Thursday, November 29, 2007

عبدالحئی کاکڑ - اعجاز مہر - لیفٹنٹ جنرل (ریٹائرڈ) طلعت مسعود coments on Mr Musharaf and Gen Kiani


جنرل مشرف، جنرل کیانی
جنرل مشرف کی نسبت جنرل کیانی زیادہ پراعتماد نظر آئے
آخر کار جنرل پرویز مشرف نے آرمی چیف کا عہدہ چھوڑدیا اور پاکستان فوج کی کمان ایک گھنٹے سے بھی کم جاری رہنے والی تقریب میں جنرل اشفاق پرویز کیانی کے حوالے کر دی۔ تقریب میں سرکاری میڈیا کو ہی بلایا گیا اور ریاستی ٹی وی چینل پر یہ تقریب براہ راست دکھائی گئی جس میں جنرل کیانی کے چہرے پر مسکراہٹ جبکہ جنرل پرویز مشرف بجھے بجھے سے نظر آئےتقریب سے خطاب کرتے ہوئے جہاں جنرل پرویز مشرف کے لہجے میں بھاری پن تھا وہیں دوران تقریر وہ کئی بار الفاظ کی ادائیگی میں اٹکتے رہے جبکہ ان کی نسبت جنرل کیانی کافی پراعتماد نظر آئے۔ فوجی کمان کی تبدیلی کی اس تقریب سے جب جنرل پرویز مشرف نے خطاب کیا تو باقی باتوں کے ساتھ ساتھ انہوں نے فوج سے کہا کہ ’جب بھی ملکی ترقی میں کوئی رکاوٹ پیدا ہو تو فوج کو اُسے ٹھوکر مارتے ہوئے آگے بڑھنا چاہیے‘۔

جب آرمی چیف کے کمان کی علامت، تقریبا ڈھائی فٹ لمبی بانس کی چھڑی میز پر رکھی گئی تو جنرل مشرف دوسری طرف دیکھ رہے تھے اور جنرل کیانی نے انہیں اشارہ کرتے ہوئے میز کی طرف چلنے کی درخواست کی۔ میز پر موجود ایک فریم یا سٹینڈ پر رکھی اس چھڑی کو ایک سرے سے جنرل پرویز مشرف اور دوسری طرف سے جنرل کیانی نے اٹھایا۔ جنرل کیانی والے سرے سے تو وہ چھڑی نکل آئی لیکن جنرل پرویز مشرف کی جانب سے پھنسی رہ گئی اور جنرل کیانی نے چھڑی نکالنے میں ان کی مدد کی۔ جب بینڈ باجے بج چکے اور سلامی والے دستے واپس جانے لگے تو جنرل مشرف انہیں دیر تک مڑ کر دیکھتے رہے اور آخر میں جنرل کیانی نے انہیں چلنے کا اشارہ کیا اور ایسا لگا کہ وہ انہیں کہہ رہے ہوں کہ ’اب چلیے سر جی‘
جنرل پرویز مشرف نے جاتے ہوئے جہاں سے بھی گزرے تقریب میں موجود فوجیوں اور خواتین سمیت کئی سویلین شخصیات کو بھی سلیوٹ کرتے گئے۔ جب تقریب ختم ہوئی تو اچانک ذہن کی سکرین پر خیال آیا کہ بس! یہی آرمی چیف کے کمان کی تبدیلی تھی کہ محض ایک ڈھائی فٹ لمبی بانس کی چھڑی حوالے کرنی تھی۔ جس کے لیے اپوزیشن والے برسوں سے شور مچا رہے تھے!۔

جنرل پرویز مشرف نے بالاخر اپنی’ کھال‘ ، اتار دی اور کمان کی جس چھڑی میں انکی طاقت پوشیدہ تھی اس سے انہوں بظاہر بڑی نیم دلی کے ساتھ اپنے ہی ہاتھ سے پاکستان کے نئے چیف آف آرمی اسٹاف جنرل اشفاق پرویز کیانی کے حوالے کردیا۔خطاب کے دوران انکی آواز کچھ لمحوں کے لیے بھرائی ہوئی تھی اور الفاظ بھی ایک طاقتور جرنیل کے قابو میں نہیں آرہے تھے۔اس تاریخی موقع پر انہوں نے جو تقریر کی وہ بظاہر نامکمل معلوم ہورہی تھی۔ انہیں تو یہ بات یاد رہی کہ جب کبھی بھی پاکستان میں زلزلہ یا کوئی اور قدرتی آفت آئی ہے تو اس سے نمٹنے کے لیے فوج ہی میدان عمل میں اتری ہے۔سبکدوش جنرل پرویز مشرف کو تو یہ یاد رہا کہ جب بھی خود کش حملہ ہوتا ہے تو پاکستانی فوج آگے آتی ہے لیکن وہ یہ بات کہنا بھول گئے تھے کہ پاکستان کی تاریخ میں پہلی بار انکے ہی زیر کمان فوج نہیں بلکہ خود کش حملہ آور ہی فوج کے آگے آئے ہیں۔انہوں نے اپنی تقریر کے دوران فخریہ انداز میں پاکستانی فوج کو ایک طاقتور فوج کا خطاب دیا تاہم اس تاریخی موقع پر شاید یہ بات جنرل صاحب کے حافظے سے محو ہوگئی تھی کہ انکے زیر کمان پاکستان کی تاریخ میں پہلی مرتبہ اس طاقتور اور منظم فوج کے تین سو سے زائد اہلکاروں کو جنوبی وزیرستان میں چند درجن غیر منظم اور روایتی طالبان جنگجوؤں نے یرغمال بنایا تھا اور پھر انکی رہائی کسی آپریشن کے نتیجے میں نہیں بلکہ انتیس مبینہ دہشت گردوں کی رہائی کے بدلے میں عمل میں آئی تھی۔ اور وہ بھی ایک ایسے موقع پر جب انہوں نے ایمرجنسی کے نفاذ کے بعد قوم سے اپنی تقریر کے دوران سپریم کورٹ کے برطرف چیف جسٹس افتخار چودھری اور دیگر جج صاحبان کو تنقید کا نشانہ بناتے ہوئے کہا تھا کہ انہوں نے اکسٹھ مبینہ دہشت گردوں کو رہا کردیا تھا۔ جنرل صاحب یہ کہنا بھی بھول گئے تھے کہ انکی زیر کمان ہی سکیورٹی فورسز کے اہلکاروں کے گلے کاٹنے کا رجحان پروان چڑھا جبکہ بلوچستان میں کئی دہائیوں تک اسٹبلشمنٹ کے ’بہترین دوست‘، نواب اکبر خان بگٹی کو دیوار کے ساتھ لگا کر انہیں ایک محب وطن پاکستانی کے بجائے ایک ’بلوچ حریت پسند‘، بناکر ہلاک کردیا گیا جسکے نتیجے میں آج بلوچستان میں دن بدن بلوچ عسکریت پسندی میں اضافہ ہورہا ہے۔ پاکستانی فوج کی کمان جنرل پرویز مشرف سے جنرل اشفاق پرویز کو منتقل ہونے کی تقریب اس لیے بھی دیدنی تھی کہ پاکستانی عوام نے آٹھ سال سے اپنے اوپر مسلط فوجی حاکم کو پہلی بار ایک ایسی کیفیت سے گزرتے ہوئےدیکھا جنکے چہرے پر پریشانی، اور عدم تحفظ تیرتا ہوا نظر آرہا تھا۔
صدر جنرل پرویز مشرف کا یہ کہنا کہ وہ ایک مضبوط ترین فوج چھوڑ کر جا رہے ہیں ان کے لیئے ضروری تھا۔ اگر وہ یہ کہہ کر جاتے کہ وہ کمزور فوج چھوڑ کر جارہے ہیں تو یہ شاید مناسب نہ ہوتا۔

لیکن حقائق اس سے مختلف ہیں۔ فوج کو اس وقت مختلف اقسام کے چیلنجز درپیش ہیں۔ پرویز مشرف کے دورِ قیادت میں ان کی آخری وقت تک کوشش تھی کہ صدر اور چیف آف آرمی سٹاف کے دونوں عہدے اپنے پاس رکھیں۔ اس وجہ سے وہ فوج پر پوری توجہ نہیں دے سکے۔ اس سے بھی فوج کی پیشہ ورانہ صلاحیت پر منفی اثر پڑا۔

وہ بھی ایک ایسے وقت جب اتنی بڑی فوج اور اس کو اتنے ہی بڑے اندرونی اور بیرونی چیلنجز کا سامنا بھی تھا۔ ایسے میں قیادت چاہے کتنی ہی اعلیٰ درجے کی کیوں نہ ہو جب اس کی توجہ بٹی ہو اور اس کا زیادہ وقت اور توجہ کا مرکز سیاست ہو تو پھر کوئی کیسے توقع رکھ سکتا ہے کہ اس فوج کا مورال بہتر ہوگا۔

فوج کے سربراہ سیاست میں تقریباً آٹھ سال ملوث رہے جس سے کوئی مثبت نتیجہ نہیں بلکہ منفی نتائج حاصل ہوئے اور فوج کا وقار اور فوج کو جو لوگوں سے حمایت ملنی چاہیے تھی وہ حاصل نہ ہو سکی، بلکہ جتنی ہونی چاہیے تھی اس میں ایک قسم کی کمی ہی آئی۔


ملک میں فوج کا سربراہ بیک وقت عسکری اور سیاسی ذمہ داریاں ادا کر رہا ہو یہ پہلی مرتبہ نہیں ہو رہا۔ جنرل ضیا الحق تو مشرف سے بھی زیادہ مدت تک دونوں عہدوں پر فائز رہے۔ اس وقت بھی عوام میں فوج کی مقبولیت میں کمی آئی تھی لیکن اس مربتہ کچھ زیادہ ہوا ہے۔ یہ اس لیے ہوا کہ ماضی میں فوج اس حد تک حکومت میں ملوث نہیں تھی کہ جس حد تک اس دور میں رہی ہے۔

دوسری وجہ یہ ہے کہ افغانستان میں عدم استحکام کی وجہ سے اس وقت بین الاقوامی لحاظ سے اور خاص طور سے امریکہ کی فرنٹ لائن سٹیٹ ہونے کی وجہ سے پاکستانی فوج کو چیلنجز یا مشکلات کا سامنا تھا۔

ایک اور وجہ یہ ہے کہ پاکستانی فوج کی جو اصل ساری تربیت تھی وہ ایک روایتی جنگ کے لیے تھی جس میں بھارت اس کا حریف تھا۔ اسی پر تمام تربیت، کارروائیاں اور منصوبہ بندی وغیرہ ہمیشہ سے روایتی طور سے رہی ہے۔ لیکن اب مغربی سرحد پر خود اندرونی طور سے جو مزاحمت کا سامنا ہے وہ فوج کے لیے ایک نیا چیلنج ہے۔

اس میں کوئی شک نہیں کہ جنرل مشرف نے امریکہ اور دیگر ممالک سے جنگی آلات و تربیت وغیرہ حاصل کرنے کی کوشش کی لیکن یہ ناکافی تھے۔ فوج کو اس طرز کی گوریلا وارفیئر یا کاؤنٹر انسرجنسی آپریشنز میں مہارت حاصل کرنے میں وقت لگے گا۔ لیکن پھر بھی کافی کچھ انہوں نے اس عرصے میں سیکھا ہے اور کوشش کی ہے کہ اپنی صلاحیت کو بہتر کیا جائے۔

نئے فوجی سربراہ جنرل اشفاق پرویز کیانی کو اب بڑے پیمانے پر اپنی پالیسی اور حکمت علمی میں تبدیلیاں کرنا پڑیں گی۔ ایک بالکل عام سی بات ہے جس کا سب کو علم ہے کہ دنیا میں کوئی فوج اپنے لوگوں کے خلاف جنگ کبھی جیت ہی نہیں سکتی چاہے وہ کتنی بھی بہترین فوج کیوں نہ ہو۔

دیکھنا ہوگا کہ کیا واقعی میں یہ ضرورت ہے کہ ہم بلوچستان میں بھی فوج کو لگائیں اور اپنے ہی لوگوں سے لڑائی کریں۔ ہمیں چاہیے کہ ہم ہر جگہ چاہے وہ سوات ہو یا قبائلی علاقے ہی کیوں نہ ہوں فوج کو صرف اسی وقت استعمال کریں جبکہ ہم سمجھیں کہ سیاسی اور دوسرا لائحہ عمل ہے وہ بالکل ناکام ہو گیا ہے۔ یہ بڑا ضروری ہے۔

اپنے لوگوں کے خلاف فوج کو آخری حربے کے طور پر انتہائی محدود انداز میں استعمال کرنا چاہیے۔۔۔۔ کیونکہ کولیٹرل ڈیمیج بہت زیادہ ہوتا ہے اور کوئی آپ قابض فورس نہیں ہیں، تو آپ اس طریقے سے فوج کو نہیں استعمال کر سکتے جس طریقے سے امریکہ یا نیٹو فورسز افغانستان میں یا عراق وغیرہ میں استعمال ہو رہی ہیں۔

جنرل کیانی کی سنجیدگی سے یہ کوشش ہوگی کہ وہ فوج کو سیاست میں ملوث نہ کریں اور جہاں تک ہو سکے اپنے پیشے ہی میں وہ زیادہ تر اس کو توجہ دیں، اور اسی کی بہتری میں مصروف رہیں۔ جنرل کیانی ایک مدبر اور ایک پیشہ ور صلاحیت کے مالک سپاہی ہیں۔ ان کا کافی وقار ہے فوج میں۔ لوگوں کا ان کے بارے میں اچھا خیال ہے۔ ان کی طبیعت پچھلے لیڈروں سے ذرا مختلف ہے۔ امید کی جاسکتی ہے کہ وہ زیادہ تر توجہ اپنے پیشے کی طرف دیں گے اور یہ کوشش کریں گے کہ فوج کو سیاست سے دور رکھیں۔


لیکن خیر اگر حالات بہت خراب، خدا نہ کرے، ہوئے تو پھر شاید فوج کو لانا پڑے لیکن میں یہ توقع رکھتا ہوں کہ وہ ضرور سیاستدانوں کو موقع دیں گے کہ وہ ملک کو چلائیں اور یہ جو سیاسی عمل انتخابات کے ذریعے شروع ہو رہا ہے، اس کو جتنی حد تک صاف و شفاف رکھا جائے یہ فوج کے حق میں بہتر ہوگا اور ملک میں انتشار ختم ہوگا۔

ماضی میں ایک خیال یہ تھا کہ فوج کے ذریعے ملک کا دفاع ہو سکتا ہے لیکن اب یہ اپنے تجربے سے اور ملک میں جس طرح کے حالات رہے ہیں، اس سے تو بالکل عیاں ہوگیا ہے کہ فوج خود اکیلی کسی صورت میں ملک کا دفاع نہیں کر سکتی جب تک کہ لوگ اس کا ساتھ نہ دیں۔ اس سلسلے میں سیاسی لائحہ عمل بڑا ضروری ہے، جمہوریت بڑی ضروری ہے، اس کو مضبوط بنیادوں پر رکھا جائے۔

نیشنل سکیورٹی کونسل کی کوئی خاص اہمیت نہیں ہوتی۔ اس لیے کہ صدر مشرف نے بار بار کہا تھا کہ اگر نیشنل سکیورٹی کونسل کے آنے سے اب مارشل لاء کبھی نہیں لگے گا لیکن آپ نے دیکھا کہ انہوں نے خود ہی مارشل لاء یا ایمرجنسی نافذ کر دی باوجود اس کے کہ نیشنل سکیورٹی کونسل موجود تھی۔

تو اس سے یہ ظاہر ہوتا ہے کہ جو روایتی طریقے ہیں دنیا میں اور جس طریقے سے دنیا میں جمہوریت کامیاب ہوئی ہے، کوئی وجہ نہیں ہے کہ پاکستان کے لوگ جتنی جمہوریت چاہتے ہیں اس سے ان کو کیوں دور رکھا جائے۔ بجائے اس کے کہ فوج مداخلت کرے، وہ اپنی ذمہ داریوں کو اچھے طریقے سے سنبھالے، دوسروں کے کاموں میں ملوث ہو کر ان کا بھی کام خراب کرے اور پھر اپنا بھی ادارہ اور اپنی بھی پیشہ ورانہ صلاحیت میں کمی لائ



جنرل مشرف، جنرل کیانی
جنرل مشرف کی نسبت جنرل کیانی زیادہ پراعتماد نظر آئے
آخر کار جنرل پرویز مشرف نے آرمی چیف کا عہدہ چھوڑدیا اور پاکستان فوج کی کمان ایک گھنٹے سے بھی کم جاری رہنے والی تقریب میں جنرل اشفاق پرویز کیانی کے حوالے کر دی۔ تقریب میں سرکاری میڈیا کو ہی بلایا گیا اور ریاستی ٹی وی چینل پر یہ تقریب براہ راست دکھائی گئی جس میں جنرل کیانی کے چہرے پر مسکراہٹ جبکہ جنرل پرویز مشرف بجھے بجھے سے نظر آئےتقریب سے خطاب کرتے ہوئے جہاں جنرل پرویز مشرف کے لہجے میں بھاری پن تھا وہیں دوران تقریر وہ کئی بار الفاظ کی ادائیگی میں اٹکتے رہے جبکہ ان کی نسبت جنرل کیانی کافی پراعتماد نظر آئے۔ فوجی کمان کی تبدیلی کی اس تقریب سے جب جنرل پرویز مشرف نے خطاب کیا تو باقی باتوں کے ساتھ ساتھ انہوں نے فوج سے کہا کہ ’جب بھی ملکی ترقی میں کوئی رکاوٹ پیدا ہو تو فوج کو اُسے ٹھوکر مارتے ہوئے آگے بڑھنا چاہیے‘۔

جب آرمی چیف کے کمان کی علامت، تقریبا ڈھائی فٹ لمبی بانس کی چھڑی میز پر رکھی گئی تو جنرل مشرف دوسری طرف دیکھ رہے تھے اور جنرل کیانی نے انہیں اشارہ کرتے ہوئے میز کی طرف چلنے کی درخواست کی۔ میز پر موجود ایک فریم یا سٹینڈ پر رکھی اس چھڑی کو ایک سرے سے جنرل پرویز مشرف اور دوسری طرف سے جنرل کیانی نے اٹھایا۔ جنرل کیانی والے سرے سے تو وہ چھڑی نکل آئی لیکن جنرل پرویز مشرف کی جانب سے پھنسی رہ گئی اور جنرل کیانی نے چھڑی نکالنے میں ان کی مدد کی۔ جب بینڈ باجے بج چکے اور سلامی والے دستے واپس جانے لگے تو جنرل مشرف انہیں دیر تک مڑ کر دیکھتے رہے اور آخر میں جنرل کیانی نے انہیں چلنے کا اشارہ کیا اور ایسا لگا کہ وہ انہیں کہہ رہے ہوں کہ ’اب چلیے سر جی‘
جنرل پرویز مشرف نے جاتے ہوئے جہاں سے بھی گزرے تقریب میں موجود فوجیوں اور خواتین سمیت کئی سویلین شخصیات کو بھی سلیوٹ کرتے گئے۔ جب تقریب ختم ہوئی تو اچانک ذہن کی سکرین پر خیال آیا کہ بس! یہی آرمی چیف کے کمان کی تبدیلی تھی کہ محض ایک ڈھائی فٹ لمبی بانس کی چھڑی حوالے کرنی تھی۔ جس کے لیے اپوزیشن والے برسوں سے شور مچا رہے تھے!۔

جنرل پرویز مشرف نے بالاخر اپنی’ کھال‘ ، اتار دی اور کمان کی جس چھڑی میں انکی طاقت پوشیدہ تھی اس سے انہوں بظاہر بڑی نیم دلی کے ساتھ اپنے ہی ہاتھ سے پاکستان کے نئے چیف آف آرمی اسٹاف جنرل اشفاق پرویز کیانی کے حوالے کردیا۔

۔

Monday, November 26, 2007

Jang Group Online shoukat aziz is tired a tremendous column from Hamid Mir posted by shafique ahmed blog

shoukat aziz is tired a tremendous column from Hamid Mir but
in the daily jinnah ( http://www.dailyjinnah.com.pk/admin/anmviewer.asp?a=56112&z=2 ) news paper i just read that an investigative agency has provoked them to not contest election not to go out of country because serious agency has investigating him about many corruption cases like Pakistan steel mill Habib bank stock exchange scandals and gen Musharaf has paid heavy price for all these cases.
Jang Group Online

Sunday, November 25, 2007

جان بچاؤ تحریک سے ملک بچاؤ تحریک تک حسن مجتٰبی بی بی سی اردو ڈاٹ کام، نیویارکposted by shafique ahmed blog

نواز شریف
’سعودی بادشاہ سے لے کر سعودی انٹیلیجنس تک سے نواز شریف خاندان کے مراسم کے کہانی بہت پرانی ہے‘

ابھی کل ہی کی بات ہے جب پاکستان کے سابق وزیراعظم تخت لاہور سے تختے کے قریب پہنچ کر اٹک قلعے کے قیدی تھے اور ان کی آزادی کیلیے متحدہ حزب مخالف کی تحریک کے دوران ان کی بيگم کلثوم نواز اور لاہور پولیس کے درمیاں ’سٹینڈ آف‘ میں انہیں ان کی کار سمیت فورک لفٹر میں کئي گھنٹے تک معلق رکھا گیا تھا۔

اور ابھی مسلم لیگ (ن) کے فیصل آباد سے رکن پنجاب اسمبلی رانا ثناءاللہ لاہور کی فوجی چھاؤنی میں اپنی ننگی پشت پر لگے بیس کوڑوں کے زخم ہی سہلا نہ پائے تھے کہ راتوں رات نواز شریف اپنے خاندان، ملازمین اور پسندیدہ باورچیوں اور بڑھیا غالیچوں اور سامان سے بھرے دو ٹرکوں سمیت چکلالہ ائرپورٹ سے جدہ اڑان بھر کے پوری حزب مخالف کو ہوا میں معلق چھوڑ کر چلتے بنے تھے۔

بہرحال مشہور ہے کہ جان بچانا سنت ہے اور نواز شریف بھی بھٹو نہیں تھے سو انہوں نے یہی کیا۔ بات یہ نہیں کہ یہ معافی نامہ یا عہد نامہ دس یا پانچ برسوں کا تھا، بات یہ ہے کہ یہ پاکستان کی نام نہاد خود مختاری مطلق العنانیت، روشن خیالی، عرب اور پاکستانی حکمران ٹولوں کی ملی بھگت اور محلاتی سازشوں کی ملی جلی عجیب طوطا کہانی ہے۔

پاکستان کا عام آدمی سوچ رہا ہے کہ سیاسی طور پر قرون وسطی میں رہنے والے وہ عرب مسلمان مطلق العنان حکمران جو ڈھائي درہم یا دینار تک چوری کرنے والے آدمی کے ہاتھ کاٹ دیتے ہیں وہ پاکستان پر’ڈاکہ‘ ڈالنے والوں کو چالیس صندوقوں سمیت اڑن غالیچے پر سرور محل پہنچا دیتے ہیں۔

کاش ایسا اسلامی بردارانہ پن یا غیرت بھٹو کی جان بخشوانے پر بھی کام آتی جسے ساری دنیا سے اپیلوں کے باوجود جرنیلوں اور ججوں نے پھانسی پر چڑھا دیا تھا۔پاکستان کے اس جلاوطن بادشاہ نے سعودی عرب میں بھی سٹیل مل لگوائی اور جدہ میں اپنے قیام کے دوران زیادہ تر وقت سابق صدر رفیق تارڑ کے لطیفوں، پاکستانی پرنٹ میڈیا میں فوجی حکممران جنرل پرویز مشرف کے خلاف اور ان کے حق میں شائع ہونے والے کالموں کو پڑھنے اور اپنے پسندیدہ کھانے کھانے اور کھلانے میں وقت گزارا۔

نواز شریف سعودی عرب کے شاہ عبداللہ کے ہمراہ

سعودی بادشاہ سے لے کر سعودی انٹیلیجنس تک سے نواز شریف خاندان کے مراسم کی کہانی بہت پرانی ہے۔ بتایا جاتا ہے کہ جب انیس سو ترانوے میں بینظیر بھٹو حکومت نے سیاسی انتقام کے طور پر شریف خاندان کی کاروباری ناکہ بندی کر رکھی تھی تب بھی ان کے بزنس کو قرضے سعودی عرب کے الفیصل بنک سے ہی جاری کیے گئے۔

جدہ سے بظاہر اپنے بیٹے حسین نواز کی بیماری کے علاج کی غرض سے لندن جانے والے نواز شریف اور اس نواز شریف میں فرق تھا جو جان بچانا سنت ہے والے فارمولے اور اپنے ابا جی کے مشورے پر عمل کرتے اٹک جیل سے جدہ جا پہنچے تھے۔

اس پورے کیس میں نواز شریف جو اب ایک فریادی تھے کے آخر کار وہ منتخب وزیراعظم تھے اور ان کی حکومت ان ہی کے چیف آف آرمی سٹاف اور فوجی ٹولے نے اپنی نوکری جانے پر ان کا تختہ الٹ کر ختم کی تھی۔

پاکستانی عدلیہ کی آزادی کا کیا کہنا کہ ملک کی منتخب وزیراعظم کی حکومت کو ختم کر کے ملکی آئین کو ہائي جیک کرنے والے آرمی چیف اور ان کے ساتھی جرنیلوں کو تو بغاوت کرنے پر کوئی سزا نہیں ہوئی پر معزول وزیراعظم نواز شریف کو سزا ہوگئي۔

جہاں جی ایچ کیو کا معاملہ ہوتا ہے وہاں لاہور اور لاڑکانہ کا فرق مٹ جاتا ہے۔

جدہ اور لندن میں جلاوطنی کے دوران نواز شریف، ان کی مسلم لیگ ن اور بینظیر بھٹو کے درمیاں قربت بڑھی اور میثاق جمہوریت معاہدہ بھی ہوا لیکن معافی سے مشروط کرسی کی دوڑ دھوپ میں بینظیر بھٹو اتنی آگے نکل گئيں کہ ان کے مشرف فوجی سرکار سے مذاکرات و معاملات تب بھی جاری تھے جب وہ میثاق جمہوریت پر دستخط کر رہی تھیں۔

اسی میثاق جمہوریت میں اس آئي ایس آئی میں سیاسی سیل ختم کرنے کا نکتہ بھی شامل تھا جس کے چیف سے بینظیر بھٹو نے ابوظہبی میں ملاقاتیں کی ہیں۔

یہ سبق بینظیر بھٹو نے نوے کی دہائي میں، بقول انکے، مارگریٹ تھیچر سے سیکھا ہوا ہے کہ دو فریقوں کی لڑائي میں وہ ایک کے زخمی یا بےسدھ ہو کر گرنے تک خاموشی اور مزے سے تماشا دیکھتی رہا کریں اور پھر آ کر ایسی صورتحال سے فائدہ اٹھائيں۔ بینظیر بھٹو مارگریٹ تھیچر کے اس سبق پر نواز شریف اور صدر اسحاق کے درمیان ہونے والی محاذ آرائي سے فائدہ اٹھاتے ہوئے وزیراعظم بن گئي تھیں۔

پاکستان کی تاریخ میں پہلی بار پاکستان کے وکلاء، متوسط طبقات، نوازشریف اور ان کا آبائي صوبہ پنجاب فوجی اسٹبلشمنٹ کے خلاف اٹھ کھڑا ہوا ہے۔ لاہور جیسے پنجاب کے بڑے شہروں میں فوجیوں کو وردی پہن کر چھاؤنی سے باہر بازاروں میں جانے سے منع کر دیا گیا ہے۔ اب لاہوری ان کے لیے’لچي سی لفنگی سی گنجے، کولوں چنگی سی‘ والا نعرہ نہیں لگاتے اور اب پھر وہاں’ڈھاکے جناں بم چلائے۔۔۔۔‘ والے نعروں کا موسم آیا ہوا ہے۔

یہ پت جھڑ شاید مشرف فوجی راج کی پت جھڑ ہو۔ ایسے سمے میں نواز شریف نے پاکستان میں لوہا تپتا دیکھ کر ضرب لگانے کی ٹھانی ہے۔ پورا ملک اس وقت ان کے لیے’تو لنگھ آ جا پتن چناں دے‘ بنا ہوا ہے۔ دیکھنا یہ ہے کہ ان میں بھی ان سولہ کروڑ دکھی عوام کیلیے سوہنی جیسا دل ہے یا اب بھی وہ کچھ کٹھ ملاؤں، چند پنجابی کور کمانڈروں اور ’ زندگی کے ہاتھ میں آدمی کھلونا ہے‘ بنے ہوئے ہیں!

کیا اس بار یہ پت جھڑ پاکستان میں فوجی راج کی پت جھڑ ثابت ہوگی!

اندازے اور امکانات wonderful analysis of saleem safi of daily jinnah posted by shafique ahmed blogs


پاکستان میں کس قدر قحط الرجال ہے ، اس کا اندازہ اس امر سے لگالیجئے کہ بعض نادان مجھ جیسے لوگوں کو بھی تجزیہ نگاروں کی صف میں شامل کرجاتے ہیں ۔ ان نادانوں میں لندن ، واشنگٹن اور تہران میں مقیم بی بی سی ، وائس آف امریکہ اور ریڈیو تہران کے لئے کام کرنے والے کچھ دوست بھی ہیں جو ان دنوں وقتاً فوقتاً مجھ سے پاکستان کے حالات کا تجزیہ کرانے کے لئے رابطہ کرتے رہتے ہیں اور تماشہ یہ ہے کہ اس اوٹ پٹانگ تجزیے کو وہ نشر بھی کرلیتے ہیں ۔ میں جس طرح اپنے کالموں میں ایک عرصے سے بے نظیر بھٹو کی پیپلز پارٹی کو" مستقبل کی ایم ایم اے" کے نام سے یاد کررہا ہوں ، اسی طرح مذکورہ اداروں کے ساتھ گفتگو کے دوران بھی میری لائن یہی ہوا کرتی ہے ۔ میرا اصرار یہ ہے کہ بے نظیر بھٹو کی طرف سے جنرل پرویز مشرف کی مخالفت مصنوعی ہے ، جس کے ذریعے وہ عوام میں اپنا امیج بحال کرنا چاہتی ہے ۔ میرے نزدیک بے نظیر بھٹو اور جنرل پرویز مشرف کا اتحاد ، ایم ایم اے اور جنرل پرویز مشرف کے خفیہ اتحاد کے مقابلے میں زیادہ مستحکم ہے کیونکہ نہ صرف دونوں روشن خیال ہیں بلکہ ضامن بھی وائٹ ہاؤس ہے ۔ میں تسلسل کے ساتھ عرض کرتا رہا کہ جس طرح گذشتہ سالوں میں ایم ایم اے اور جنرل مشرف کے کیمپ کا ایک دوسرے کے خلاف بیان بازی کا سلسلہ جاری رہا ، اسی طرح بے نظیر بھٹو اور جنرل مشرف کے مابین بھی مخالفانہ بیانات کا یہ ڈرامہ چلتا رہے گا لیکن درون خانہ معاملات ٹھیک رہیں گے ۔
ایمرجنسی کے نفاذکے بعد جب جنرل پرویز مشرف کے بارے میں بے نظیر بھٹو کے لہجے میں تلخی آئی اور ایک موقع پر یہاں تک فرماگئیں کہ اب انہیں جنرل پرویز مشرف وردی کے بغیر بھی قبول نہیں تو میرے بعض دوست مجھ سے کہنے لگے کہ تمہارا اندازہ غلط ثابت ہوا ہے اور لگتا ہے کہ بے نظیر بھٹو کشتیاں جلا کر جنرل صاحب کے خلاف میدان میں کود پڑیں ۔ اس دوران ایک دن ریڈیو تہران سے اس کے پشتو سروس کے انچارج عاشق حسین کا فون آیا۔ وہ ایک بار پھر مجھ سے پاکستان کی سیاسی صورت حال کا تجزیہ کرانا چاہ رہے تھے ۔ انٹرویو شروع کرنے سے قبل انہوں نے فرمایا کہ سلیم !اب تو صورت حال یکسر تبدیل ہوگئی ہے اور آپ کا اندازہ غلط نکلا ہے تو بے نظیر بھٹو کی سیاست کے بارے میں آپ آج کیا کہیں گے ؟، میں نے عرض کیا کہ وہی کچھ کہوں گا جو اس سے پہلے کہتا رہا ۔ انہوں نے سوال پوچھا کہ کیا تم اب بھی یہی سمجھتے ہو کہ یہ نوراکشتی ہے تو عرض کہ ہاں مجھے اب بھی یہ نوراکشتی دکھائی دیتی ہے ۔ انہوں نے کہا کہ اب تو بے نظیر بھٹو صاحبہ ، میاں نواز شریف اور ایم ایم اے سے مل کر بھی مشرف کے خلاف جدوجہد کرنے پر آمادہ ہوگئی ہيں تو میں نے عرض کیا کہ کیا گذشتہ پانچ سالوں میں اپوزیشن جماعتوں کے ساتھ ایم ایم اے کی اٹھک بیٹھک کا سلسلہ جاری نہیں رہا ۔ عرض کیا کہ آج اگر بے نظیر بھٹو ، جنرل پرویز مشرف کے خلاف سخت بیانات دے رہی ہیں تو کیا گزشتہ پانچ سالوں میں ایم ایم اے کے رہنماؤں نے جنرل مشرف کے خلاف اور جنرل مشرف نے ایم ایم اے کے خلاف تھوڑے تلخ بیانات جاری کئے ۔پھر ریڈیو تہران کے ساتھ باقاعدہ انٹرویو کے دوران میں نے اپنا یہ تجزیہ ان کے سامنے رکھا کہ مجھے لگتا ہے کہ امریکی بدستور جنرل پرویز مشرف کی ضرورت محسوس کررہے ہیں ۔ وہ ان سے وردی اتروانا چاہتے ہیں لیکن ایک سویلین صدر کی حیثیت سے وہ بدستور درکار ہیں ۔ اسی طرح امریکی بے نظیر بھٹو کو نئے سیٹ اپ میں وزیراعظم دیکھنا چاہتے ہیں ۔ جنرل پرویز مشرف اور بے نظیر بھٹو کی مصالحت امریکہ نے کروائی ہے ۔ ابھی وہ ثالث اور ضامن کا کردار ادا کررہا ہے ۔ ذرا نیگروپونٹے صاحب کو آنے دو (اس گفتگو کے دوروز بعد امریکہ کے ڈپٹی سیکرٹری آف سٹیٹ نیگروپونٹے نے پاکستان پہنچنا تھا) ، سب کچھ ٹھیک ہوجائے گا اور خدا کا شکر ہے کہ ایسا ہی ہوا۔نیگروپونٹے ابھی واپس امریکہ نہیں پہنچے تھے کہ بينظیر بھٹو صاحبہ کے لہجے میں موجود تلخی میں نمایاں کمی آگئی اور اگلے دن یہ مطالبہ کردیا کہ انتخابات کے دوران بلدیاتی ادارے معطل کردئے جائیں ۔ ان کے اس مطالبے میں یہ پیغام پنہاں تھا کہ وہ انتخابات میں حصہ لیں گی ۔ اگلے دن جب ایک بار پھر انٹرویو کے لئے عاشق حسین صاحب کا فون آیا تو میں نے ان کا انٹرویو لینا شروع کیا اور ان سے پوچھا کہ اب ان کا کیا خیال ہے تو وہ ہنس دئے اور کہنے لگے کہ واقعی آپ ٹھیک کہہ رہے تھے ۔ واقعی پاکستانی سیاست دلچسپ اور عجیب و غریب ہے ۔
سیاست میں کوئی بھی بات دو جمع دو چار کی طرح طے نہیں ہوتی ۔ یہاں دوست ہوکر بھی کوئی دوست ، دوست اور دشمن ہوکر بھی کوئی دشمن ، دشمن نہیں ہوتا۔ دوستی اور مفاہمت کے دنوں میں بھی ایک دوسرے کے خلاف چالیں چلائی جاتی ہیں ، یوں بے نظیر بھٹو اور جنرل پرویز مشرف کے مابین بھی نہ صرف مخالفانہ بیانات کا سلسلہ جاری رہے گا بلکہ حسب ضرورت ایک دوسرے کے خلاف چالیں بھی چلائی جائیں گی ، لیکن معاملہ پوائنٹ آف نوریٹرن کی طرف کبھی نہیں جائے گا ۔ کم از کم مسقبل قریب میں ایسا ہر گز نہیں ہوگا۔بے نظیر بھٹو اور جنرل پرویز مشرف کا ایک دوسرے کے ساتھ چلنا بھی اتنا آسان کام نہیں ہے لیکن میرا اندازہ ہے کہ دونوں اس وقت ایک دوسرے کو برداشت کرتے رہیں گے جب تک امریکہ چاہے گا ۔ ہاں البتہ اگر کبھی ایسا مرحلہ آیا کہ امریکہ جنرل پرویز مشرف سے یکسر مایوس ہوگیا یا پھر یہ کہ وہ انہیں اپنے لئے بوجھ سمجھیں تو بے نظیر بھٹو صاحبہ جنرل پرویز مشرف کے ساتھ حقیقی جنگ شروع کرنے میں دیر نہیں لگائيں گی ۔
اندر کی کہانی سے آگاہ لوگ بتاتے ہیں کہ نیگرو پونٹے جہاں جنرل پرویز مشرف کے لئے پیغام لائے تھے ، وہاں انہیں نے بے نظیر بھٹو کو بھی صاف لفظوں میں بتادیا ہے کہ وہ اپنے حدود میں رہیں اور پرویز مشرف کے ساتھ بنا کے رکھیں ۔ جنرل پرویز مشرف پر بھی انہوں نے واضح کردیا ہے کہ وہ وردی اتار دیں ۔ ایمرجنسی اٹھادیں اور عام انتخابات کا انعقاد کروادیں جبکہ جواب میں وہ جنرل پرویز مشرف کی یہ درخواست مان چکے ہیں کہ امریکہ کی طرف سے معزول چیف جسٹس اور معزول ججوں کی بحالی پر زور نہیں دیا جائے گا ۔ یوں میرا اندازہ ہے کہ سپریم کورٹ سے اپنے حق میں فیصلہ لینے کے بعد جنرل پرویز مشرف جہاں وردی اتاردیں گے وہاں وہ ایمرجنسی کے خاتمے کا بھی کچھ دنوں میں اعلان کردیں گے ۔ اسی طرح وہ بہر صورت 8 جنوری 8002ء کو عام انتخابات کا انعقاد یقینی بنانے کی بھی کوشش کریں گے ۔ بے نظیر بھٹو سردست قاضی حسین احمد اورعمران خان کی ہمنوا بن کر پی سی او کے تحت حلف نہ اٹھانے والے ججوں کی بحالی کا مطالبہ کرتی رہیں گی لیکن رفتہ رفتہ وہ بھی اس مطالبے سے دستبردار ہوجائیں گی۔ جنرل پرویز مشرف کا اصل مسئلہ یہی پی سی او کے تحت حلف نہ اٹھانے والے جج ہیں اور اگر مغرب و بے نظیر بھٹو ان کی بحالی کے لئے زور نہ ڈالیں تو وہ دیگر ایشوز پر لچک دکھانے پر تیار ہیں ۔
جنرل پرویز مشرف اور بے نظیر بھٹو کا ایک دوسرے کے خلاف بیان بازی کی طرحمتحدہ مجلس عمل ، اے این پی اور پاکستان مسلم لیگ(ن) کی طرف سے انتخابات کے بائیکاٹ کی دھمکیاں بھی ڈرامہ کے سوا کچھ نہیں ۔ لکھ کر رکھ لیجئے کہ یہ سب جماعتیں انتخابات میں حصہ لیں گی اور ڈ ٹ کر حصہ لیں گی جبکہ میرا یہ بھی اندازہ ہے کہ میاں نواز شریف بھی بہت جلد پاکستان میں ہوں گے ۔ اندر کی کہانیوں کی خبر رکھنے والے لوگ بتاتے ہیں کہ جنرل پرویز مشرف کی طرف سے سعودی حکومت کو یہ درخواست کی گئی کہ وہ میاں نواز شریف کو پاکستان آنے سے روک دے لیکن میاں نواز شریف کو واپس جدہ لے جانے کے بعد پاکستان کے اندرسعودی عرب کے خلاف جو ردعمل سامنے آیا ہے ، اس کے بعد اب وہ مزید میاں نواز شریف کو روکے رکھنے کے حق میں نہیں ۔ یوں جب سعودی حکومت نے میاں نواز شریف کو رخصت کرنے کا فیصلہ کیا ہے تو وہ پاکستان آنے میں دیر نہیں لگائیں گے ۔

Thursday, November 22, 2007

کاہان کا بالاچ-آج مریوں کا ایک اور بیٹا پہاڑوں پر آزاد بلوچستان کا خواب دل میں لئے مار دیا گیا۔مظہر زیدی posted by shafique ahmed blog

کاہان کا بالاچ

وفاداری بلوچستان سے
آج مریوں کا ایک اور بیٹا پہاڑوں پر آزاد بلوچستان کا خواب دل میں لئے مار دیا گیا۔

بالاچ ، نواب خیر بخش مری کے چھ بیٹوں میں وہ بیٹا تھا جس کے بارے میں عام خیال یہی تھا کہ پچھلے چند برسوں سے وہی پہاڑوں پر بلوچوں کی مزاحمتی تحریک چلا رہا تھا۔نواب خیر بخش مری یا ’گونگا بابا‘ جو ساری زندگی اپنے قوم پرست اور سوشلسٹ نظریات پر ڈٹے رہے اب اپنی جد وجہد میں اپنا بیٹا بھی کھو بیٹھے ہیں۔سترہ جنوری انیس سو پینسٹھ میں کوئٹہ میں پیدا ہونے والے اس مری سپوت نے کوئٹہ کے گرامر سکول میں ابتدائی تعلیم کے بعد روس میں ماسکو سے سول انجینئرنگ کی ڈگری حاصل کی اور پھر کئی برسوں تک لندن میں رہا۔سن دو ہزار دو میں جنرل مشرف کے زیر سایہ ہونے والے انتخابات میں لندن سے ہی کاغذات نامزدگی جمع کرائے اور صوبائی الیکشن میں منتخب ہونے کے بعد حلف لینے کے لئے کوئٹہ واپس پہنچا۔

اسمبلی میں حلف لیتے وقت پاکستان سے وفاداری کی بجائے بلوچستان سے وفاداری کا نعرہ بلند کیا تو ایوان میں بڑی ہلچل مچی۔
بالاچ کے بھائی گزن مری کے بقول حلف اٹھانے کے بعد انہیں حکومتی حلقوں سے قاف لیگ میں شامل ہونے اور وزارتوں کی پیشکشیں بھی ہوئیں لیکن انہوں نے انکار کردیا جس کے بعد ان کے خلاف کئی پرانے مقدمات کو تازہ کرنے کی کوشش شروع ہوئی اور وہ زیر زمین چلے گئے۔
اگست سن دو ہزار چھ میں مری علاقے میں نواب اکبر بگٹی کی ہلاکت کے وقت بھی اس غار میں بالاچ مری ان کے ساتھ موجود تھے۔ ان کے بھائی گزن کے مطابق نواب بگٹی کے خلاف پاکستانی فوج کے آپریشن سے پندرہ منٹ پہلے نواب صاحب نے انہیں اور اپنے پوتے براہمداغ بگٹی کو وہاں سے جانے کے لئے کہا لیکن انہوں نے اپنے مہمان کو چھوڑ جانے سے انکار کیا جس پر نواب بگٹی نے زبردستی انہوں وہاں سے بھیجا۔بالاچ مری پچھلے کئی برسوں سے قبائیلی معاملات کے ساتھ ساتھ بلوچ مزاحمتی تحریک کے اہم ترین رہنماؤں میں تصور کئے جاتے تھے اور حکومت پاکستان کو مطلوب بھی تھے۔

پچھلے سال نواب اکبر بگٹی کی ہلاکت کے بعد بالاچ مری بلوچستان کے اہم رہنما ہیں جو ایک آپریشن میں ہلاک ہوئے ہیں۔

Tuesday, November 20, 2007

THREE PERVIZ وسعت اللہ خان تین پرویز


صدر اور جنرل مشرف
پیارے بچو ہماری دعا ہے کہ آپ سب بھی صدر مشرف اور جنرل پرویز مشرف کی طرح ہنسی خوشی مل جل کر کھائیں پئیں،
پیارے بچو آئیے آپ کو آج مثالی دوستی کے موضوع پر ایک دلچسپ اور سبق آموز کہانی سناتے ہیں۔

بہت سال پہلے دلی کے ایک محلے میں تین بچے ایک ہی دن پیدا ہوئے۔ایک کا نام رکھا گیا پرویز مشرف اور دوسرے کا نام اس کے والدین نے رکھا پرویز مشرف اور تیسرے بچے کا نام تھا پرویز مشرف۔ان تینوں پرویزوں اور ان کے والدین میں بڑی محبت اور حسنِ سلوک تھا۔وقت گزرتاگیا اور زمانے کا گرم و سرد انہیں کہیں سے کہیں لے گیا۔ان میں سے دو پرویز تو ملک اسلام آباد کی فوج میں بھرتی ہو گئے اور تیسرا پرویز ادھر ادھر ہوگیا۔

کرنا خدا کا یہ ہوا کہ جن پرویزوں کو فوج میں کمیشن ملا ان میں سے ایک والدین کی دعاؤں اور محنت کے طفیل ترقی کرتے کرتے چیف آف آرمی سٹاف کے عہدے پر پہنچ گیا اور دوسرے پرویز نے بھی اعلیٰ ترین جرنیل کے طور پر ترقی پائی اور اپنی پیشہ ورانہ کارکردگی کی بنیاد پر جوائنٹ چیفس آف آرمی سٹاف کمیٹی کا چیئرمین بن گیا۔ایک دن جب چیف آف آرمی سٹاف پرویز مشرف کسی ملک کے دورے سے واپس آ رہا تھا تو حاکمِ وقت نے اسے دھوکے سے مروانے کی کوشش کی۔اس موقع پر جوائنٹ چیفس کمیٹی کے چیئرمین پرویز مشرف نے دیگر جرنیلوں کے ساتھ مل کر چیف آف آرمی سٹاف پرویز مشرف کا بے جگری سے ساتھ دیا اور دشمن حاکم کو مار بھگایا۔

پھر جیسا کہ کہانیوں میں ہوتا ہے اتفاق سے دونوں پرویزوں کو اپنا بچھڑا ہوا تیسرا جگری یار پرویز مشرف بھی مل گیا۔دونوں پرویز اس تیسرے یار کے ملنے پر جذبات سے اتنے مغلوب ہوگئے کہ اسے ملک اسلام آباد کا صدر بننے کی پیش کش کردی اور تیسرے پرویز نے یہ پیشکش بخوشی قبول کرلی۔تینوں نے پہلے سے براجمان بڈھے کھوسٹ صدر کو ڈنڈا ڈولی کرکے ٹیکسی میں بٹھایا اور ملک لاہور کی طرف روانہ کر دیا۔اور اس کی جگہ تیسرا پرویز کرسی صدارت پر متمکن ہوگیا۔اس کے بعد دونوں فوجی پرویزوں نے تیسرے پرویز کو پہلے تو صدارتی سلوٹ مارا اور پھر آنکھ ماری اور پھر تینوں تا دیر پیٹ پکڑ ے ہنستے رہے۔

بلڈی سویلین کتنے بلڈی
ایک روز صدر پرویز مشرف نے چیف آف سٹاف پرویز سے پوچھا یار۔۔۔جس طرح ہیٹ سے خرگوش نکل سکتا ہے کیا اسی طرح ہیلمٹ سے کوئی سیاسی جماعت نہیں برآمد ہوسکتی۔ ویسے بھی میں یہ دیکھنا چاہتا ہوں کہ یہ بلڈی سویلینز آخر کتنے بلڈی ہوتے ہیں۔


ایک دن جب تینوں پرویز صدارتی محل میں بیٹھے تین پتی کھیل رہے تھے۔ اچانک ان میں سے ایک پرویز نے اعلان کیا کہ میں نوکری کرتے کرتے بور ہوچکا ہوں اس لیے اب سبکدوش ہوکر اپنے پوتوں نواسوں کے ساتھ کھیلنا چاہتا ہوں اور مطالعے اور گولف کورس میں وقت گزارنا چاہتا ہوں۔اب تم دونوں ایک دوسرے کے ساتھ رہو۔میرے مشوروں کی جب بھی ضرورت ہو میں حاضر لیکن مجھے روکنے کی ضد نہ کرنا۔چنانچہ صدر پرویز مشرف اور چیف آف آرمی سٹاف جنرل پرویز مشرف نے بڑے بھاری دل کے ساتھ اپنے جگری یار جوائنٹ چیفس آف سٹاف کمیٹی کے سربراہ جنرل پرویز مشرف کو الوداع کہا اور پھر رموزِ مملکت سلجھانے میں لگ گئے۔

ایک روز صدر پرویز مشرف نے چیف آف سٹاف پرویز سے پوچھا۔یار۔۔۔جس طرح ہیٹ سے خرگوش نکل سکتا ہے کیا اسی طرح ہیلمٹ سے کوئی سیاسی جماعت نہیں برآمد ہوسکتی۔چیف آف سٹاف نے کہا کہ نکل تو سکتی ہے لیکن آخر اس کی ضرورت کیا ہے۔صدر پرویز مشرف نے کہا کہ تو تو اکثر فوجی امور میں مصروف رہتا ہے اور میں بیٹھا بیٹھا بور ہوتا رہتا ہوں۔پارٹی ہوگی تو میری بھی کچھ مصروفیت ہوجائے گی اور ویسے بھی میں یہ دیکھنا چاہتا ہوں کہ یہ بلڈی سویلینز آخر کتنے بلڈی ہوتے ہیں۔

چنانچہ چیف آف آرمی سٹاف نے اپنے کچھ ماتحتوں کے ہمراہ ایک پارٹی تشکیل کرکےصدر کے حوالے کردی تاکہ صدر کا دل لگا رہے۔صدرِ مملکت شغل شغل میں اس پارٹی کے سویلینز سے مشورے کر کے وقت گزاری کرتے لیکن آخری مشورہ ہمیشہ اپنے جگری چیف آف آرمی سٹاف کا ہی مانتے۔

اس مثالی ہم آہنگی کےنتیجے میں انہیں بہت فائدہ ہوا۔مثلاً دونوں نےمل کر جب ملکی امور، اپنے سویلین ماتحتوں اور سویلین پارٹی پر نگاہ رکھنے کے لئے نیشنل سیکورٹی کونسل نامی ایک ادارہ تشکیل دیا تو اس کا ایجنڈہ صدر پرویز مشرف نے چیف آف آرمی سٹاف پرویز مشرف کے ساتھ مشترکہ طور پر ہی بنایا۔اس کے سبب اس کونسل نے جتنے بھی فیصلے کئے بلا چون و چرا کئے۔کونسل کے دیگر ارکان کی مجال نہیں تھی کہ دونوں کی مشترکہ خواہش سےانحراف کرسکیں۔
تو بچو یہ ہوتی ہے اتحاد کی برکت!

دوسرا فائدہ یہ ہوا کہ ملک اسلام آباد کی حکومت میں ایک روانی اور استحکام آگیا۔جہاں صدر، چیف آف آرمی سٹاف اور وزیرِ اعظم نامی کوئی عہدیدار مل کر حکومتی پالیسیاں طے کرتے تھے۔

پرویزوں نے پہلے سے براجمان صدر کو ڈنڈا ڈولی کر کے ٹیکسی میں بٹھایا کر لاہور کی طرف روانہ کر دیا

صدر مشرف کی حکومت سے پہلے اقتدار کی یہ تکون مستقل کھینچا تانی کا شکار رہتی تھی۔لیکن صدر مشرف اور جنرل مشرف نے اس تکون کو ایک استحکام بخشا جس کے سبب وزیرِ اعظم بھی سیدھا رہتا تھا اور ملک اسلام آباد کی تاریخ میں پہلی مرتبہ کسی ایک منتخب حکومت نے پانچ برس پورے کئے۔

صدر مشرف سے پہلے کے ادوار میں چیف آف آرمی سٹاف کو تین برس سے زیادہ اپنے عہدے پر رہنے کے لیے بڑے پاپڑ بیلنے پڑتے تھے۔لیکن جنرل پرویز اور صدر پرویز کی یاری نے یہ مسئلہ بھی حل کردیا اور جنرل پرویز مشرف نے جب بھی یاد دلایا کہ انکی چیف آف سٹاف کے عہدے کی مدت قریب الختم ہے۔صدر پرویز مشرف اپنا قلم اپنے دوست کی طرف یہ کہہ کر بڑھا دیتے۔۔۔۔یار تو خود ہی اپنی توسیع کی فائیل پر میری طرف سے دستخط کرلے۔۔۔۔۔

یہ صدر مشرف اور جنرل پرویز مشرف کی یاری کا ہی تو ثمر ہے کہ جب سپریم کورٹ نامی عدالت کے جج آپے سے باہر ہونے لگے اور انہوں نے دشمنوں کے ساتھ مل کر صدر پرویز مشرف کو چلتا کرنے کی ٹھانی تو یہ چیف آف آرمی سٹاف جنرل پرویز مشرف ہی تھے جنہوں نے اپنے بچپن کی دوستی کا حق یوں نبھایا کہ صدر مشرف کے علم میں لائے بغیر ایمرجنسی لگا دی ۔سرکش ججوں کےمنہ سی دیئےاور دیگر اول فول بکنے والوں کو خاک چٹوادی۔

صدر مشرف کو اگرچہ یہ بات کچھ زیادہ نہیں بھائی کہ جنرل پرویز مشرف نے ان سے پوچھے بغیر ایمرجنسی لگا دی۔لیکن پھر یہ سوچ کر جنرل مشرف کو کچھ نہیں کہا کہ جو کام میں امریکی دباؤ میں دو ماہ پہلےنہ کرسکا وہ کام میرے وفادار دوست چیف آف سٹاف نے پلک جھپکتے میں کر ڈالا۔اگر مجھ سے پوچھ کر کرتا تو شاید میں اجازت نہ دے پاتا۔شکر ہے بات بن بھی گئی اور رہ بھی گئی۔

اور بچو ! وفاداری و دوستی کی اس کہانی میں مزید چار چاند اس طرح لگے جب چیف آف آرمی سٹاف جنرل پرویز مشرف نے اپنے دوست اور باس صدر پرویز مشرف کو یہ اختیار منتقل کردیا کہ صدر اپنی مرضی سے ایمرجنسی کے اعلان میں تبدیلی کر سکتے ہیں اور اسے ختم بھی کرسکتے ہیں۔

پیارے بچو یہ بات تو عجیب و غریب نہیں ہے کہ ایک باس اپنے ماتحت کو کوئی اختیار دے دے۔لیکن دنیا کی حکومتی تاریخ میں شاید پہلی مرتبہ ایسا ہوا ہے کہ کوئی ماتحت اپنے باس کو کوئی اختیار منتقل کرڈالے یا باس کے ہوتے ہوئے باس کا اختیار استعمال کرلے۔ایسے معجزے ملک اسلام آباد المعروف سب سے پہلے پاکستان میں ہی ممکن ہیں۔

بچو اگر آپ کو صدر پرویز مشرف اور جنرل پرویز مشرف کی مثالی دوستی کے بارے میں مزید مواد درکار ہے تو اس کے لیےصدر کی خودنوشت ان دی لائن آف فائر پڑھنا بہت ضروری ہے۔اس کتاب میں صدر مشرف نے اپنے دوست جنرل مشرف کے کارنامے تفصیلاً اجاگر کرتے ہوئے زبردست خراجِ تحسین پیش کیا ہے۔

پیارے بچو ہماری دعا ہے کہ آپ سب بھی صدر مشرف اور جنرل پرویز مشرف کی طرح ہنسی خوشی مل جل کر کھائیں پئیں، کھیلیں کودیں اور دودھوں نہائیں پوتوں پھلیں۔
آمین۔ ثم آمی

ڈان اخبار اداریہ: ’کرم کے حالات پر قابو نہ پایا گیا تو فرقہ وارانہ تنازعات ملحقہ اضلاع میں پھیل سکتے ہیں‘

خیبرپختونخوا کے قبائلی ضلع کرم میں گزشتہ چند ماہ سے صورت حال عدم استحکام کا شکار ہے، ایسے میں جمعرات کو پیش آنے والا ہولناک واقعہ حیران کُن...