Sunday, March 23, 2008

جنگل میں قانون شیر کا ہی چلتا ہے کبھی اسی جنگل میں چیونٹیوں اور کمزور مکھیوں کا غول شیر کی ہڈیاں تک ہضم کر جاتا ہے

یور ایکسیلنسی کچھ عرض کروں

یور ایکسیلنسی جارج ڈبلیو بش،
امید ہے آپ خیریت سے ہوں گے
عرض یہ ہے کہ پاکستانی عوام پچھلے ساٹھ برس سے ہر امریکی انتظامیہ سے سنتے آ رہے ہیں کہ پاکستان امریکی خارجہ پالیسی کا ایک اہم ستون ہے اور رہے گا۔
لیکن ہر امریکی انتظامیہ نے عملاً ہر پاکستانی حکومت کو تو اپنا اتحادی بنانے کی کوشش کی لیکن پاکستانی عوام کو ہمیشہ غیر یا ناقابلِ بھروسہ جانا۔

امریکی خارجہ پالیسی کی اس خامی کو یورپی یونین سے لے کر تیسری دنیا کے عوام تک سب نے محسوس کیا لیکن اگر یہ خامی بار بار ٹھوکر کھانے کے باوجود کسی کی سمجھ میں نہ آئی تو وہ خود امریکہ ہے۔

یور ایکسیلنسی
کبھی غور کیجئے گا کہ پاکستانی عوام کو کسی نہ کسی حد تک جو قربت چین سے محسوس ہوتی ہے وہ آپ سے کیوں محسوس نہیں ہوتی۔

یور ایکسیلنسی
جو ممالک امریکہ سے ہزاروں میل پرے ہیں وہ تو ایک طرف رہے۔ آپ اور آپ کے پیشرؤوں کو تو اپنے پچھواڑے میں موجود جنوبی امریکہ بھی سمجھ میں نہ آسکا۔ جہاں عوامی محرومی کو ظاہر کرنے کی جتنی بھی مسلح یا غیر مسلح کوششیں ہوئیں ان کی تہہ تک پہنچنے کے بجائے انہیں فوجی آمروں کے ذریعے کیمونسٹوں اور بائیں بازو کی تخریب کاری قرار دے کر کچلنے کی کوشش کی گئی۔

یور ایکسیلنسی
آپ نے جس آئین پر دو مرتبہ عہدہ صدارت کا حلف لیا ہے اسکی بنیاد ہی جمہوریت، مساوات اور بنیادی انسانی حقوق کے احترام پر ہے لیکن یور ایکسیلنسی ایسا کیوں ہے کہ جب یہی حقوق جنوبی افریقہ کی کالی اکثریت نے مانگے تو امریکہ نے جب تک زور چلا نسل پرست گوری اقلیتی حکومت کا ساتھ دیا۔ جب ڈاکٹر مصدق نے ایران کو پارلیمانی جمہوریت کی راہ پر ڈالنا چاہا تو آپ ہی کی سی آئی اے نے کرائے کے غنڈوں کے ذریعے مصدق کو ہٹا کر شاہ ایران کو بٹھا دیا۔ جب انڈونیشیا کے کروڑوں عوام نے نعرہ حریت بلند کیا تو جکارتہ میں آپ کے سفارتخانے نے فوجی جنرل سوہارتو کو مخالفین کی فہرستیں فراہم کیں۔ جب ویتنامیوں نے چاہا کہ وہ اپنے نظام کی خود تعمیر کریں تو آپ کی فضائیہ نے ان پر کیمیاوی گیسوں اور نیپام بموں کی بارش کردی۔



یور ایکسیلنسی
ایسا کیوں ہے کہ آپ کو اور آپ سے پہلے والوں کو اس دنیا کے ایوب خان، یحییٰ خان، ضیا الحق، موبوتو، نوریگا، پنوشے، حسنی مبارک، اور عبداللہ تو عوام دوست نظر آتے رہے لیکن بیلٹ بکس کے ذریعے منتخب ہونے والی حزب اللہ، اسلامک فرنٹ، حماس اور برما کی نیشنل لیگ فار ڈیموکریسی آپ کے کسی کام کی نہیں تھی۔

یور ایکسیلنسی
یہ درست ہے کہ جنگل میں قانون شیر کا ہی چلتا ہے لیکن کبھی کبھی اسی جنگل میں چیونٹیوں اور کمزور مکھیوں کا غول شیر کی ہڈیاں تک ہضم کر جاتا ہے۔

یہ درست ہے کہ ہم آپ سے نہیں جیت سکتے۔لیکن یہ بھی یاد رہے کہ آپ ہمیں ہرا نہیں سکتے۔

تو کیوں نہ آپ ہم جیسے اربوں بے توقیر اور کمزوروں کے لیے بھی وہی حقوق جائز اور حلال کردیں جو آپ نے ستائیس کروڑ امریکیوں کے لیے مختص کررکھے ہیں۔
کیا یہ بہت بڑی فرمائش ہے ؟

آپ کا مخلص
ایک آمریت گزیدہ پاکستانی



BBCUrdu.com

آصف علی زرداری کیلئے دعا ملک ریاض حسین


malik-riaz-logo.jpg





چند سال پہلے کی بات ہے جناب آصف علی زرداری جیل سے تازہ تازہ رہا ہوئے اور اسلام آباد سے کراچی تشریف لے گئے تھے ،میں اپنے ایک دوست کے ساتھ آصف علی زرداری سے ملاقات کے لئے کراچی گیا۔ آصف علی زرداری رہائی کے بعد بہت مطمئن اور مسرور نظر آرہے تھے، مجھے ان کے اندر ایک گہرائی اور سکون نظر آرہا تھا، میں نے زندگی میں بے شمار سیاسی قیدی دیکھے ہیں ،جیل ایک ایسی خوفناک چیز ہے جو انسان کا توازن ختم کردیتی ہے، زیادہ تر لوگ جیل جاکر منفی ہوجاتے ہیں ، آپ نے اکثر دیکھا ہوگا جب کوئی شخص چھوٹے موٹے جرم میں ایک دوماہ کے لئے جیل جاتا ہے تو وہ وہاں سے واپس آتے ہی بڑا مجرم بن جاتا ہے، لوگ اس کو عموماً صحبت کا اثر کہتے ہیں لیکن میرا خیال اس سے قدرے مختلف ہے، میں سمجھتا ہوں نوے فیصد قیدیوں کو جیل منفی بنادیتی ہے، وہ لوگ جیل جاتے ہیں توان کی ذات میں پوشیدہ برائی ملٹی پلائی ہوجاتی ہے اور وہ جیل سے بڑے مجرم بن کر باہر آتے ہیں ، بہت کم لوگ ایسے ہوتے ہیں کہ جنہیں جیل سدھار دیتی ہے جو مجرم بن کر جیل کا پھاٹک عبور کرتے ہیں اور وہاں سے نیک بن کر باہر آتے ہیں ، یہی فارمولا سیاستدانوں پر بھی لاگو ہوتا ہے ، دنیا کے زیادہ تر سیاستدان جیلوں میں جاکر منفی ہوجاتے ہیں ، یہ لوگ جونہی جیل سے باہر آتے ہیں تو یہ اپنے مخالفین سے انتقام کو اپنی زندگی کا مقصد بنالیتے ہیں ،پاکستان کی تاریخ میں بہت کم ایسے سیاستدان گزرے ہیں جو جیل میں گئے اور وہاں سے ریفارم ہوکر باہر نکلے ہوں یا جن کی خوبیوں میں جیل پہنچ کر اضافہ ہوا ہو، سیاستدانوں کے بارے میں ایک اور فلسفہ یہ ہے کہ کوئی سیاستدان اس وقت تک بڑا اور اچھا سیاستدان نہیں بنتا جب تک وہ جیل کا ذائقہ نہ چکھ لے، میں جب آصف علی زرداری سے کراچی میں ملاقات کے لئے گیا تو وہ مجھے دوسری قسم کے سیاستدان نظر آئے مجھے محسوس ہوا آصف علی زرداری، محترمہ بے نظیر بھٹو کے خاوند کی حیثیت سے جیل میں گئے تھے لیکن وہ وہاں سے سیاستدان اور بڑے لیڈر بن کر نکلے ہیں ۔
میں نے آصف علی زرداری سے اس تبدیلی کا ذکرکیا تو وہ مسکرائے اور انہوں نے کہا میں نے جیل سے بہت کچھ سیکھا ہے ،میں جتنی دیر جیل رہا مجھے رہ رہ کر نیلسن منڈیلا یاد آتے رہے اور میں نے سوچا اگر مجھے موقع ملا تومیں پاکستان میں نیلسن منڈیلا کا کردار ادا کروں گا، میں نے ان سے اتفاق کیا میں نے ان سے عرض کیا پاکستان کا یہی پرابلم ہے، ہم لوگ آج تک انتقام سے باہر نہیں نکل سکے ہم میں سے جو شخص جب بھی اقتدار میں آتا ہے تووہ اپنے دشمنوں سے انتقام کو اپنی زندگی کا مقصد بنالیتا ہے، وہ دشمنوں کو سی آئی ڈی کے حوالے کردیتا ہے ،عدالتوں میں گھسیٹتا ہے ،نیب میں لے جاتا ہے، ہمارے سیاستدان یہ سوچتے ہیں کہ اگر ان کے مخالف نے انہیں پانچ سال جیل میں رکھا تھا توجب تک وہ اپنے مخالف کو دس سال تک جیل میں بند نہیں کریں گے اس وقت تک ان کا انتقام پورا نہیں ہوگا، میں نے آصف علی زرداری سے کہا ہمیں یہ کلچر بدلنا ہوگا، انہوں نے مجھ سے اتفاق کیا تھا، آج اسی آصف علی زرداری کو وقت نے خود کو بڑا لیڈر اور سیاستدان ثابت کرنے کا موقع فراہم کردیا ہے، مجھے معلوم ہورہا ہے کہ وہ بڑی حد تک اس کام میں سنجیدہ ہیں ،مجھے پچھلے دنوں پتہ چلا آصف علی زرداری نے اپنے ہاتھ سے رولیکس کی گھڑی اتار دی، انہوں نے اپنی سینٹرل ایگزیکٹو کمیٹی کے تمام ارکان کی قیمتی گھڑیاں بھی اتروا دی ہیں ، میں نے ان کے بیٹے بلاول بھٹو زرداری کے ہاتھ پر بھی معمولی گھڑی دیکھی ،یہ بھی آصف علی زرداری کی ویژن اور کاز کے ساتھ کمٹمنٹ کو ظاہر کرتی ہے، مجھے پچھلے دنوں پتہ چلاکہ انہوں نے فیصلہ کیا ہے کہ ان کا جو بھی وزیر اعظم ہوگا وہ حلف اٹھاتے ہی اے ڈی سی اور ملٹری سیکرٹری فوج کوواپس کردے گا کیونکہ وزیر اعظم کو عوامی نظر آنا چاہئے، یہ بھی معلوم ہوا ہے کہ آصف زرداری ایک مانیٹرنگ سیل بھی بنائیں گے جو تمام وزارتوں کی کارکردگی کاجائزہ لیتا اور وزیروں کی کارکردگی دیکھتا رہے گا، ماہانہ بنیادوں پر وزراء کی کارکردگی دیکھی جائے گی اور اس کی بنیادوں پر وزراء کے مستقبل کا فیصلہ کیا جائے گا۔
مجھے ان کی باتیں بہت اچھی لگیں لیکن ساتھ ہی مجھے یہ محسوس ہوا کہ پاکستان کی یہ تاریخ ہے ہمارے ملک میں جب بھی کوئی نئی حکومت بنتی ہے تو وہ شروع میں اسی قسم کے اقدامات کرتی ہے لیکن جوں جوں وقت گزرتا جاتا ہے تو حکمرانوں کی کچن کیبنٹ، حکمرانوں کو گھیرلیتی ہے اور وہ اپنے ہی لوگوں کے غلام بن کر رہ جاتے ہيں اگر ہم اپنے صدر پرویز مشرف کا جائزہ لیں تو ان کے گرد بھی تین نحوستیں دکھائی دیتی ہيں پہلے نمبر پر قریشی، دوسرے پر پیر زادہ اور تیسرے پر ملک صاحب ہیں یہ وہ تین نحوستیں ہیں جنہوں نے صدر کو اس مقام تک پہنچا دیا ہے، یہ اس قسم کے لوگ ہوتے ہیں جو بڑے بڑے سمجھدار حکمرانوں کو پاگل کردیتے ہیں اور حکمران آخر میں خود کو خلیفہ سمجھنا شروع کردیتے ہیں ، میری آصف علی زرداری کے لئے دعا ہے کہ وہ اس قسم کی نحوستوں سے بچیں ،ساتھ ہی میری خواہش ہے کہ وہ ایوان صدر اور وزیر اعظم ہاؤس کے اخراجات کو مانیٹر کرنے کے لئے ایک خصوصی سیل بنائیں ،یہ سیل روزانہ ایک شیٹ جاری کرے جس میں یہ ڈکلیئر کرے کہ آج ایوان صدر اور وزیراعظم ہاؤس کے اخراجات میں کتنی کمی واقع ہوئی ہے ۔ میرا خیال ہے یہ وہ اقدامات ہونگے جوآصف علی زرداری کو حقیقتاً اس ملک کا نیلسن منڈیلا بنائیں گے، نیلسن منڈیلا کے بارے میں اس کے ایک دوست نے ایک بار کہا تھا" جیلیں بے شمار بھگتتے ہیں لیکن ان جیلوں میں نیلسن منڈیلا کوئی کوئی بنتا ہے" میری خواہش ہے اللہ تعالیٰ آصف علی زرداری کو حقیقتاً نیلسن منڈیلا بناد

"ایران پر امریکی فوجی کارروائی کیخلاف ہیں : شاہ عبداللہ

"ایران پر امریکی فوجی کارروائی کیخلاف ہیں : شاہ عبداللہ"
ریاض ( آن لائن+ این این آئی) سعودی عرب نے ایران کے خلاف امریکی فوجی حملے کی مخالفت کر دی ہے۔ عرب خبر رساں ادارے کے مطابق یہ بات سعودی شاہ عبداللہ نے سعودی عرب کے دورے پر آئے ہوئے امریکی نائب صدر ڈک چینی کے ساتھ ملاقات میں کہی ہے۔ سعودی عرب کے سرکاری ذرائع کے مطابق دونوں رہنماؤں کی ملاقات میں ایران کا ایٹمی پروگرام اور اس کے مشرق وسطی میں پڑنے والے اثرات عالمی دہشت گردی کے خلاف عالمی جنگ سمیت دیگر دوطرفہ اہم علاقائی و عالمی امور پر تبادلہ خیال کیا گیا۔ اس موقع پر سعودی شاہ عبداللہ نے کہا کہ ان کا ملک ایران کے خلاف کسی بھی امریکی فوجی حملے کے خلاف ہے۔ انہوں نے کہا کہ سعودی عرب اور دیگر خلیجی ممالک سمجھتے ہیں کہ امریکہ اور ایران کے درمیان ایٹمی تنازعہ کا بہترین حل مذاکرات ہیں۔ سعودی شاہ عبداللہ نے ڈک چینی کو مزید بتایا کہ مشرق وسطیٰ کو ایٹمی اور دیگر مہلک ہتھیاروں سے پاک ہونا چاہئے اور ایٹمی عدم پھیلاؤ کی کوششوں میں اسرائیل کو بھی شامل کیا جانا چاہئے جس کے پاس بڑے پیمانے پر ایٹمی ہتھیار موجود ہیں اور وہ خطے کی واحد ایٹمی طاقت ہے۔ دریں اثناء دونوں رہنماؤں کی ملاقات کے ایجنڈے ميں دہشت گردی کیخلاف جنگ ميں پاکستان کا کردار اہم موضوع رہا تاہم بات چیت کی تفصیلات جاری نہيں کی گئی۔ دونوں رہنماؤں نے فلسطین لبنان اور عراق کی تازہ ترین صورتحال اور باہمی تعلقات سمیت تیل کی بڑھتی ہوئی قيمتوں پر تفصیلی بات چیت کی ۔

Thursday, March 20, 2008

مفتی اعلی سعودی عرب کفر کے فتواوں نے مشکلات میں مبتلا کیا ہے

مفتی اعلی سعودی عرب نے فرمایا ہے کہ کفر کے فتواوں نے مشکلات میں مبتلا کیا ہے


Geo Television Network

shafiqueahmed110.com - انا اللہ و انا الیہ راجعون

shafiqueahmed110.com - انا اللہ و انا الیہ راجعون: "انا اللہ و انا الیہ راجعون
پارٹی چیرین جناب عمران خان کے والد مرحوم جناب اکرااللہ خان صاحب کے انتقال پرملال پر میں پارٹی چیرین جناب عمران خان خاندان کے دوسرے افراد اور پارٹی کے سارے کارکنوں کی خدمت میں تعزیت پیش کرتا ہوں۔اللہ آپ سب کو صبر جمیل عطا فرماویں اور مرحوم و مغفور جناب اکرااللہ خان صاحب کو جنت الفردوس میں جگہ ‏�"

پاراچنار فسادات: ’امریکی ایجنڈہ ہے‘

پاراچنار فسادات: ’امریکی ایجنڈہ ہے‘

پریس کانفرنس کے دوران سابق سینٹر طارق چودھری نے تحریک انصاف میں شمولیت کا اعلان کیا
پاکستان تحریک انصاف کے چیئرمین عمران خان نے اس خدشے کا اظہار کیا ہے کہ پارا چنار میں ہونے والے شیعہ سنی فسادات امریکی ایجنڈے کے تحت ہورہے ہیں کیونکہ امریکہ ایران کے خلاف پاکستان کی سرزمین استعمال کرنا چاہتا ہے۔

یہ بات انہوں نے اتوار کو لاہور میں ایک پریس کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے کہی۔

تحریک انصاف کے چئیر مین نے کہا کہ امریکی نائب صدر ڈک چینی کے پاکستان آنے کا مقصد تھا کہ پاکستان کی سرزمین سے ایران کے خلاف دہشت گردی شروع کرائی جائے اور شیعہ سنی فساد پاکستان میں کرایا جائے۔ انہوں نے کہا کہ امریکہ شیعہ سنی اختلافات پیدا کرنے کے لیے صدر مشرف کو استعمال کرنا چاہتا ہے۔

عمران خان نے صدر جنرل پرویز مشرف سے مطالبہ کیا کہ وہ امریکہ پر واضح کردیں کہ اگر ایران پر حملہ کیا گیا تو دہشت گردی کےخلاف جنگ میں اس کاساتھ نہیں دیاجائےگا اور پاکستان میں اس کے تمام اڈے بند کردیئے جائیں گے۔




BBCUrdu.com

اپنی نوعیت کے پہلے سروے میں صرف پچاس فیصد قبائلی سیاسی

BBCUrdu.com

اکثریت عزت کے نام پر قتل کی حامی

قبائلی علاقوں میں کیا جانے والا یہ پہلا سروے تھا
ایک غیرسرکاری تنظیم کی جانب سے پاکستان کے قبائلی علاقوں میں کیئے جانے والے حالیہ دنوں میں اپنی نوعیت کے پہلے سروے میں صرف پچاس فیصد قبائلی سیاسی جماعتوں کو ان کے علاقے میں کام کرنے کی اجازت دینے کے خواہاں ہیں۔

کمیونٹی اپریزل اینڈ موٹیویشن پروگرام یا کیمپ نامی ایک غیرسرکاری تنظیم کی جانب سے کرائے جانے والے اس سروے میں قبائلی علاقوں کی سات ایجنسیوں میں سے ایک ہزار سے زائد لوگوں سے مختلف موضوعات پر ان کی رائے جاننے کی کوشش کی گئی۔

ہر ایجنسی سے ڈیڑھ سو افراد جن میں پچاس خواتین شامل تھیں کی رائے حاصل کرنے کی کوشش کی گئی۔

تاہم اس سروے کے روح رواں اور کیمپ کے سربراہ نوید احمد شنواری نے اعتراف کیا کہ امن عامہ کی خراب حالت کی وجہ سے وہ باجوڑ کے علاوہ شمالی و جنوبی وزیرستان نہیں جاسکے اور بعض اوقات انہیں ان سوالات کے جواب بس اڈوں پر قبائلیوں سے لینے پڑے۔

سروے کے مطابق چوالیس فیصد قبائلی سیاسی جماعتوں کو قبائلی علاقوں میں سرگرمیوں کی اجازت نہیں دینا چاہتے۔ سیاسی جماعتوں کی آمد سے ان لوگوں کو خدشہ ہے کہ امن عامہ اور طرز حکمرانی کی پہلے سے ابتر حالت مزید خراب ہوگی۔

ایک اور قدرے حیران کن نتیجے کے مطابق سڑسٹھ فیصد قبائلیوں نے جن میں خواتین بھی شامل ہیں عزت کے نام پر قتل کی حمایت کی ہے۔ اس کی حمایت کرنے والوں میں ناخواندہ افراد کے علاوہ پڑھے لکھے لوگ بھی تھے۔

قبائلی علاقوں میں رائج فرنٹئر کرائمز ریگولیشن یا ایف سی آر کے بارے میں بھی منقسم رائے سامنے آئی ہے۔ انتالیس فیصد اس میں ترمیم جبکہ صرف اکتیس فیصد اسے ختم کرنے کے حق میں ہیں۔ صرف سات فیصد اس جیسے ہے ویسے ہی رہنے دینے کے حق میں ہیں۔ قبائلیوں میں اس علاقے کو صوبہ سرحد میں شامل کرنے یا علیحدہ حیثیت برقرار رکھنے کے بارے میں ابہام پایا گیا۔

قبائلی علاقوں کو درپیش اس وقت کے سب سے بڑے چیلنج یعنی ’طالبانئزیشن‘ کی اصل وجہ اکثر قبائلیوں کے مطابق ناخواندگی جبکہ کئی نے اسے افغانستان کا اثر، غیراطمینان بخش طرز حکمرانی اور بےروزگاری کو بھی بڑی وجوہات قرار دیا۔ تاہم سروے کے نتائج کی بنیاد پر تجویز تھی کہ شدت پسندی کا حل مقامی سطح پر حل سے نکالا جائے ناکہ فوج کے ذریعے۔

صرف سترہ فیصد قبائلی مسلح جہاد کے حامی پائے گئے جبکہ ستاون فیصد کے مطابق جہاد قرآن سیکھنا ہے لڑنا نہیں۔ پچاس فیصد کے خیال میں شریعت قبائلی علاقوں میں امن کا سبب بن سکتی ہے۔

لیکن ایک بات جس پر تقریباً تمام قبائلی (تراسی فیصد) متفق نظر آئے وہ اسلحہ رکھنا تھا۔ ان کا خیال ہے کہ اسلحہ ان کی حفاظت یقینی بناتا ہے۔

پاکستان میں برطانیہ کے نائب سفیر رے کائل کا کہنا تھا کہ یہ سروے قبائلی علاقوں سے متعلق لوگوں کے ذہنوں میں کئی سوالات کے جواب مہیا کرتا ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ اس علاقے کے بارے میں جوکہ دنیا میں نظروں میں بہت کم معلومات دستیاب ہیں۔

سیاسی تجزیہ نگار نسیم زہرہ کا کہنا تھا کہ یہ سروے لوگوں کی آواز کو سامنے لایا ہے۔ تاہم ان کا کہنا تھا کہ قبائلی علاقے جنگی میدان بنے ہوئے ہیں جسے نظر انداز کیا گیا ہے۔

قبائلی علاقوں سے واقفیت رکھنے والے سابق سیکٹری سیکورٹی بریگیڈیئر (ر) محمود شاہ نے کہا کہ یہ سروے اس اہم علاقے میں اصلاحات کی بنیاد کا کام دے سکتے ہیں۔ ان کا موقف تھا کہ سیاسی جماعتیں اس علاقے میں جاکر ہی تبدیلی کے لیئے راہ ہموار کرسکتی ہیں۔ تاہم انہوں نے ایف سی آر کو خصوصی علاقے کے لیئے ایک مخصوص قانون قرار دیا۔

ان کا کہنا تھا کہ اس سروے سے واضع ہوتا ہے کہ قبائلی پاکستانی قوانین نہیں چاہتے۔

پشاور یونیورسٹی کے ڈاکٹر اعجاز خان نے امید کا اظہار کیا کہ اس سروے کو اب بنیاد بنا کر وزراء خود فیصلے کر سکتے ہیں اور نوکرشاہی کے اثر سے آذاد ہوجائیں گے۔ وہ اس تاثر سے متفق نہیں کہ قبائلی تبدیلی نہیں چاہتے۔ ’سیاسی جماعتوں کے کردار سے قبائلی ہی نالاں نہیں پاکستان کے کسی بھی علاقے کا شخص ہوگا۔ وہ اس وجہ سے تبدیلی سے خوفزدہ ہیں۔’ ان کے بقول سارا مسئلہ گورننس کا ہے۔’

ڈان اخبار اداریہ: ’کرم کے حالات پر قابو نہ پایا گیا تو فرقہ وارانہ تنازعات ملحقہ اضلاع میں پھیل سکتے ہیں‘

خیبرپختونخوا کے قبائلی ضلع کرم میں گزشتہ چند ماہ سے صورت حال عدم استحکام کا شکار ہے، ایسے میں جمعرات کو پیش آنے والا ہولناک واقعہ حیران کُن...