی ہے تمام معاملات کنٹرول میں آجائیں گے تو ملک ترقی کرے گا انہوں نے کہا کہ امریکہ کیخلاف پاکستان میںآئے روز نفرت بڑھ رہی ہے انہوں نے کہا کہ امریکہ اور بھارت چین کیخلاف کارروائی نہیں کر سکتے اور ہندوستان تو سر بھی نہیں اٹھا سکتا دونوں ملکوں نے چین کیخلاف تمام کلیم بھی ختم کر دئیے ہیں۔ ان حالات میں چین دونوں سے اتحاد نہیں کر سکتا چین ہماری کمزوریوں کے باوجود ہم پر اعتماد کرتا ہے شنگھائی تعاون تنظیم میں روس اور چین کے اچھے تعلقات ہیں ۔ ایران مکمل ممبر ہے جبکہ بھارت اور پاکستان مبصرکی حیثیت سے شریک ہیں ان حالات میں امریکہ کسی قابل نہیں کہ وہ چین کو دھمکی دے سکے۔ اب امریکہ خود دیوالیہ ہو رہا ہے ویت نام کی جنگ کے بعد بھی امریکہ دیوالیہ ہو گیا تھا اب پھر 30 سے 35 سال بعد اسے خود جنگ لڑنی پڑ رہی ہے انہوں نے اسلامی دنیا بارے کہا کہ اسے اپنی کرنسی کا تعلق ڈالر سے توڑ لینا چاہئے جیسا کہ ایران نے اپنی بیرونی تجارت ڈالر کے بجائے یورو میں کر لی ہے۔ اب وینزویلا نے بھی ڈالر قبول کرنے سے انکار کر دیا ہے لیکن امریکیوں نے جاپان، چین اور مشرق وسطیٰ کی معیشت کو ڈالر کے شکنجے میں پھنسا لیا ہے انہوں نے دعویٰ کیا کہ ڈالر کی دھنس دھونس ختم ہو رہی ہے اور وہ اب پٹ رہا ہے اس کی پاور گیم ختم ہو رہی ہے آغا پویا نے پیشنگوئی کی کہ اگلے چھ ماہ فلسطین کی آزادی کے حوالے سے بہت اہم ہیں امریکی پالیسی اب فلسطینی دوستوں اور اسرائیلی دوستوں پر مشتمل ہو گی۔ اب اسرائیل میں بھی یہ شعور بیدار ہو رہا ہے کہ ان کا وجود غیر فطری ہے اور یہ ریاست اس قابل نہیں ہے کہ وہ اپنا وجود برقرار رکھ سکے۔ انہوں نے کہا کہ اگر 50لاکھ فلسطینی مہاجر اسرائیل واپس آجائیں تو یہودی خود بخود اقلیت میں تبدیل ہو جائیں گے اور کھیل ختم ہو جائے گا انہوں نے کہا کہ اسرائیل کی اگلے 3سے 6ماہ میں رسم قل ادا کی جائے گی۔ انہوں نے کہا کہ امریکہ کے سابق وزرائے خارجہ ہنری کسنجر، کولن پاول اور میڈیلین البراہٹ نے سی این این کے حالیہ پروگرام میں ان باتوں پر اتفاق کیا ہے کہ ایران سے غیر مشروط مذاکرات کرنے چاہئیں ایران کے ایٹمی پروگرام کو تسلیم کر لینا چاہئے اور اسرائیل کو سمجھا دیا جائے کہ وہ ایران کی مخالفت سے باز آجائے۔ انہوں نے کہا کہ حزب اللہ اور حماس کی فتح کے اثرات اب مرتب ہو رہے ہیں عرب ممالک جو حزب اللہ کو تنہا چھوڑ گئے تھے اب اسرائیل کے سامنے حزب اللہ اور حماس کے رہنماؤں کو دعوت دیکر بلاتے ہیں حماس کے رہنما خالد مشعل کو حال ہی میں سعودی عرب نے دعوت دی ہے اور میں نے بھی خالد مشعل سے ملاقات کی ہے اس طرح ایران کے سابق صدر ہاشم رفسنجانی نے بھی سعودی عرب کا دورہ کیا ہے جہاں خادم حرمین شریفین شاہ عبداللہ نے
shafiqueahmed110.com - امریکہ بھارت اور اسرائیل ہمارے خیر خواہ نہیں

Jang Weekly Magazine - SUNDAY MAGAZINEشفقت امانت علی خان کی انکہی باتیں

شفقت امانت علی خان کی انکہی اور انسنی باتیں
Jang Weekly Magazine - SUNDAY MAGAZINE

BBCUrdu.com | پاکستان | پختون پختون کو مار رہا ہے: حاجی عدیل

عوامی نیشنل پارٹی باچا خان کے عدم تشدد کے فلسفے میں یقین رکھتی ہے
پاکستان میں حکومتی اتحاد میں شامل عوامی نیشل پارٹی کے مرکزی رہنما اور منتخب سینیٹر حاجی عدیل نے کہا ہے کہ بین الاقوامی برادری کو پاکستان میں دہشتگردی کے خلاف جنگ میں پختونوں کا ساتھ دینا چاہیے۔
انہوں نے کہا کہ اگر پختون اس جنگ میں ہار گئے تو دنیا کی کوئي بھی طاقت دہشتگردی کے خلاف جنگ نہیں جیت سکتی۔ انہوں نے کہا کہ اگر اکیس سال کی جنگ کے
بعد برطانیہ آئرش ریپلیکن پارٹی سے بات چیت کرکے صلح کرسکتا ہے تو طالبان کے ساتھ بات چیت کیوں نہیں ہو سکتی۔
آجکل امریکہ کا سرکاری دورہ کرنے والے عوامی نیشنل پارٹی کے سینیٹر گزشتہ رات نیویارک میں ’لٹل پاکستان‘ کہلانے والے بروکلین میں ایک مقامی ریستوان میں پر ہجوم پریس کانفرنس اور استقبالیے سے خطاب کرر ہے تھے جس کا اہتمام عوامی نیشنل پارٹی یو ایس اے نے کیا تھا۔
انہوں نےکہا کہ صوبہ سرحد میں رہنے والے پختون سخت عذاب کی زندگی گزار رہے ہیں کہ ان پر جنگ اور دہشت گردی مسلط کی گئی ہے۔ انہوں نے کہا قتل ہونے والا بھی پختون ہے جو قتل کرتا ہے وہ بھی پختون ہے، جس کا گھر جلایا جا رہا ہے وہ بھی پختون ہے جو گھر جلا رہا ہے وہ بھی پختون ہے، خودکش بمبار بھی پختون ہے اور اس کے ہاتھوں مرنے والے بھی پختون ہیں۔
انہوں نے کہا کہ آجکل جو صوبہ سرحد میں ہورہا ہے وہ افغانستان میں روسی مداخلت کے وقت بقول سینیٹر حاجی عدیل، اس جہاد یا فساد کی بدولت ہے جس سے امریکہ اور مغربی دنیا سے بے شمار اسلحہ آیا اور جنگ ختم ہونے پر افغانستان کو اس کے حال پر چھوڑ دیا گیا۔
انہوں نے کہا کہ اگر اسی طرح دہشتگردی کی جنگ میں پاکستان اور پختونوں کو تنہا چھوڑ دیا گیا تو اس سے نہ صرف پاکستان اور افغانستان بلکہ تمام دنیا میں تباہی پھیلے گی۔
انہوں نے کہا کہ نام نہاد افغان جہاد کے دوران امریکہ سمیت مغربی ممالک نے پختونوں کے خطے میں بائیس ارب ڈالر کا اسلحہ پہنچایا اور وہ اتنے وسیع طور پھیلا کہ پختون جو پانچ کروڑ کی آبادی ہے۔ ’اگر تخمینہ لگایا جائے تو فی کس پختون تیس ہزار ڈالر کا اسلحہ موجود ہے۔ انسان ختم ہورہے ہیں اسلحہ ختم نہیں ہو رہا۔ طالبان مارے جاتے ہیں لیکن ان کا اسلحہ ختم نہیں ہورہا۔‘
انہوں نے کہا کہ ایک عام پختون کو اپنے قبائلی علاقے میں جانے کےلیے محکمہء داخلہ سے اجازت لینی پڑتی ہے لیکن وہاں عرب، چیچن، ازبک اور دوسرے غیر ملکی کیسے موجود ہیں؟ انہوں نے کہا کہ ایجنسیوں کی مرضی کے بغیر وہ لوگ وہاں نہیں پہنچ سکتےتھے۔ تاہم انہوں نے کہا کہ سابق فوجی حکمران جنرل پرویز مشرف کے سبکدوش ہونے کے بعد آئی ایس آئی سمیت خفیہ ایجینسیوں کا کردار نظر نہیں آتا اور اب پاکستان میں جہموری حکومت ہے۔
انہوں نے کہا کہ ان کی پارٹی کی تمام قیادت اور سرگرم لیڈر کو تحریک طالبان پاکستان اور دیگر شدت پسند گروپوں سے قتل و غارت کی دھمکیاں ہیں اور ان کے پارٹی رہنما اسفندیار ولی پر خود کش بم حملے اور اس سے قبل سوات میں ایک اور رہنما خان افضل خان اور ان کے عزيزوں کی زندگیوں اور املاک پر حملوں سمیت انتہا پسندوں کی طرف سے حملے جاری ہیں۔
انہوں نے کہا کہ عوامی نیشنل پارٹی باچا خان کے عدم تشدد کے فلسفے میں یقین رکھتی ہے جنہوں نے تمام جنگ آزادی بغیر کسی کا خون بہاۓ یا اسلحے کے جیتی تھی۔
انہوں نے کہا کہ امریکہ سمیت بین الاقوامی برادری دہشتگردی کی جنگ لڑنے والے پاکستان اور پختون علاقوں میں اسطرح کا پلان وضع کرے جسے دوسری جنگ عظیم کے بعد جرمنی اور جاپان کی از سر نو تعمیر میں مارشل پلان تیار کیے تھے۔
انہوں نے کہا کہ صوبے میں ان کی حکومت کی طرف سے مالا کنڈ میں صوفی محمد سے کیے جانیوالے سمجھوتے کی خلاف ورزی عسکریت پسندوں کی ہی طرف سے ہوئی ہے۔
تاہم انہوں نے کہا کہ شدت پسند علاقوں میں لڑکیوں کے سکول زیادہ سے زیادہ جلا رہے ہیں اور عوامی نیشنل پارٹی کے کارکنوں کو گھروں سے نکال کر ان کے بیٹوں بھائیوں کےساتھ کھڑا کرکے پوچھتے ہیں کہ ان کو کونسا بیٹا زیادہ عزيز ہے اور پھر پہلے اسے الگ کر کے قتل کردیتے ہیں۔
انہوں نے کہا کہ پختون خطے میں جنگ بنیاد پرستی اور لبرل ازم انتہا پسند قوتوں اور جمہوریت پسند قوتوں کے درمیان ہے اور عالمی برادری کو خطے میں جمہوریت پسند اور لبرل قوتوں کا ساتھ دینا چاہیے۔
ایک سوال کے جواب میں انہوں نے کہا کہ نہ وہ چھوٹے پختونستان کے حق میں ہیں نہ بڑے پختونستان کے حق میں وہ پختونخواہ کے حق میں ہیں۔
BBCUrdu.com پاکستان پختون پختون کو مار رہا ہے: حاجی عدیل

BBC World Service | بی بی سی اردو بلاگ | تو سازش کیا ہے؟

BBC World Service بی بی سی اردو بلاگ تو سازش کیا ہے؟

Thursday, October 16, 2008

Kurram tribes sign peace accord

Main News

Kurram tribes sign peace accord
Toori, Mengal tribes to return to their areas Violator to be fined with sixty million rupees
Agencies
MURREE/PARACHINAR: The elders and tribal chiefs of the two rival Turi and Mengal tribes have signed a written agreement to execute permanent peace in Kurram Agency, according to top government officials on Thursday.After the agreement, the warring tribes would return to their respective areas and leave their bunkers. In case of a violation of the declaration, the tribe responsible would be charged sixty million rupees.A 100-member peace jirga comprised 50 members each from both the tribes and 20 members from other tribal agencies, including MNA Munir Orakzai and MNA Sajid Turi and Senator Rasheed Khan, former senator Sajjad Syed and Kurram Agency Political Agent Azam Khan and Lower Kurram Assistant Political Agent Ayyaz Khan Mandokhel.They met at Murree and agreed to hold ceasefire between the warring Turi and Mengal tribes. They signed an agreement to restore peace in the area and end clashes continuing for more than a year. A 15-member committee and peace jirga comprising 23 members inked the peace treaty.An official said that both sides agreed that all roads including main Thall-Parachinar road closed for about one and a half years now, would be opened to traffic by Friday (today). He said that elders of both sects agreed that they would leave the occupied areas and return to original positions."All bases occupied by the two sides would be given under the control of Frontier Corps and local political administration," he said, and added that it was also decided that a tribal jirga representing all tribal areas would be held in Kurram Agency on November 2 in which one more agreement would be signed to evacuate the occupied areas.The ongoing clashes have claimed more than 1000 lives and left more than 4000 injured. The clashes have taken their toll on residents of Kurram Agency who are also facing severe food and drug shortages and the area has been without electricity for the last several months.Malik Amanullah, Kamal Hussain, Maisam Ali Turi, Gulzar Hussan Turi, Salim Khan, Subhanullah expressed satisfaction over the jirga's decision and termed it an important development towards restoration of peace. They hoped that now peace would be returned to the agency.The tribal elders demanded the government take swift measures to restore the electricity supply to the agency. Amanullah said that the tribesmen were facing extreme hardship due to lack of electricity. "The area has been without electricity for the last several months, causing water shortages," he added.Kamal said that the local people wanted peace in the area and were fed up with ongoing militancy in the agency.

ڈان اخبار اداریہ: ’کرم کے حالات پر قابو نہ پایا گیا تو فرقہ وارانہ تنازعات ملحقہ اضلاع میں پھیل سکتے ہیں‘

خیبرپختونخوا کے قبائلی ضلع کرم میں گزشتہ چند ماہ سے صورت حال عدم استحکام کا شکار ہے، ایسے میں جمعرات کو پیش آنے والا ہولناک واقعہ حیران کُن...