Monday, April 21, 2008
Jang Group Online
Jang Group Online
Wednesday, April 9, 2008
اشتیاق بیگ صاحب کا کالم پڑھيے میجر جنرل جے ذبلیو ہڈ کے متعلق
Jang Group Online
Tuesday, April 8, 2008
شاہ عبداللطیف بھٹائی اور یاد شہید کر بلا
شاہ عبداللطیف بھٹائی اور یاد شہید کر بلا
ولادت ونسب نامہ:
آپ سندھ کے ضلع حیدر آباد کے علاقے ہالہ تالوکہ کے گاوں کٹھیاں میں 1689ء بمطابق 1102ھ میں تشریف لائے۔ آپ کے آباء و اجداد افغانستان کے علاقے ہرات سے تشریف لائے تھے ۔ آپ موسوی الکاظمی سید ہیں اور آپ کا شجرہ نسب ستائیس ( 27) پشتوں بعد ساتویں امام اہلبیت حضرت سیدنا امام موسٰی بن جعفر الکاظم سے ہوتا ہوا سرکار ختمی مرتبت سے جا ملتا ہے ۔ آپ کا نورانی نسب نامہ اسطرح ہے۔
حضرت سید عبداللطیف شاہ بھٹائی بن سید حبیب شاہ بن سید عبدالقدوس شاہ بن سید جمال شاہ بن سید عبدالکریم شاہ بن سید لال محمد شاہ بن سید عبدالمومن شاہ بن سید میر علی شاہ بن سید حیدر شاہ بن سید میر علی شاہ بن سید محمد شاہ بن سید حسین شاہ بن سید علی شاہبن سید یوسف شاہ بن سید حسین شاہ بن سید ابراہیم شاہ بن سید علی شاہ بن سید حسین علی اکبری بن امامزادہ جعفر ثانی بن سیدنا حضرت امام کاظم بن سیدنا حضرت امام جعفر صادق بن سیدنا حضرت امام محمد باقربن سید نا حضرت امام زین العابدین بن سیدنا امام حسین شہید کربلا بن سیدناامام علی المرتضٰی شیر خدا۔
ابتدائی حالات:
آپ کی ابتدائی تعلیم و تربیت انتہائی شاندار ماحول میں ہوئی اور آپ کو اسلامی و روحانی ماحول میسر آیا۔ آپ قرآن مجید کی تعلیمات کے ساتھ ساتھ احادیث نبوی شریف کے بھی جید عالمِ دین تھے۔ سندھی زبان وادب کے ساتھ ساتھ فارسی و عربی میں بھی مہارت تامہ رکھتے تھے۔ ان کے علاوہ سنسکرت، سرائیکی، اردو اور بلوچی زبانوں کا بھی وسیع علم تھا۔ آپ نہ صرف سندھ بلکہ عالمی ادباء و صوفیاء میں ایک قدآور شخصیت ہیں۔
سیرو سیاحت:
سیر و سیاحت صوفیائے کرام اور اولیائے عظام کی سیرت کا اہم جزو رہی ہے۔ آپ کو بھی ہنگلاج ، جوناگڑھ، لاہوت، لکھپت ، جیلسلمیرکے علاوہ تھرپارکر کے صحراوں میں سیاحت کا موقع ملا۔
آپ عملی علم پر یقین رکھتے تھے اور مشاہدات و مکاشفات کے ذریعے علمی خزائن اکھٹے کئے۔
ازدواج:
1713ء میں آپ نے کوٹری کے رئیس مغل بیگ کی صاحبزادی حضرت سعیدہ بیگم سے عقد فرمایا۔ آپ کی زوجہ محترمہ آپ کی حیات میں ہی انتقال فرما گئیں۔
تعلیمات:
آپ نے اپنی تعلیمات میں اتباع رسول اکرم اور محبت اہلبیت اطہار کا بکثرت ذکر فرمایا ہے اور جابجا اپنے اجدادِ طاہرین کی مدح سرائی کی ہے۔ آپ کی تعلیمات مندرجہ ذیل نقاط پر زور دیتی دکھائی دیتی ہیں۔
1۔نسل انسانی کی وحدت اور باہمی ربط کی بنیاد
2۔سماجی مراتب سے قطع نظر تمام عالمِ انسانیت کی برابری
3۔عظمتِ کار و کسب اور ارتقائے مراتبِ مادہ و روحانیت
4۔معاشرے کے مختلف طبقات میں یکجہتی۔
سماع سے رغبت:
حضرت شاہ صاحب محفل سماع کا شوق رکھتے تھے اور خود بھی قوالی کیا کرتے تھے۔ آپ آلات موسیقی و راگ وغیرہ سے بخوبی آشنا تھے اور فن قوالی کو روحانی بلندی کا اہم ذریعہ قرار دیتے تھے۔ آپ کے زیر استعمال طنبورہ بھٹ شاہ کے میوزیم کی زینت ہے۔
آخری لمحات و انتقال:
ُُآپ نے 14صفرالمظفر 1165ہجری بمطابق 1752ء کو مریدین و اراد تمندان کو قوالی کا حکم دیا اور خود ایک کپڑے کی چادر اوڑ ھ کر اپنے مخصوص طریقہ نشست سے بیٹھ گئے قوال قوالی کرتے رہے اور شاہ صاحب بلاجنبش سماعت فرماتے رہے تین روز گزرنے کے بعد جب قوال تھک گئے تو انہوں نے شاہ صاحب کی جانب نظر کی مگر شاہ صاحب نہ جانے کس لمحے واصل بحق ہو چکے تھے۔
تدفین و تعمیرِمزار:
آپ کو آپ کی جائے قیام ۔۔"بھٹ"یعنی " ریت کا ٹیلہ" میں دفن کیا گیا جہاں آپ 1742ء کو مستقل طور پر رہائش پذیر ہو گئے تھے اور دس سال متواتر وہیں قیام فرمایا۔ آپ نے اپنے اور اپنے مریدین کے لئے چند کمرے اس ٹیلے پر تعمیر کئے تھے مگر آپ خود اس ٹیلے پر ایک درخت کے نیچے بیٹھ کر ریگزار کربلا اور تکالیف امام عالیمقام کو یاد کرتے اور اس یاد میں زاروقطار روتے ، گریہ زاری کرتے، آہیں بھرتے اور سسکیاں لیتے تھے۔ غمِ شہید کربلامیں آپ نے ہمیشہ سیاہ لباس زیب تن فرمایا۔
آپ کا مزار اقدس آپ کے عقیدت مند اور سندھ کے فرمانروا میاں غلام رسول شاہ کلہوڑو نے تعمیر کرایا اور میر ناصر خان ٹالپرنے اس کی تعمیر نو اور تزئین و آرائش کی روائیتی سندھی طرز تعمیر اور فن معماری کے باعث آپ کا روضہ اقدس سندھ کا خوبصورت ترین مزار ہے۔
سالانہ عرس:
آپ کا سالانہ عرسِ وصالِ 14 صفر کو نہایت تزک و احتشام سے منایا جاتا ہے جس میں نہ صرف ملک کے طول و عرض بلکہ بیرون ملک سے بھی آپ کے کروڑ وں عقیدت مند جبینِ نیاز خم کئے حاضری دیتے ہیں۔
آپ کے علمی آثار:
شاہ صاحب نے متعدد علمی یادگاریں اخلاف کے سپرد کی ہیں جن میں سب سے اہم علمی اثاثہ " شاہ جو رسالو " کے نام سے علمی و ادبی حلقوں میں معروف ہے۔ اس سے قبل آپ کے جداعلیٰ شاہ عبدالکریم بلڑی کا رسالہ اہلِ سندھ کا علمی اثاثہ تھا جو شاہ صاحب کے پاس محفوظ رہا۔
شاہ جورسالو:
حضرت شاہ صاحب کے اشعار و افکار آپ کے مرید تیمر فقیر نے قلمبند کئے اور انہیں "گنج" یعنی خزانے کا نام دیا ۔ آپ کی خادمہ مائی نعمت نے بھی اس کام میں ان کی مدد کی۔ یہ نسخہ تیمر فقیر کے ورثاء کے پاس محفوظ رہا بعدازاں اس نسخے کی نقول تیار کی گہیں۔ شاہ صاحب کے انتقال کے 114سال بعد 1866ء میں ایک جرمن دانشور جناب ارنسٹ ٹرمپ نے سب سے پہلے" شاہ جو رسالو" کو جرمنی سے شائع کرایا جس کے بعد متعدد دانشوران نے ۔"شاہ جو رسالو" کی طباعت پر توجہ دی اور شاہ صاحب کے افکار و اشعار نے عالمگیر شہرت حاصل کی۔
"شاہ جو رسالو" 30 ابواب پر مشتمل ہے جنہیں " سُر" کا نام دیا گیا ہے۔ یہ ابواب درج ذیل ہیں:
1 ۔ سُر کلیان 2۔ سُر یمن کلیان 3۔ سُر پربھتی 4۔ سُر عصا 5 ۔ سُر برووسندھی
6۔ سُر کپائتی 7۔ سُر دھر 8۔ سُر رِپ 9۔ سُر کریال 10۔ سُر بلاول
11۔ سُر سارنگ 12۔ سُر کھمبٹ 13۔ سُر سُری رگ 14۔ سُر سموندھی 15۔سُرکھمبٹ 16 سُررام کالی 17۔ سُر پورب 18۔ سُر کیڈارو 19۔ سُر ماروی 20۔ سُر ساسوی 21۔ سُرماوزوری 22۔ سُردیسی 23۔ سُر کوہیاری 24۔ سُرحسینی 25۔ سُر کمود
26۔ سُر مومل ر انو 27۔ سُرلیلاچنیسہ 28۔ سُرسورتھ 29۔ سُرسوہنی 30۔ سُر گھاتو
شاہ جو رسالو اور ذکر حسین:
شاہ جو رسالو میں اہلبیت اطہار کی عظیم ہستیوں کو متعدد مقامات پر خراج تحسین پیش کیا گیا ہے۔ اہلِ عشق کے کارواں سالار، فرزند رسول ، سیدالشہداء ، تاجدارِ کربلا سیدنا امام عالیمقام حضرت امام حسین کی لازوال قربانی شاہ صاحب کے اشعار میں واضح طور سے بیان کی گئی ہے جو شاہ صاحب کی اہلِ بیتِ اطہار سے مؤدت و محبت کی عکاس ہے۔ اکثر اشعار "سُر کیڈارو جو کربلا" یعنی کربلا کا میدان جنگ میں رقم کئے گئے ہیں۔
اردو ادب کے قارئین کے لئے ان اشعار کی نثری تلخیص اور اردو ترجمہ پیش خدمت ہے۔
۔۔باب اول۔۔
1۔ ہلال محرم نظر آگیا جو اپنے ساتھ ایک شہزادے کی ناقابلِ فراموش یادیں لے کر آیا ہے۔ صرف خدا راز شہادت سے آگاہ ہے اور وہ جو چاہتا ہے کرتا ہے۔
2۔ ہلالِ ماہِ محرم شہزادے کی تلخ یادیں لے کر آیا ہے۔ اہلِ مکہ و مدینہ نے کیسا المیہ دیکھا۔ بے شک خدا لائقِ حمد ہے جو ایسے احکامات جاری کرتا ہے۔
3۔ ماہِ محرم تو آگیا مگر امام تشریف نہیں لائے۔ اے والی مد ینہ، اے میرے آقا!برائے مہربانی مجھے اپنے پاک امام سے ملنے دیجئے۔
4۔ ماہِ محرم آگیا مگر میرے آقا نہیں آئے۔ اے امیر مدینہ! میرے پیارے سردار، زراہِ لطف مجھے میرے امام کی زیارت عطا کریں۔
5۔ تاجدارِ مدینہ نے اپنے جانثاروں کے ہمراہ مدینہ چھوڑا اور ضروری سازوسامان کے ساتھ ایک طویل معرکے کا رخت باندھا۔
6۔ امام اور ان کے تابعین نے سفر کیا اور سب اپنے راہواروں پر سوار تھے۔ طویل اور تھکا دینے والی مسافرت نے ان بہادروں کے بدن جھلسا دیئے۔
7۔ شہزادے نے مدینہ چھوڑا مگر پھر لوٹ کر نہیں آئے۔ اے رنگساز! میرا لباس سیاہ کر دے۔ میں ان مقدس مسافروں کا سوگوارہوں جنہوں نے خیر کے لئے سب کچھ قربان کیا۔
8۔ میری بات غور سے سنو! تمہیں جاننا چائیے کہ عام طور سے جو مظلومانہ شہادت بیان کی جاتی ہے
وہ درحقیقت امام اور ان کے ساتھیوں کے لئے عرس وصال ہے ۔ یہ عشق کی داستان ہے جس سے یزیدمحروم تھا۔ حقیقت میں شہادت اولادِ علی کے لیے خدا سے ملاقات کا وسیلہ ہے۔
9۔ المیئہ شہادت لطفِ الٰہی تھا۔ یہ عشق الٰہی کا ثبوت ہے جس سے یزید محروم تھا۔ حقیقت میں نبی اکرم،امام اور امام کے والدین منشائے ایزدی پر آنے والے واقعات شہادت میں راضی تھے کیونکہ امت نے اس سے استفادہ کرنا تھا۔
10۔ امام کی المناک شہادت خالصتاً عطیہ خداوندی ہے۔یہ محبت کا اشارہ ہے جس سے یزید محروم تھا۔ یہ امام اور بقا کا باہمی رشتہ ہے۔
11۔ شہادت کی سختیاں امتحان قدرت ہے جسے وہی سمجھ سکتا ہے جسے علمِ لدنی حاصل ہو۔ صرف وہی مضمرات شہادت اور قضیہ کربلا کو جان سکتا ہے۔
آج امیر المومنین! مدینہ چھوڑ کر جا رہے ہیں۔ یہ صرف جا نہیں رہے بلکہ ہمیشہ ہمیشہ کے لئے مدینہ کو خیرباد کر رہے ہیں افسوس صد افسوس، وہ مدینہ چھوڑ کر جا رہے ہیں۔ سورج اور چاند اکٹھے ہو کر پیغمبر اکرم کی بارگاہ میں تعزیت کو حاضر ہوئے ۔ افسوس صد افسوس طلوع شہادت تک د نیا تاریکیوں میں کھو چکی تھی۔
۔۔باب دوئم۔۔
1۔ تاجدارِ مدینہ نے مدینہ چھوڑا اور وہ گھوڑوں پر سوار تھے۔ ان کے پاس خنجر، نیزے، باز، کلہاڑے موجود تھے۔ مولا علی کی اولاد اپنی لڑائیوں میں یہ فولادی ہتھیار استعمال کرتی تھی۔
2۔ چاند نظر آیا اور مدینے کا خوبصورت جو ان نیزے، خنجر، باز و طبل کے ساتھ مدینہ سے روانہ ہوا۔ حضرت علی کی اولاد ناقابلِ شکست تھی اور دشمنوں کے ساتھ ان ہتھیاروں سے نبرد آزما ہوتی تھی۔
3۔ مدینہ کے نوجوان آقا مدینہ چھوڑ کر روانہ ہوئے اور ان کے پاس طبل ، باز ، نیزے، علم موجود تھے۔ علی کی اولاد ان ہتھیاروں کے ساتھ دشمن کی صفوں میں تباہی کر دیتی تھی۔
4۔ انہوں نے میدانِ کربلا میں اپنے خیمے گاڑے اور بے خوفی کے ساتھ یزیدی طاقتوں سے پنجہ فگن ہوئے۔ جنگ کی ہولناکی جب کہ تلواریں ٹکرا رہی تھیں وہ ڈٹے رہے۔
5۔ ذریت پیغمبر اسلام کے جانباز کربلا میں خیمہ نشین ہوئے اور اپنی مصری تلواروں کے ساتھ جھوٹے دشمنوں کی صفوں میں ہیبت پھیلا دی۔
6۔ شیر سید، انسان کامل کربلامیں دشمنوں کے مدمقابل آئے اور بہادری کے ساتھ اپنی مصری تلواروں سے کشتوں کے پشتے لگا دئیے ۔ میر حسین کے جارحانہ حملوں کے باعث ان کے بہادر دشمنوں کے دل بھی دہل گئے۔
7۔ جو ان بہادر کربلا پہنچے۔ زمین اس ماجرے کو دیکھ کر لرز اٹھی اور آسمان میں تھر تھلی پھیل گئی۔ یہ کربلا والوں کا ذات الٰہی سے عشق اور اعتماد کا مظاہرہ تھا۔
8۔ انسان کامل کربلا میں تشریف لے آئے اور نتیجہ جانتے ہوئے بھی قیام پذیر ہوئے اور اکٹھے بیٹھ کر کہا کہ امام حسین کے لئے یہ کیا قضیہ پیش آگیا۔
9۔ انسان کامل! امیر المومنین کربلا تشریف لے آئے ۔ انہوں نے حکم تقدیرپہ دشمنوں پہ تیر برسائے جو کہ حکم الٰہی تھا۔
10۔ یہ اللہ کا دستور ہے کہ اپنے پیاروں اور منتخب بندوں کی موت آزمائش اور تکالیف کے ذریعے اپنا قرب عطا کرتا ہے ۔ اللہ بے نیاز ہے اور جو چاہتا ہے کرتا ہے۔ اس المئے میں ایک گہرا راز محسوس ہوتا ہے۔
۔۔باب سوئم۔۔
یا علی ! یاعلی! یتیموں پر کیا گزری ۔ یا امام یہ حکم الٰہی تھا جو تسلیم کیا گیا۔ موت نے یہ جدائی ڈال دی۔ بی بی (سیدہ فاطمہ زھرا ) نے ایک دفعہ کنکر اور پتھر ایک برتن میں ڈال کر آگ پر رکھ دیئے مگر جن کے لئے یہ کیا گیا وہ آج ایک خونریز معرکے میں برسرپیکار ہیں۔
۔۔باب چہارم۔۔
1۔ خاک کربلا ایک غیر معمولی فضا کے ساتھ شبنم آلود ہو گئی۔ اولادِ اسد اللہ حضرت علی کو اسی جگہ شب بسر کرنا تھا ۔
2۔ اے یزید اولاد علی کے ساتھ بُغض ختم کر دے تو وہ مقام و مرتبہ حا صل نہیں کر سکتا جو امام حسین کا مقدر ہے۔
3۔ افسوس ان لوگوں پر جنہوں نے ذریتِ علی سے بغض رکھا تھا اور یزید کے ساتھی بنے۔
4۔ اے بھائی لشکرِ یزید سے دور رہ جو اولادِ علی سے بغض رکھتے ہیں۔
5۔ کوفیوں نے یزید کا ساتھ دے کر اچھا نہیں کیا۔ ان پلید لوگوں نے میدان میں امام عالیمقام کا محاصرہ کر لیا جس کے نتیجے میں آپ کی شہادت ہو گئی۔
6۔ کوفیوں نے آپ کو خط لکھے اور خدا کی قسمیں دیں۔ اپنا آقا نامزد کرتے ہوئے ایک دفعہ تشریف لانے کو کہا۔
7۔ اب یہی کوفی کربلا میں آپ کو پانی دینے سے روک رہے تھے اور امام کے شہزادے مولا علی مشکلکشاکو خیام سے باہر آکر یاد کر رہے تھے۔یارسول عربی ان مشکل حالات میں ہماری مدد فرمائیے۔
8۔ صبح ایک پرندہ کربلا سے مدینہ آیا اور روضہ رسول پر فریاد کی کہ میں نے آہنی ہتھیار دیکھے ہیں۔ اے میرے آقا محمد عربی ،امام کی مدد فرمائیے۔
9۔ صبح ایک پرندہ کربلا سے روضہ رسول پر آیا اور کہا؛ " بہادر امام دشمنوں کے نرغے میں ہیں۔ محمد عربی ان کی مدد کیجیے۔
10۔ آج صبح ایک پرندہ مدینہ آیا جس نے کل کربلا سے رختِ سفر باندھا تھا۔ جس نے کہا،
" امام حسین خون میں لت پت انتہائی افسوسناک حالت میں ہیں اور آپ کے تمام ساتھی شہید ہو چکے ہیں۔؛؛۔
11۔ کربلا میں شہزادے کے خطبات گونج چکے تھے جن کے بعد سلطانِ کائنات کے سب جانثار بے دردی سے شہید کر دئیے گئے۔
امام تمام دن میدان میں رہے۔ آپ نے تمام دن شختیاں برداشت کیں۔ افسوس آپ کو اس ویران بیابان میںرہنا پڑا۔
اے کونج! صد افسوس کے ساتھ جب تو مدینہ جائے تو میرے نانا کو میرا سلام کہنا اور کہنا میرے تمام ساتھی ساتھ چھوڑ گئے۔ میں اکیلا رہ گیا۔ مولا رحمت کی بارش برسا۔
صد افسوس ! امام سارادن دشتِ بلا میں رہے۔(روضتہ الشہداء کی ایک روایت کے مطابق امام عالیمقام کے خون اطہر کو ایک پرندے نے اپنے پروں سے مس کیا اور روضہ رسول اکرم جا کر اس افسوسناک سانحہ کی خبر سنائی ۔ وہ پرندہ متعدد جگہوں پر اُڑا اور جہاں جہاں اس خون اطہر کے قطرے گرے وہاں وہاں یادِ شہید کربلا میں محافل و مجالس کا انعقاد کیا جاتا ہے۔
شاہ صاحب نے ان اشعار میں اس واقعہ کی طرف اشارہ کیا ہے۔
۔۔باب پنجم۔۔
1۔ امام حسین کے ساتھ نہ ان کے بڑے بھائی امام حسن تھے اور نہ کوئی اور جانثار ساتھی ان کا آبائی وطن بھی ان سے دور تھا۔اے یزید کیا ان حالات میں بھی تیرا امام پر حملہ کرنا ضروری تھا؟
2۔ افسوس ! اگر لشکر امام حسین میں امام حسین میں امام حسن بھی ہوتے تو اپنے برادر صغیر کے گرد اسطرح رہتے جیسے شمع کے گرد پروانے رہتے ہیں۔ دشمنوں کے حملوں کا کامیابی سے دفاع کرنے کے لئے امام عالیمقام کا مدد گار اب کون رہ گیا ہے۔
3۔ میدان جنگ میں تمام جنگجو بہادر نہیں ہوتے۔ صرف وہی شہادت پاتے ہیں جن کے نزدیک شکست شکست باعث خفت ہے۔
4۔ صرف وہی اپنے آپ کو آلات حرب سے مزین کرتے ہیں جنہیں دنیا میں رہنے کی ہوس ہوتی ہے۔ درحقیقت وہی بہادر ہے جو ان کے بغیر جنگ میں حصہ لیتا ہے۔
5۔ اے بہادر انسان! اگر تو فتح کا اتنا ہی خواہشمند ہے تو دین سے تمام شکوک و شبہات نکال دے۔ اپنے دشمن کو دوبدو لڑائی میں مصروف رکھ۔ اس پر تلوار سے حملہ کر اور اپنا دفاع بھی مت چھوڑ ۔ اگر تمہاری تلوار تمہارے دشمن سے ٹکرا گئی تو تم ایک بہادر آدمی گردانے جاؤ گے۔
6 حر امام کے پاس آیا ۔ وہ ایک بہادر اور جانباز انسان تھا۔ اس نے کہا کہ میں پروانے کی مانند شمع کا عاشق ہوں۔ اے بہادر آقا آپ کے جدپیغمبراسلام کی رضا کی خاطر میں آپ پر اپنا سر قربان کرنا چاہتا ہوں جو کہ باعث عظمت ہے۔
7۔ حر کی ہدایت اس کا مقدر تھی ۔ وہ ظالم فوج چھوڑ کر امام کے لئے لڑنے آیا۔ اس نے امام کی دست بوسی کی اور کہا کہ میں خود کو آپ پر قربان کرنا چاہتا ہوں جیسا کہ اللہ نے کہا ہے کہ وہ کسی انسان کو اس کی وسعت سے ذیادہ تکلیف نہیں دیتا۔ میں آپ کے لئے ہر ممکن کام کروں گا۔ امام اور یہ شیر دل حُر دونوں ہی دوران جنگ شہید ہو گئے۔
8۔ بہادر امام ایک بہت قیمتی خود پہنے میدان جنگ میں واضع کھڑے رہے۔ مقدس امام کے خود میں جواہر جڑے تھے۔ ان کی دستار مبارک عنقریب خون آلود ہونے والی تھی۔
9۔ امام کے دندان و ریش مبارک خون سے تر ہو کر ایک پھول کا منظر پیش کر رہے تھے۔ آپ کی دستار مبارک میدان جنگ میں چودہویں کے چاند کی طرح چمک رہی تھی۔ بروز حشر امت محمدیہ کے درمیان امام کی والدہ محترمہ آپ پر فخر کریں گی۔ امام مٹی میں ریزہ ریزہ ہو چکے تھے۔
10۔ امام کی ریش اطہر خون سے سرخ ہو گئی۔ آپ کے دندان مبارک موتیوں کی طرح چمک رہے تھے۔ آپ کی پیشانی ماہِ کامل کی طرح روشن تھی۔ اللہ آسمانوں کا نور ہے اور اس نور کی زمین پر جھلک امام کی پیشانی میں نمایاں تھی۔ امام کے چہرہ اقدس پر سجدوں کے نشان نمایاں تھے۔ آپ کی والدہ محترمہ آپ کے جسم اقدس سے کربلا کے کنکر دور کر رہی تھیں اور آپکے والد علی مرتضیٰ آپ کے زخموں سے خون صاف کر رہے تھے۔ خالقِ حقیقی نے شہادت امام کے باعث امت محمدیہ کو بخش دیا۔
11۔ میدان کربلا خون سے بھر گیا۔ امام کے گھوڑے کے قدم بھی خون میں ڈوبے تھے۔ سورج مغرب کی جانب ہو گیا تو بھی امام حملہ فرما رہے تھے۔
12۔ امامؑ نے کمر کے گرد تلواریں سر پر دستار باندھی تھی۔ امام نے میدان جنگ میں اپنے آبائے کرام کی بہادرانہ روایت کو برقرار رکھا۔
آج امام میدان جنگ سے نہیں لوٹے۔ اے مومنو! رو ، پیٹو، آپ کے پاس نہ خوراک تھی نہ پانی اور نہ ہی وہاں بارش ہوئی۔ وہ نوراتیں اور دس دن ایک سخت لڑائی میں مصروف رہے۔ امام کا گھوڑا خون سے سرخ زین باندھے تھا۔ شیر شہزادہ(حضرت قاسم) بھی شہید ہو گئے۔مومنو! رو، پیٹو۔
۔۔باب ششم۔۔
1۔ سید نا امام حسین کی جنگ تمام جہاں کے ساتھ امام حسن نے بھی سنی دوران جنگ سیاہ پروں والے پرندے قطار اندر قطار اڑتے رہے۔ یقینا امام نے اس کارعظیم سے خود کو اپنے والدین کو اور اپنے آباؤ اجداد کو ایک عظیم الشان منصب عطا کیا۔
2۔ مخلوق الٰہی کی تین اقسام نے مقدس امام پر گریہ کیا۔ انسان آبادیوں میں، ملاٹک جنتوں میں اور حیوانات جنگلوں میں مقدس امام کو روئے۔ پرندوں نے پیارے امام کے دنیا سے تشریف لے جانے کی خبر سن کر خود کو زمین پر گرا دیا۔
3۔ اے شہزادے! آپ جہاد کے شیدائی ہیں۔ جب تک آپ زندہ ہیں، خود کو دشمنوں کی تلواروں کی دھار سے جام شہادت نوش کرنے کے لئے آمادہ رکھیں۔ یہ چیلیں صدیوں سے انسانی گوشت کی بھو کی ہیں۔
4۔ ان مقدس ہستیوں نے اپنے قدم کبھی زمین پر نہ لگائے تھے۔ دشمنوں کی تلوار نے ان گھوڑوں کی زین کاٹ ڈالی جس کے باعث شہزادے زمین پر گر پڑے۔ ان چیلوں نے آپ کے تشریف لاتے ہی آپ کے ٹکڑے کرنے شروع کر دیئے۔
5۔ جیساکہ پہاڑوں پر بکریوں کے ریوڑ ہوتے ہیں ویسے ہی صحرائے کربلا ان چیلوں سے بھراتھا۔ یہ اِدھر ُادھر جارہے تھے اور لڑائی کر رہے تھے۔ شہداء کی ازواج اپنے شوہروں کے گہرے غم میں مبتلا تھیں۔ وہ سیاہ لباس پہنیں گی۔
6۔ چیلوں کا کوئی ضابطہ حیات نہیں ہوتا۔ یہ جنگوں کی پیاسی ہیں۔ میدان کربلا میں یہ امام حسین اور امام حسن کے صاحبزادے اور ان کے جانثار ساتھیوں پر اڑتی رہیں۔ یہ بہت خوش تھیں۔
7۔ چیلیں خوراک کی تلاش میں وسیع علاقے میں گھومتی ہیں۔ یہ سرگو شیوں میں ایک دوسرے سے میدان جنگ کی مسافت اور جگہ پوچھتی ہیں۔ انہوں نے بہادروں کے لشکر کا معائنہ کیا اور بزدلوں کو قطع نظر کیا۔
8۔ چیل گائے کا گوشت نہیں کھاتی۔ وہ خود والے بہادر سروں کی تلاش میں رہتی ہے۔
9۔ اے چیل! شہزادے کی آنکھیں نہ نکال نہ ہی ان کا گوشت کھا جب کہ تو ان کے لشکر پر آئے جو کہ میدان کربلا میں ریت میں دیا تھا۔ امام عالیمقامؑ کو قبل ازشہادت 909 زخم آئے۔ گزشتہ رات آپ کو آپ کی والدہ معظمہ نے روتے ہوئے خدا کے سپرد کیا تھا۔
10۔ اے چیل! تیرے پر گر جائیں اور تجھ پر رعشہ طاری ہو جائے کہ تو نے شہزادے پر پھول نہیں برسائے۔
11۔ چیلوں نے کافی فاقہ کشی کی ہے۔ جب سے بہادر لوگ جوان ہوئے اور ان کا پسندیدہ فعل جہاد ہے۔ ان چیلوں کو اب فکر خوراک نہیں رہی۔
12۔ جہاد کے شوقین بہادر جنگجونہیں رہے۔ امام کے سامنے کربلامیں سب نے اپنی جانیں قربان کر دی تھیں۔ درحقیقت ان لوگوں کا مقصد ہمیشہ راہ خدامیں جدوجہد کرنا ہے۔ ان کی شہادت کے بعد حور ان جنت نے ان کی سہرابندی کی اور ہار پہنائے۔
13۔ یہ سب لوگ مسلح جنگجو تھے۔ ایک بھائی، دو بھتیجے ان کے اعزا اور مخلص دوست، اللہ کے فضل سے انہوں نے اپنے دشمنوں کو مبارزے میں شکست دے دی۔ ان شہدا کو حوروں نے ہار پہنائے اور سہرا بندی کی۔
14۔ شہدا کا مقام جنت ہے۔ ان مقدس نفوس کو فردوس بریں میں خوش آمدید کہا گیا۔ فنا فی اللہ مقام کے بعد یہ اس مرتبہ اعلیٰ میں داخل ہوئے۔ اے پروردگار! اپنے احسان سے مجھے ان دمکتے چہروں کی زیارت عطا فرما۔
15۔ جو سیدنا امام حسن اور امام حسین سے عقیدت ہمدردی نہیں رکھتے وہ خالق وربّ جبّار کے قہر سے نہیں بچ سکیں گے۔
امامؑ کا ماتم کرو۔ شہدا کا ماتم کرو۔ تمہاری آنکھیں ان کے غم میں خون کے آنسو کیوں نہیں بہاتیں۔ جو امام کی سرداری کے قائل ہیں وہ اشکبار آنکھوں سے امام کا ماتم کریں۔ امام کاماتم کرو۔
اشعار شاہ بھٹائی سے درس حیات:
ان کانَ دینَ ُمحمد اً لَم یَستَقِیم اِلا بِقَتَلِی یا سُیوفُ خُذِینی
اگر کبھی بھی دین محمدمیرے قتل کے بغیر قائم نہیں ہو سکتا تو اے تلوارو آؤ میرے ٹکڑے ٹکڑے کر دو۔
امام عالیمقام نے اس شہادت عظمیٰ سے دین محمد کو قائم کیا ہے۔ اسوہ شبیری سنت نبوی ہے۔ تمام اولیائے کرام نے اسوہ حسینی کا درس دیا ہے اور اپنے اپنے الفاظ میں آپ کو بے انتہا خراج عقیدت پیش کیا ہے۔
سانحہ کربلا اور اس کے نتائج کے متعلق کہے گئے اشعار کھربوں سے بھی بڑھ کرہیں اورہنوز شعرائے کرام و عارفین عظام نواسۂ رسول کی بارگاہ میں اپنے اپنے انداز سے، اپنے اپنے الفاظ میں سرخروئی حاصل کر رہے ہیں۔
شہادت حسین اور اس کے نتائج کے متعلق بتاتے ہوئے مخبر صادق نے فرمایا،
ان لقتل الحسین حرارۃ فی قلوب المومنین لاتبردابدا
بے شک حسین کے قتل سے مومنوں کے دلوں میں ایک حرارت پیدا ہو گی جو کبھی ٹھنڈی نہیں ہو گی۔
قتل حسین کی یہی حرارت اسلام کی بقا کا باعث ہے اور دین محمدی اسی حرارت سے توانائی لے رہا ہے۔ یہی حرارت جب قال سے حال میں آتی ہے تو کنکر کوگہر بنا دیتی ہے۔ بندئہ خاکی کو ہمسایہ جبریل امیں بنا دیتی ہے۔ انسان کو ولایت اور سلوک الی اللہ سے روشناس کراتی ہے۔
حضرت شاہ صاحب نے اپنے دیوان ’’شاہ جو رسالو‘‘ میں متعدد مقامات پر اہل بیت اطہار کا تذکرہ کیا ہے۔ اسوہ شبیری کو مرکزی تخیل بناتے ہوئے سندھ کی لوک داستانوں کو نہایت موثر اور دلچسپ انداز میں بیان کیا ہے۔ جس کے باعث آپ کا دیوان نہ صرف علم و ادب کا انمول خزینہ ہے بلکہ سندھ کی تہذیب و ثقافت اور روایت و تاریخ کا بھی مستند ذریعہ ہے۔
عمر سومرو اور ماروی کی داستان ہو یا سوہنی مہینوال کا قصہ، خیرو شر کا ٹکراؤ ،حسینیت اور یزیدیت کا مبارزہ ہمیشہ عصری داستانوں میں باطنی طور مضمر ہے۔
شاہ صاحب کے کلام کے بغور مطالعے سے نہ صرف آپ کے قادر الکلام شاعر ہونے کا پتہ چلتا ہے بلکہ آپ کے ایک مستند مؤرخ ، باعمل مسلمان اور متبحرو جید عالم دین ہونے کا ثبوت بھی سامنے آتا ہے۔ آپ نے اپنے اشعار میں بکثرت آیات قرآنی، احادیث نبوی کے ساتھ ساتھ عربی و فارسی کے
ادبی الفاظ استعمال کئے ہیں، جو آپ کے وسیع مطالعہ کے آئینہ دار ہیں۔
حضرت شاہ صاحب نے بنی نوع انسان کو فنا و بقا کا مؤثر درس دیاہے۔ خود آپ نے اپنے کلام میں حقیقی فنافی اللہ، سید الشہداء امام حسین کو بے مثال خراج عقیدت پیش کیا اور حسینی فلسفئہ حیات کو اسلام کی نشاط ثانیہ کا نقطہ آغاز قرار دیا ہے، جس نے نہ صرف آپ کے نام بلکہ آپ کے کلام کو بھی لازوال عالمگیر شہرت عطا فرمائی ہے جو رہتی دنیا تک آنے والی نسلوں کو چراغ ہدایت ہے۔
حضرت شاہ عبداللطیف بھٹائی کا لوح مزار:
شاہ عبداللطیف بھٹائی شاعر ہفت زبان تھے۔ آپ نے نہ صرف سندھی بلکہ عربی اور فارسی کے علاوہ دیگر زبانوں میں بھی اشعار کہے ہیں۔ آپ کی فارسی کی ایک رباعی آپ کا لوح مزار ہے جس میں آپ نے ائمہ اہل بیت کی مدح سرائی کی ہے۔
گل محمد، گل علی، گل فاطمہ خیرالنسائ
گل حسن ، گل حسین، گل بود زین العبا
گل باقر و گل جعفر و گل موسیٰ کاظم، رضا
گل تقی ، گل نقی، گل عسکری مہدی، خدا
اس رباعی میں آپ نے چہار دہ معصومین کو گلستان وحدت کے مہکتے پھول بتایا ہے اور حضورنبی کریم سے لے کر امام محمد مہدی آخر الزمان تک گلدستۂ عصمت و طہارت کا انتہائی خوبصورت تعارف کرایا ہے۔
شاہ عبداللطیف بھٹائی اور یاد شہید کر بلا
الذولفقار کے بانی، ذوالفقار علی بھٹو کے لاڈلا شاہنواز بھٹو �
الذولفقار کے بانی، ذوالفقار علی بھٹو کے لاڈلا بیٹے ، شاہنواز بھٹو
ذوالفقار بھٹو اور نصرت بھٹو کے چار بچوں میں انتہائی ذہین شاہنواز بھٹو تھے اس کا نام بھی ذوالفقار بھٹو نے اپنے والد شاہ نواز بھٹو کے نام پر رکھا تھا جو ریاست جوناگڑھ کے دیوان ( وزیراعظم ) تھے اور اسی شاہ نواز خان کے کہنے پر جوناگڑھ کی حکمران نے پاکستان سے الحاق کا اعلان کیا لیکن یہ الحاق نہ ہوسکا اور بھارت نے وہاں پر اپنے افواج بھجوا کر جوناگڑھ ریاست پر قابض ہوگئے شاہ نواز بھٹو نے سندھ کے متنازعہ رہنما جی ایم سید کے ساتھ مل کر پہلی مرتبہ سندھ پیپلز پارٹی کی بنیاد بھی رکھی تھی -
بے نظیر بھٹو کے چھوٹے بھائی شاہنواز بھٹو نے ابتدائی تعلیم پاکستان میں حاصل کی تھی بعد میں اعلی تعلیم کیلئے برطانیہ چلے گئے اور آکسفورڈ میں ہی زیر تعلیم تھے کہ اس وقت کے ملٹری چیف ضیاء الحق نے ان کے والد وزیراعظم ذوالفقار علی بھٹو کو وزارت سے برطرف کرکے ایک مقدمے میں پھنسا دیا اس وقت دونوں بھائیوں مرتضی بھٹو اور شاہنواز بھٹو نے والد کی رہائی کیلئے بین الاقوامی طور پر مہم چلائی اور کئی ممالک کے سربراہوں سے ملاقاتیں کرکے ذوالفقار بھٹو کی رہائی کیلئے کوششیں کرنے پر زور دیاذوالفقار بھٹو کی رہائی کیلئے لیبیا اور فلسطین کے یاسر عرفات نے ضیاء الحق سے رابطہ بھی کیا اس دوران شاہنواز بھٹو اور مرتضی بھٹو نے والد کی بچائو کے مہم میں افغانستان کا دورہ کیا جہاں پر اس وقت روسی نواز کمیونسٹ حکومت قائم تھی اور انہی کی مدد سے انہوں نے الذوالفقار نامی تنظیم بنائی جنہوں نے ضیاء دور حکومت میںحکومت مختلف مختلف کارروائیاں بھی کیںتاہم دونوں بھائیوں کی والد کو بچانے کی کوششیں ناکام ہوئی اور ان کے والد کو 1979 میں پھانسی ہوئی -
ذوالفقار بھٹو کی پھانسی کے بعد الذوالفقار تنظیم کی سرگرمیوں میں بھی تیزی آئی اور 1980 ء میں اسی تنظیم نے کراچی میں عیسائیوں کے مذہبی رہنما پوپ کے دورہ پاکستان کے موقع پر بم دھماکہ بھی کرایا اس وقت بے نظیر بھٹو گھر پر نظر بند تھی جنہوں نے اس کی مذمت بھی کی 1981ء میں پی آئی اے کے جہاز کے اغواء میں بھی الذوالفقار کا ہاتھ تھا جہاز کے اغواء کے دوران ہائی جیکرز نے پاک فوج کے آفیسر لیفٹیننٹ طارق رحیم کو گولی مار کر قتل کردیا ہائی جیکرز کو شبہ تھا کہ وہ جنرل رحیم الدین جو اس وقت ضیاء الحق کے قریبی ساتھی تھے کے بیٹے ہے ہائی جیکرز نے اپنے مطالبات میں پیپلز پارٹی کے متعدد رہنمائوں کی رہائی کا مطالبہ بھی کیا جو اس وقت پورا کرلیا گیا - اور وقت گزرنے کے ساتھ ساتھ الذوالفقار کا نام مختلف کارروائیوں میں لیا جاتا رہا -
ذوالفقار علی بھٹو کی پھانسی کے تقریبا چھ سال بعد بھٹو فیملی کو ایک اور صدمے کا سامنا کرنا پڑا 18 جولائی 1985 ء کو شاہنواز بھٹو فرانس کے شہر نائیس میں مردہ حالت میں پائے گئے اس وقت ان کے ساتھ ان کے روسی طرز پر بنے گئے فلیٹ میں ان کی افغان نژاد بیگم ریحانہ بھی موجود تھی - 27 سالہ شاہنواز بھٹو کی موت کو ابتداء میں منشیات کے زیادہ استعمال بتایا گیا لیکن بھٹو فیملی نے اسے قتل قرار دیتے ہوئے اس کی پوسٹ مارٹم کا مطالبہ کیا اور کہا کہ شاہنواز بھٹو کو زہر دیا گیا اور اس میں ان کی بیگم ریحانہ کو مورد الزام ٹھہرایا - بھٹو فیملی کااس وقت یہ موقف تھا کہ پاکستان کی خفیہ ایجنسی آئی ایس آئی اس قتل میں ملوث ہے اور ریحانہ نے بطور ایجنٹ ان کیلئے کام کرتے ہوئے اپنے شوہر کو قتل کیا- شاہنواز بھٹو کی موت کی طرح اس کی پوسٹ مارٹم رپورٹ بھی پراسرار رہی اور اس کی موت کی حقائق کا پتہ نہیں چل سکا -
شاہنواز بھٹو کی بیوی ریحانہ شاہنواز کی موت کے سلسلے میں فرانسیسی حکام کو مشکوک تھی اور کچھ عرصے کیلئے اسے کسٹڈی میں بھی رکھا گیالیکن بعد میں اسے امریکہ جانے کی اجازت مل گئی شاہنواز بھٹو کی موت کے بعد مرتضی بھٹو شام چلے گئے اور الذوالفقار تنظیم بھی سائیڈ لائن ہوگئی کچھ عرصے بعدفرانسیسی حکام نے ریحانہ کو تفتیش کیلئے بلانا چاہا لیکن اس کی طرف سے مسلسل خاموشی کے بعد حکام نے ان کی غیر موجودگی میںسزا سنا ئی -
حامد میر کا کالم پڑھیے ذوالفقار علی بھٹو کے کارہایے نمایاں اور پرویزمشرف
Jang Group Online
Sunday, April 6, 2008
بھٹوتو ہمارا پیرومرشد ہے اور ہمارا تو سیاسی قبلہ بھی یہی ہے
| احمد رضا بی بی سی اردو ڈاٹ کام، کراچی |
| | |
| کیچڑ سے لتھڑے پیروں اور کپڑوں اور مٹی سے اٹے چہروں کے ساتھ لوگ بھٹو کے مزار پر حاضری دے رہے تھے۔ |
ذوالفقار علی بھٹو کی یہ پہلی برسی تھی جو بے نظیر بھٹو کے قتل بعد منائی گئی۔
اگرچہ تین اپریل کی شب ہونے والی برسی کی باقاعدہ تقریبات بارش کی نذر ہوگئیں جن سے پارٹی کے قائدین اور حکومتی عہدیداروں کو خطاب کرنا تھا اور ہر سال کی طرح بھٹو کے مشن کو جاری رکھنے کا عزم دہرانے کی ریت بھی نبھانی تھی۔ لیکن اس سے ان لوگوں کو کوئی فرق نہیں پڑا جو برسی کے لیے ملک کے طول و عرض سے وہاں پہنچے تھے۔
بہت سے لوگوں نے طوفان بادوباراں کے بعد گڑھی خدا بخش سے لاڑکانہ جانے والی سڑکوں پر تمام رات بدترین ٹریفک جام کے باعث اپنی گاڑیوں میں ہی بسر کی لیکن سرد رات ڈھلنے کے بعد اگلی صبح جب دن چڑھا اور ٹریفک کھلا تو لوگ مزار کے گرد دوبارہ جمع ہوگئے اور جیے بھٹو، زندہ ہے بھٹو زندہ ہے، تم کتنے بھٹو مارو گے ہر گھر سے بھٹو نکلے گا، زندہ ہے بی بی زندہ ہے کے نعروں سے فضاء گرماتے رہے۔
آندھی اور بارش کے بعد مزار کے اطراف کچی مٹی کیچڑ بن گئی تھی اور اسی کیچڑ سے لتھڑے پیروں اور کپڑوں اور مٹی سے اٹے چہروں کے ساتھ لوگ بھٹو کے مزار پر حاضری دے رہے تھے۔
حاضرین میں ہر عمر، جنس اور نسل کے لوگ شامل تھے۔ مرد، عورتیں، بچے، خواجہ سرا، سندھی، مہاجر، بلوچی، پنجابی، سرائیکی، پختون، قبائلی، بلتستانی اور کشمیری لیکن سب میں ایک شے مشترک تھی اور وہ تھی بھٹو خاندان سے محبت اور عقیدت۔ ان میں زیادہ تر لوگوں کا تعلق تو لاڑکانہ اور سندھ کے دوسرے حِصّوں سے تھا لیکن کئی افراد ایسے بھی تھے جو پاکستان کے زیر انتظام جموں کشمیر اور وفاق کے زیرانتظام قبائلی علاقوں کے علاوہ صوبہ سرحد، بلوچستان اور پنجاب کے مختلف حصوں سے آئے تھے۔
میں نے ان میں سے کئی ایک سے بات کی اور یہی پوچھا کہ بھٹو سے ان کا ایسا کیا تعلق اور لگاؤ ہے کہ وہ دور دور سےگڑھی خدا بخش پہنچے ہیں۔ صوبہ سرحد کے علاقے لکی مروت سے تعلق رکھنے والے مشعل خان آزاد نے مزار کی طرف اشارہ کرتے ہوئے کہا ’یہ تو ہمارا پیرومرشد ہے اور ہمارا تو سیاسی قبلہ بھی یہی ہے تو ہر سال ہم اس کا طواف ضرور کرتے ہیں‘۔
| | |
’اگر بھٹو نہیں ہوگا تو پاکستان نہیں ہوگا، چاہے وہ زندہ ہے یا مردہ۔ اگر آپ بھٹو فیکٹر کو پاکستان سے نکال دیں تو پھر کوئی صوبہ کوئی ضلع پھر ایک پاکستان نہیں کہلائے گا۔‘
پنجاب کے علاقے خان پور سے آئے ہوئے غلام غوث نے کہا ’پیپلز پارٹی اور بھٹو خاندان ایک مسلک بن چکا ہے، جیسے کوئی مذہب ہوتا ہے۔ ہمارا وہ (بھٹو) پیر ہے، ہمارا وہ مرشد ہے اور ہم بھٹو مسلک کے لوگ بن گئے ہیں اور انشاء اللہ رہیں گے اور ہماری آئندہ نسلیں بھی اسی پر چلیں گی‘۔ انہوں نے بتایا کہ انہوں نے اپنی تین سالہ بیٹی کا نام ثناء بے نظیر رکھ دیا ہے اور دونوں بیٹوں عثمان اور حسیب کے نام عثمان بھٹو اور حسیب بھٹو رکھ دیے ہیں۔
لاڑکانہ کے پڑوسی ضلع شکارپور کے نوجوان نے بھٹو خاندان سے محبت کی وجہ پیش کی کہ ’ہمارے بڑے تھے وہ بھی بھٹو صاحب سے محبت کرتے تھے اور ان کی موت کے بعد یہاں آتے تھے، ہم بھی ان کی طرح یہاں آتے ہیں اور جب تک زندہ ہیں جیے بھٹو کہتے رہیں گے‘۔ پھٹے پرانے کپڑوں میں ملبوس رتو ڈیرو کے ایک ستر سالہ بزرگ شخص کا کہنا تھا کہ ’ہم جو بھی ہیں سید، فقیر یعنی عوام، بھٹو صاحب ہم سب کی خوشحالی چاہتے تھے‘۔
بلوچستان کے علاقے خاران سے آئے ہوئے تیس سالہ شیر باز ساسولی کا کہنا تھا کہ ’بھٹو نے پوری قوم کو ایک راہ دی، اس کے بغیر یہ ایک اندھی قوم تھا، کوئی راہ ان کو نہیں مل رہا تھا یہ ذوالفقار علی بھٹو کی شخصیت تھا جس نے اس قوم کو اس ملک کو جتنے بھی قبائل تھا انہیں متحد کیا بھٹو نے‘۔
| | |
پاکستان کے زیر انتظام کشمیر سے آئے ہوئے پینتیس سالہ شخص نے کہا ’بھٹو نے ہم کشمیریوں کو جینا سکھایا، ہم مرتے دم تک اسکے پیروکار رہیں گے اور اس مزار پر حاضری بھرتے رہیں گے‘۔
پاکستان کے زیر انتظام قبائلی علاقے خیبر ایجنسی سے تعلق رکھنے والے فرہاد شباب آفریدی نے کہا ’بی بی اور ان کے خاندان کی اتنی قربانیاں ہیں کہ آنے والا نسل بھی پاکستان کو قائم اور آباد رکھے گا‘۔
گلشن حدید کراچی سے آنے والے پینتالیس سالہ بدرالدین نے جب بات شروع کی تو وہ رو پڑے۔ ’بھٹو صاحب کے ساتھ جو لوگ والہانہ محبت کرتے ہیں، یہ جواب ہے بھٹو کا غریبوں کے ساتھ، مظلوموں کے ساتھ محکموں کے ساتھ والہانہ محبت کا۔ بھٹو صاحب نے اس سے بڑھ کر محبت کی اور جو محبت کا تسلسل ہے وہ آج بھی جاری ہے اور آئندہ بھی جاری رہے گا‘۔
بے نظیر بھٹو کے قتل کے بعد پیپلز پارٹی کی باگ ڈور اب بھٹو خاندان کے ہاتھوں میں نہیں ہے بلکہ آصف علی زرداری کے پاس ہے۔ پچھلے تین ماہ کے دوران نئی قیادت کے فیصلوں کو پارٹی سے وابستہ لوگ گہری نظر سے دیکھتے ہیں۔ مثلاً خان پور کے غلام غوث نے کہا کہ ’آصف زرداری صاحب کے آنے کے بعد ہمیں خدشات تھے کہ یہ ہوجائے گا وہ ہوجائے گا، لیکن الحمد للہ جس طریقے سے انہوں نے پارٹی کو چلایا ہے اور جتنی دانشمندی کے ساتھ فیصلے کئے ہیں وہ قابل تحسین ہیں‘۔
لیکن لاڑکانہ کے ایک نوجوان کا کہنا تھا کہ ’زرداری صاحب سے امیدیں اچھی ہیں مگر وہ ایم کیو ایم سے مل گیا ہے یہ بات اس کی اچھی نہیں ہے اگر وہ سندھ میں خود حکومت چلاتے تو اچھا ہوتا‘۔
وہاں موجود کراچی کے چھیالیس سالہ شمس الدین سومرو نے فوری مداخلت کی۔ ’میں نے ایم آر ڈی کی تحریک میں جیل کاٹی ہے، جیسے بھائی نے کہا کہ آصف زرداری ایم کیو ایم سے مل گئے ہیں تو یہ چیز نہیں ہے وہ تو محترمہ کی پیروی کر رہے ہیں، ایم کیو ایم سے مفاہمت ہماری پارٹی کے مفاد میں بھی بہت اچھا قدم ہے اور صوبے اور ملک کے مفاد میں بھی ہے‘۔
پارٹی کی نئی قیادت کے بارے میں لکی مروت کے مشعل خان آزاد کی دلیل بالکل الگ تھی۔ ’جب تک بھٹو صاحب کا مزار ہے اس مزار سے انوار اٹھتے رہیں گے، ہمارا ایک نعرہ ہوتا ہے جب تک سورج چاند رہے گا بھٹو تیرا نام رہے گا، پارٹی کی قیادت چلتی رہے گی چاہے وہ جس کے پاس بھی ہو، یہ تو پھر آصف زرداری ہیں جو محترمہ کے شریک حیات رہے ہیں‘۔
BBCUrdu.com
Saturday, April 5, 2008
بینظیر بھٹو:منفرد سیاسی شخصیت کی مالک
| احمد رضا بی بی سی اردو ڈاٹ کام، کراچی |
| | |
| بینظیر دو مرتبہ پاکستان کی وزیر اعظم بنیں |
وہ اور ان کے بھائی میر مرتضی بھٹو اپنے والد ذوالفقار علی بھٹو کے نقش قدم پر چلتے ہوئے سیاست میں آئے تھے اور یہی ان سب کی موت کی وجہ بنی۔ ان کے والد کو فوجی آمر جنرل ضیاء الحق نے 1979ء میں پھانسی پر چڑھایا تھا، اسکے بعد ان کے بھائی مرتضی بھٹو کو 1996ء میں ان ہی کے دور حکومت میں گولیاں مار کر ہلاک کردیا گیا اور جمعرات کو بے نظیر بھٹو کو لیاقت باغ راولپنڈی میں قتل کردیا گیا۔
اس سے قبل ان کے چھوٹے بھائی شاہ نواز بھٹو بھی 1985ء میں جنرل ضیاء الحق کے دور میں فرانس کے دارالحکومت پیرس میں اپنی قیام گاہ پر مردہ پائے گئے تھے۔ بھٹو خاندان کا الزام تھا کہ انہیں زہر دیکر قتل کیا گیا۔
بھارت کے نہرو-گاندھی خاندان کی طرح، پاکستان کا بھٹو خاندان دنیا کے طاقتور ترین سیاسی خاندانوں میں سے ایک ہے۔ بے نظیر بھٹو کے والد ذوالفقار علی بھٹو 70 کے عشرے میں ملک کے وزیر اعظم تھے۔ ان کی حکومت ملک کے قیام کے بعد ان چند حکومتوں میں سے ایک تھی جسے فوج نہیں چلارہی تھی۔
بینظیر بھٹو دو بار پاکستان کی وزیر اعظم بنیں۔ پہلے 1988ء میں اور پھر 1993ء میں لیکن دونوں مرتبہ ان کی حکومت کو دو ڈھائی سال سے زیادہ نہیں چلنے دیا گیا اور کرپشن کے الزام کے تحت برطرف کردیا گیا۔
تاہم 1988ء میں پہلی بار وزیر اعظم بننے کے بعد ان کا شمار دنیا کی چند مقبول ترین خواتین رہنماؤں میں ہونے لگا تھا اور برسر اقتدار آنے کے بعد انہوں نے خود کو مردانہ حاکمیت کی حامل پاکستانی اسٹیبلشمینٹ کے مقابلے میں ایک کامیاب سیاستدان کے طور پر پیش کیا تھا۔
لیکن دوسری بار اقتدار سے نکالے جانے کے بعد بینظیر بھٹو کے اقتدار کو ان کے مخالفین کرپشن اور بے ضابتگیوں کی حکمرانی سے تعبیر کرتے تھے۔
بینظیر بھٹو نے 1953ء میں صوبہ سندھ میں جنم لیا اور اسکے بعد ہارورڈ اور آکسفورڈ یونیورسٹیوں میں تعلیم حاصل کی۔ ان کے بارے میں کہا جاتا ہے کہ وہ سیاستدان نہیں بننا چاہتی تھی لیکن اپنے والد کی موت کے سات سالوں بعد جب انہوں نے پاکستانی سیاست میں قدم رکھا تو انہیں اپنے والد کی عوامی مقبولیت کا فائدہ پہنچا۔
جس ثابت قدمی اور ہمت کےلیے نظیر بھٹو شہرت رکھتی تھیں وہ سب سے پہلے اس وقت دیکھی گئی جب ان کے والد کو جنرل ضیاء الحق نے اقتدار پر قبضہ کرکے 77ء میں جیل میں ڈال دیا تھا اور ان پر قتل کا مقدمہ بنایا تھا جس کے دو سالوں بعد انہیں سزائے موت دیدی گئی۔
جنرل ضیاء الحق کی حکومت نے بے نظیر کو ان کے والد کی موت سے پہلے قید کردیا تھا اور انہوں نے جیل میں اپنا زیادہ تر وقت قید تنہائی میں گزارا۔ بے نظیر بھٹو نے قید کے حالات کو سخت ترین قرار دیا تھا۔
علاج کی غرض سے جیل سے رہائی کے بعد انہوں نے لندن میں پیپلز پارٹی کا دفتر قائم کیا اور جنرل ضیاء الحق کے خلاف مہم شروع کی تھی۔پھر وہ 1986ء میں پاکستان واپس گئی تھیں جہاں ان کا شاندار استقبال کیا گیا۔
1988ء میں فوجی طیارے کے حادثے میں جنرل ضیاء الحق کی موت کے بعد وہ کسی اسلامی ملک میں جمہوری طور پر منتخب ہونے والی پہلی وزیر اعظم تھیں۔
بے نظیر بھٹو کے دونوں ادوار حکومت میں ان کے شوہر آصف علی زرداری کی حیثیت متنازعہ رہی اور ان پر بعد میں آنے والی حکومتوں نے مالی بدعنوانیوں میں ملوث ہونے کا الزام لگایا۔ بعض لوگوں نے یہ بھی الزام دیا کہ ان کی مبینہ مالی بدعنوانیاں بینظیر بھٹو کے اقتدار کے خاتمے کی وجہ بنی۔
بینظیر بھٹو کو کرپشن کے کم سے کم پانچ مقدمات کا سامنا کرنا پڑا لیکن کسی بھی مقدمے میں انہیں سزا نہیں ہوئی اور اس سال اکتوبر میں انہیں قومی مصالحتی آرڈیننس کے تحت ان الزامات سے بری کردیا گیا۔
بینظیر بھٹو نے اپنے اور اپنے شوہر کے اوپر لگنے والے کرپشن کے الزامات کی ہمیشہ تردید کی اور انہیں ان کی کردارکشی کی سیاسی کوششیں قرار دیا۔
بینظیر بھٹو 1999ء میں پاکستان سے باہر چلی گئی تھیں اور آٹھ سال خود ساختہ جلاوطنی میں گزارے جس کے دوران وہ دبئی میں آٹھ سالوں تک اپنے تین بچوں کے ساتھ رہیں۔
خود ساختہ جلاوطنی کے دوران انہوں نے اکثر مغربی ممالک کے دارالحکومتوں کے دورے کیے اور وہاں کے مختلف اداروں میں لیکچرز دیتی رہیں۔
بینظیر بھٹو خودساختہ جلاوطنی ختم کرکے اٹھارہ اکتوبر کو وطن واپس لوٹی تھیں۔ ان کی آمد سے قبل ملک کے فوجی صدر پرویز مشرف نے متنازعہ قومی مصالحتی آرڈیننس جاری کرکے ان کے خلاف قائم کرپشن کے مقدمات ختم کردئے تھے۔
مبصرین کے بقول پرویز مشرف کی فوجی حکومت انہیں انتہاپسندوں کے خلاف جنگ میں اپنا فطری اتحادی سمجھتی تھی۔
اٹھارہ اکتوبر کو بینظیر بھٹو جب پاکستان واپس آئیں تو کراچی میں ان کی آمد پر ایک بار پھر انسانوں کے سمندر نے ان کا استقبال کیا۔ لیکن ان کے جلوس پر خودکش حملہ ہوا جس میں وہ محفوظ رہیں۔ تاہم ڈیڑھ سو کے قریب لوگ مارے گئے اور پانچ سو سے زائد شدید زخمی ہوئے تھے۔
اس واقعے کے بعد انہوں نے پریس کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے کہا تھا کہ انہیں وطن واپس آنے سے پہلے اس خطرے کا علم تھا کہ ان پر حملہ ہوسکتا ہے لیکن وہ جمہوریت اور ملک کے عوام کی خاطر وطن واپس آئیں۔
BBCUrdu.com
ڈان اخبار اداریہ: ’کرم کے حالات پر قابو نہ پایا گیا تو فرقہ وارانہ تنازعات ملحقہ اضلاع میں پھیل سکتے ہیں‘
خیبرپختونخوا کے قبائلی ضلع کرم میں گزشتہ چند ماہ سے صورت حال عدم استحکام کا شکار ہے، ایسے میں جمعرات کو پیش آنے والا ہولناک واقعہ حیران کُن...
-
جنرل مشرف کی نسبت جنرل کیانی زیادہ پراعتماد نظر آئے آخر کار جنرل پرویز مشرف نے آرمی چیف کا عہدہ چھوڑدیا اور پاکستان فوج کی کمان ایک گ...
-
ضلع مہند میں ایف سی اہلکار جمیل حسین طوری کی شہادت جمیل حسین کی لاش تو آبائی گاؤں گوساڑ کے قبرستان میں پاکستان کے جھنڈے میں لپیٹ کر سرکار...