Wednesday, November 14, 2007

a column from Naseem Zehra

خود مختار عدلیہ کے ذریعے قانون کی حکمرانی کا 9مارچ کو شروع ہونے والا سفر 3نومبر کے بحران سے ایک اہم موڑ پر آ گیا ہے ،مارشل لا ء ،ایمر جنسی کے نفاذ کے بعد پاکستانیوں کی اکثریت آئین اور عدلیہ کی بحالی کیلئے متحد ہو رہی ہے ۔ ملکی تاریخ میں پہلا موقع ہے کہ بحران کے نازک دور میں قوم حقیقی خطرے کے خلاف متحد ہے ۔سیاسی وابستگی کے برعکس ملک کے ہر طبقہ فکر کا شہری جان چکا ہے کہ اصل مسئلہ ہمارے درمیان موجود ہے ،کسی قسم کا وعظ یا دلیل لوگوں کی توجہ ہٹانے میںمشکل ہی سے کامیاب ہو گی ۔
شاید عوام بڑی تعداد میں سڑکوں پر نہ آئے ہوں مگر یہ اس بات کا ثبوت نہیں کہ مشرف کا 3نومبر کا فیصلہ درست تھا ۔وہ فریب نظر کا شکار ہیں ،ان کا اعتماد خود فریبی ہے ۔3نومبر کے فیصلے سے ہونے والا نقصان حقیقی ہے ۔ریاست اور سول سوسائٹی کے درمیان خلیج بڑھ رہی ہے ۔عوام کے ٹیکسوں سے تنخواہیں وصول کرنے والے سرکاری مشینری کا کام عوام کی خدمت ہے اور قانون اور آئین کی پاسداری ان کا فرض ہے مگر وہ صرف مشرف کی خوشنودی کیلئے سوسائٹی کو کرش کرنے میں لگے ہیں جو اس کی ایمر جنسی کے خلاف احتجاج کر رہے ہیں ۔
ہزاروں وکلاء اور سماجی تنظیموں کے کارکن جیلوں میں بند ہیں ،تحریک زور پکڑ رہی ہے ،ایک ناراض سوسائٹی کے ساتھ حکومت کیلئے سوات اور قبائلی علاقوں میں دہشت گردی کو ختم کرنا اور زیادہ مشکل ہو گیا ہے ۔سیاسی اتفاق رائے کے دہشت گردوں کے خلاف کامیابی حاصل کرنا بہت پیچیدہ ہو گیا ہے ۔جنرل مشرف کا یہ بیان کہ ایمر جنسی کا مقصد دہشت گردوں کے خلاف مؤثر کارروائی کرنا ہے ،حقائق کے برعکس ہے ۔قلم کی جنبش سے عدلیہ کی بر طرفی جیسے وہ درست اقدام بھی برقرار دیتے ہیں ،ان کے دور حکومت کی سنگین ترین غلطی ہے ۔
بین الاقوامی سطح پر پاکستان ہر فورم پر موضوع بحث بنا ہوا ہے ۔پاکستان کے کرتا دھرتاؤں نے پاکستان کے داخلی حالات پر دنیا بھر کی توجہ مرکوز کروا دی ہے ۔ملک کے عزت ووقا ر کو اس حد تک دھبہ لگ چکا ہے کہ بین الاقوامی براداری میں ہمارا شمار لا قانونیت کی شکار ریاستوں میں ہونا شروع ہو گیا ہے ۔یو این او ،ای یو ،کا من ویلتھ اور دنیاکے معزز عمائدین ،جن میں نیلسن منڈیلہ بھی شامل ہیں ،نے ایمر جنسی اور عدلیہ پر حملے کی سخت مذمت کی ہے ۔امریکی سینٹ ،بین الاقوامی وکلاء کنونشن ،صحافی اور انسانی حقوق کی تنظیمیں پاکستان کے خلاف قرار دادیں منظور کر رہی ہیں ۔جو چیز تشویش ناک ہے وہ یہ کہ پاکستان کے اٹیمی پروگرام کی مخالف لابی کیا کر رہی ہے۔
3نومبر کی نامناسب اور نارواء فیصلہ کا فائدہ اٹھاکر یہ لابی پاکستان میں انتہا پسندی اور دہشت گردی کے مسئلے کو بڑ ھا چڑھا کر پیش کر رہی ہیں اور دنیا کو قائل کرنے میں لگی ہیں کہ غیر مستحکم ملک میںجلد انتہا پسند ملک کے جوہری پروگرام پر قبضہ کر لیں گے ۔3نومبر کے فیصلے کے بعد پیدا ہونے والے عدم استحکام نے انہیں موقع فراہم کر دیا ہے اور انہوں نے پروپیگنڈہ تیز تر کر دیا ہے ۔پاکستانی ملک میں عدلیہ کی بحالی اور آئین کی حکمرانی چاہتے ہیں ،جب تک ریاستی مشینری کو آئین کی حدود میں نہیں لایا جاتا ،پاکستان کو بیرونی خطرات کا سامنا رہے گا ،سب سے بڑا خطرہ پاکستان کے جوہری پروگرام کو لا حق ہے جتنی جلدی ملک میں استحکام آئے گا ،پاکستان مخالف لابی کے پروپیگنڈے میں بھی کمی آ جائے گی ۔
جنرل مشرف کے اتحادی ق لیگ اور ایم کیو ایم ہیں ۔پی پی پی کی طرف سے سیاسی تعاون کی توقعات دم توڑ چکی ہیں ،حالات سے بد دل ہو کرانہوں نے مشرف سے راہیں الگ کر لی ہیں ،جو ایجنڈا وہ امریکہ سے لے کر آئیں ۔یکے بعد دیگرے ہونے والے دو سانحے اس کی راہ میں حائل ہو ں گے ،پہلا سانحہ 18اکتوبر کو کراچی ہونے والا خود کش خملہ تھا ،جس کا ٹارگٹ بے نظیر تھیں ،دوسرا سانحہ 3نومبر کا مارشل لاء ہے ۔27جولائی کو ابو ظہبی میں مشرف کے ساتھ شروع ہونے والے مذاکرات کے جاری رہنے کا امکان ختم ہو چکا ہے ۔مذاکرات کے ختم ہونے کا کوئی واضح اشارہ اگر ہے تو وہ چیف جسٹس کے گھر جا کر ان سے ملا قات کی بے نظیر کی کوشش کو قرار دیا جا سکتا ہے ۔
ہر بحران کچھ نئے امکانات کو جنم دیتا ہے ،3نومبر کا بحران بھی مختلف نہیں ۔ساٹھ سالہ تاریخ میں پاکستان کو کئی غیر آئینی ،غیر منطقی اور غیر اخلاقی صدمات جھیلنے پڑے ،صرف حکمران کی وجہ سے ۔ان کے ارادے شاید نیک ہوں،وہ مخلص بھی ہوں ،مارشل لائی اور کرپٹ نا اہل سول حکمرانوں کے ساتھ بین الاقوامی جہاد کا کھیل بھی ہم نے کھیلا اور اسکی قیمت بھی ادا کی بلکہ کر رہے ہیں ۔80ء کی دہائی میں روس کے خلاف امریکہ کے مفادات کی جنگ لڑنے کی سب سے بھاری قیمت ہمیں ادا کرنا پڑی، ملک کے ادارے تباہ ہوئے، سیاسی فکر سے محروم ہوئے۔ جس کے ذمہ دارداخلی اور بیرونی عناصر دونوں تھے۔ مگر اب تلافی کا وقت آ گیا ہے۔ لوگ صرف ایک مطالبے پر متحد ہو چکے ہیں اور وہ آئین کی بحالی اور قانون کی حکمرانی کا مطالبہ ہے۔
عوام نے سفر کا آغاز کر دیا ہے ملٹری اور سول اداروں کی سختیاں برداشت کر رہے ہیں۔ وہ پر عزم اور پر اعتماد ہیں، ان کے سفر کی منزل قانون و آئین ہے۔ آئینی جمہوریت ان کا مطالبہ ہے۔ آغاز 9مارچ کو ہوا، محرک چیف جسٹس کی معطلی بنا۔ انہوں نے اس سفر میں بڑی کامیابیاں حاصل کیں، یہ فرد یا ادارے کے خلاف نہیں تھا اور نہ ہی کسی فرد کے لئے تھا، بلکہ آزاد اور خود مختار عدلیہ کے لئے تھا، جس نے آئین کی پاسداری کے وعدہ کی لاج رکھی اور ریاستی اداروں سے جواب طلبی کی۔قوم نے فیصلہ کر دیا ہے کہ ان کی منزل کیا ہے اور کس خطرے سے وہ نبرد آزما ہیں۔ تشدد، لاقانونیت، دہشت گردی کوئی نئی چیز نہیں، اصل خطرہ کس سے ہے۔ دہشت گردی سے نبرد آزما ہونا مشکل نہیں، ایک متفقہ پالیسی کی ضرورت ہے۔ قوم نے یہی نتیجہ اخذ کیا ہے کہ ان کو خطرہ صرف اور صرف آئین شکنوں سے ہے۔ آئین شکنی نے ہی مختلف مسائل اور بحرانوں کو جنم دیا، بلکہ عروج تک پہنچایا۔ کئی المیے بھی قانون شکنی نے ہی جنم دیئے۔ انفرادی فیصلے ہی ملک کو تباہی کی طرف لائے اور ملکی قوانین کی بے حرمتی کی۔ طویل المیعاد پالیسیوں میں رکاوٹ بنے رہے۔
ملک میں پرامن تحریک جاری ہے، جس کا مطالبہ اور منزل آئین کی بحالی اور حکمرانی ہے۔ خدشات کے برعکس ملک میں انارکی پھیلنے کا امکان نہیں ہے۔ سب سے بڑھ کر یہ وہ بیرونی ایجنڈے پر عمل نہیں کررہے بلکہ ایجنڈا مقامی ہے۔ ہر پاکستانی اس ایجنڈے کا مصنف ہے۔ اس کو واضح طور پر لکھ دیا ہے کہ آئین کی بالادستی سے کم کچھ بھی قابل قبول نہیں۔ صوبہ سرحد سے پیدا شدہ خانہ جنگی کے حالات پر بھی قابو پایا جا سکتا ہے، مگر اس کے لئے ملک میں آئین کی بالادستی، آزاد عدلیہ کا قیام اور مؤثر جواب دیہی کا نظام ضروری ہے۔
3نومبر کے بحران کے بعد عالمی برادری مجبور ہے کہ پاکستان کیلئے ایسا پروگرام تشکیل دے، جس میں قانون اور آئین کو اولیت حاصل ہو۔ دہشت گردی کا خاتمہ بھی اسی صورت میں ممکن ہے۔ ریاست کے بہترین مفاد کا فیصلہ اس کے عوام نے کرنا ہے۔ اس بنیاد پر نہیں کہ وہ فرنٹ لائن سٹیٹ ہیں، یا کچھ اور۔ دنیا کے بحرانوں سے ہمارا تعلق نہیں۔عوام ہی اہم ہیںاور ان کا عزم ہی بہتر فیصلہ کرے گا۔
پاکستان کو لاحق چیلنجوں کا مقابلہ کرنے کے لئے ضروری ہے کہ اس مارشل لائی ایمرجنسی کا فی الفور خاتمہ ہو۔ اس کا آغاز آئین اور معزول ججوں کی بحالی سے ہو۔ یہ بحران سے نکلنے کا راستہ ہے، دوسرا کوئی حل تجویز کرنا بے سود ہو گا۔ تمام سیاسی قائدین کو بھی متحد ہو کر ملک میں حقیقی جمہوریت کی راہ ہموار کرنا ہو گی۔ دہشت گردی اور انتہا پسندی اس کے ساتھ ہی معاشرے سے دم توڑنا شروع کر دے گی۔

column from Dr sherin Mazari

عجب تماشے پاکستان کا ہی نصیب کیوں ؟ملک کے جمہوریت پسند ، اعتدال پسند ، سول سوسائٹی کے ارکان ، وکلاء کے ساتھ مل کر آئین کی بحالی ،خود مختار عدلیہ اور بنیادی حقوق کیلئے جدو جہد کر رہے ہیں ۔پولیس بدترین تشدد اور گالی گلوچ کے ساتھ انہیں تھانوں اور جیلوں میں بند کر رہی ہے ۔ طلبا ء میں بھی سیاسی بیداری دیکھنے کو مل رہی ہے ۔سول سوسائٹی کے اعتماد میں اضافہ دیکھنے کو آرہا ہے ۔اپوزیشن رہنما اپنے اختلافات کے باعث منظر عام سے ہٹتے دکھائی دے رہے ہیں ،اپنی موجودگی کا احساس کروانے میں ناکام ہیں ۔سوات اور قبائلی علاقوں میں انتہا پسندبغیر مزاحمت کے تیزی سے آگے بڑھ رہے ہیں مگر حکومت کی تمام تر توجہ صرف اور صرف سول سوسائٹی کے اعتدال پسند مظاہرین کو دبانے پر مرکوز ہے ۔
پولیس گردی کی انتہا اسلام آباد پولیس کی طرف سے اس وقت دیکھنے کو ملی جب اسلام آباد کے سکولوں کے طلبہ ایمرجنسی کے خلاف پرامن مظاہرہ کر رہے تھے ۔پولیس کی درخواست پر منتشر ہونے جا رہے تھے کہ پولیس کے جیالوں نے ان کو تشدد کا نشانہ بنانا شروع کر دیا اور گرفتار کیا ،اپنی نسلوں کو ہم کیا سبق دے رہے ہیں ؟ ۔شاید ہم انہیں سکھانا چاہ رہے ہیں کہ قانون نافذ کرنے والے اداروں کا احترام کرنا سیکھیں ۔
سکیورٹی ادارے جو عجب کھیل تماشے جاری رکھے ہوئے ہیں ان کے فرائض اور کچھ فطرت کا بھی حصہ ہیں لیکن تماشہ ہماری محترمہ نے لگا رکھا ہے ،وہ نہ صرف عجب بلکہ ناقابل فہم حد تک واہیات ہے ۔ مغرب کی اس منظور نظر کو پہلے تو اسلام آباد میں نظر بند کیا گیا (ان کی اپنی درخواست پر ) اس کے بعد نورا کشتی شروع ہوئی ،انہیں صحافیوں کے احتجاجی کیمپ تک جانے کی اجازت دی گئی ، چیف جسٹس کے ساتھ اظہار یکجہتی کیلئے جسٹس کالونی کی طرف جانے کی بھی اجازت دی گئی۔سرکاری میڈیا پر ان کی سرگرمیاں نشر کی گئیں ۔شام کو سینٹ کی عمارت میں سفارت کاروں کے اعزاز میں تقریب منعقد کرنے کی بھی اجازت دی گئی ۔سرکاری منظوری اور تائيد کے بغیر یہ ممکن نہ تھا کہ پی پی پی کی ترجمان جو بھی اس کی وضاحت پیش کریں سرکاری منظوری کے بغیر یہ ممکن ہی نہیں ۔
یقینا ًمحترمہ کا ڈرامہ ملک میں جاری سیاسی تماشے میں نئے اور عجیب کھیل کا آغاز ہے ۔ پارٹی کی تمام اعلیٰ قیادت آزاد ہے ان پر کوئی بندش نہیں صرف اعتزاز احسن سرکاری مہمان ہیں ۔پی پی پی کے بجائے وکلاء تحریک کے نمائندے کی حیثیت سے اپنی محدود طاقت اور معمولی تعداد میں پی پی پی کے ورکروں کی حمایت کے ساتھ حکومت کے خلاف متحرک ہیں اور ریاستی نشانے پر ہیں ۔
محترم شفقت محمود نے اپنے تجزیے میں لکھا کہ اگر بی بی کے لانگ مارچ کو روکا گیا تو پھر اُن کی سیاسی ساکھ بحال ہو جائے گی۔یہ ثبوت ہو گاکہ ڈیل اہمیت کھو چکی ہے ۔میرا خیال اس کے برعکس ہے،لانگ مارچ کو روکا جانا بھی ڈرامہ ہے ۔اصل ساکھ اُس وقت بحال ہو گی جب مفاہمتی آرڈیننس منسوخ ہوگا۔کرپشن کے کیس بحال کر دیئے جائیں گے اور عدالتیں اُن کے مقدر کا فیصلہ کریں گی۔
عجب سیاسی کھیل تماشے ہر سطح پر چلتے رہیں گے۔امریکہ کا استعماری کردار کئی قسم کے سوالات کو جنم دے رہا ہے،سابق استعماری قوت برطانیہ ہمارے لئے اس قدر اہم نہیں کہ ہم اُس کے دباؤ میں آجائیں مگر امریکہ کی دھمکیوں کو نظر انداز کرنا آسان نہیں جو ہماری سکیورٹی کے لئے خطرہ ہیں ۔"واشنگٹن پوسٹ "میں چھپنے والی کہانی کے مطابق "اگر امریکہ کو محسوس ہوا کہ پاکستان کے جوہری اثاثے "غلط ہاتھوں "میں جا سکتے ہیں تو وہ ان اثاثوں پر قبضہ کر لے گا"۔امریکہ کے جوہری اثاثے بنیاد پرست عیسائی قوتوں کے ہاتھ لگ جائیں ،جو یقیناًبش کی صدارت میں جا چکے ہیں ،اسرائیل کے جوہری اثاثے پہلے ہی بنیاد پرست یہودیوں کے ہاتھ میں ہیں ،انڈیا کے جوہری اثاثے ہندو قوم پرست بی جے پی کے ہاتھ رہ چکے ہیں ،پاکستان کے جوہری اثاثے کس کے ہاتھ میں ہونے چاہیں بیان دینے کی ضرورت امریکہ کو کیوں پیش آئی؟اُسے پاکستان کے جوہری اثاثے غلط ہاتھوں میں جانے کی کیوں فکر ستا رہی ہے؟تجزیہ نگاروں کی رائے میں کافی وزن ہے کہ امریکہ کو یہ فکر اس لئے ستاتی ہے کہ پاکستان مسلمان ملک ہے۔
پاکستان کے داخلی معاملات میں مداخلت سے گریز کا نقاب امریکہ نے اتار دیا ہے۔لاہور میں امریکی قونصل جنرل مقامی اشرافیہ کو کہتے سنے گئے کہ سپریم کورٹ کے ججوں کا ہٹایا جانا ضروری تھا۔اُ س کے اکثر فیصلے غلط تھے،داخلی معاملات میں اس قدر مداخلت کبھی نہیں کی گئی۔اُسے عاصمہ جہانگیر سے ملنے کی اجازت کس نے دی؟پھر اُن کا الیکشن کمیشن کے دفتر کا دورہ ،پاکستان سوچ بھی نہیں سکتا کہ اُس کا سفیر امریکی الیکشن کمیشن کے دفتر کا دورہ کرے۔
سب سے بڑا تماشا امریکہ کی طرف سے انتخابی نتائج کے آنے سے پہلے بے نظیر مشرف کے درمیان اشتراک اقتدار کا فارمولہ طے کرنے کا ہے۔اس سے صاف ظاہر ہوتا ہے کہ امریکہ کو پاکستان میں شفاف انتخابات سے کوئی دلچسپی نہیں ،حماس کی کامیابی کا صدمہ ابھی تازہ ہے،وہ کسی نہ کسی طرح بے نظیر کی سربراہی میں قومی حکومت کی تشکیل چاہتا ہے۔یہی وجہ ہے کہ نواز شریف کی جبری جلاوطنی پر امریکہ کی طرف سے کسی ردعمل کا اظہار نہ کیا گیا۔
آخری مگر بڑا تماشا نگران حکومت کے قیام کے موقع پر دیکھنے کو ملے گا۔کئی ریٹائرڈ ملٹری اور سول بیوروکریٹ ایک نئی سیاسی زندگی پائیں گے اور ٹی وی پر اپنی فصاحت اور بلاغت سے ناظرین کو یرغمال بنائے رکھیں گے۔ملک میں ویسے بھی نگران حکمرانوں کا کلب وجود میں آ چکا ہے اور وہی چہرے ہر نگران سیٹ اپ میں دکھائی دیتے ہیں ۔بار بار وہی بیمار روحیں ہمارے سر پرلا کر بٹھا دی جاتی ہیں ۔
دنیا بھر کا میڈیا اور حکومتیں پاکستان کو تضحیک کا نشانہ بنا رہی ہیں دوسرے ممالک کے برعکس جہاں صرف مخصوص نا پسندیدہ رہنماؤں کو تضحیک کا نشانہ بنایا جاتا ہے جیسے وینز ویلا کے صدر شاویز،ایران کے احمدی نثرادوغیرہ کے ملک کو مجموعی طور پر تضحیک کا نشانہ نہیں بنایا جاتا مگر پاکستان کامعاملہ برعکس ہے ۔وہ صرف پاکستان کو تضحیک کا نشانہ بنا رہے ہیں خصوصاً امریکہ اور اس کے اتحادی ۔رہنماؤں کی وجہ سے ملک کا امیج ضرور خراب ہوتا ہے مگر ملک کی اشرافیہ کی غلطیوں کا مورد الزام ملک کو ٹھہرایا جائے ،یہ کچھ نا قابل فہم ہے ۔ریاستوں کا انحصار ایک شخص پر کبھی بھی نہیں ہوا ،کوئی بھی اس کیلئے نا گزیر نہیں ،فیصلہ پاکستانیوں نے کرنا ہے جنہوں نے یہاں رہنا ہے ۔ہم میں کسی کے بھی دبئی یورپ یا امریکہ میں گھر نہیں ،اپنے ملک کا دفاع ہم نے مل کر کرنا ہے ۔افراد کی بجائے ہم نے مل کر اداروں اور نظام کو مضبوط بنانا ہے تاکہ وہ جو نیو کلئیر پاکستان کے ختم ہونے کے انتظار میں ہیں ،وہ طویل انتظار کریں ۔

you are welcome to visit my site and have a lot of information and fun is there by shafique ahmed

you are welcome to visit my site and have a lot of information and fun is there

Tuesday, November 13, 2007

BBCUrdu.com وسعت اللہ خان posted by shafique ahmed

BBCUrdu.com


چیف آف آرمی سٹاف جنرل پرویز مشرف نے تین نومبر کی شام آئینِ پاکستان معطل کرنے کے بعد اپنی تقریر میں یہ وضاحت کر کے بہت اچھا کیا کہ پاکستان ابھی اس مرحلے تک نہیں پہنچا کہ یہاں کے لوگ مغربی انداز کی سیاسی و جمہوری آزادی یا بنیادی حقوق کے متحمل ہوسکیں۔ جس منزل تک پہنچنے میں مغرب کو صدیاں لگ گئیں وہاں پاکستان ساٹھ برس کی مختصر مدت میں کیسے پہنچ سکتا ہے۔

اس جرنیلی وضاحت کے بعد اب پاکستان اپنا جمہوری سفر باآسانی حمورابی، ، رعمیسس، اشوک، خسرو پرویزو اور جولیس سیزر کے دور سے شروع کر سکتا ہے۔ جب بادشاہ کی مخالفت کرنے والے کو مملکت کا غدار سمجھ کر ہاتھی کے پاؤں تلے دے دیا جاتا تھا۔ قلعے کی فصیل سے پھنکوا دیا جاتا تھا۔ کڑھاؤ میں تلوا دیا جاتا تھا، شہر پناہ کے دروازے سے لٹکوا دیا جاتا تھا۔ کھال میں بھوسہ بھروا دیا جاتا تھا یا آنکھوں میں گرم سلائی پھروا دی جاتی تھی۔

جب تک پاکستانی قوم ان تجربات کی بھٹی سے نہیں گذرے گی وہ جمہوریت اور بنیادی حقوق کی قدر کیسے پہچانے گی۔ جنرل پرویز مشرف کی یہ بات بالکل بجا ہے کہ جمہوریت کے گرم گرم حلوے سے منہ جلانے کے بجائے پاکستانی قوم کو برداشت کی سان پر تیز کیا جائے۔

جس طرح جمہوریت کی جانب کوئی شارٹ کٹ راستہ نہیں جاتا اور اس کے لئے وقت اور تجربے کے پل صراط سے گذرنا پڑتا ہے۔ جنرل مشرف کو یہی فلسفہ معیشت پر بھی لاگو کرنا چاہیے۔ ترقی کی قدر اسی وقت ہوگی جب جنرل مشرف کرنسی کے لین دین کی جگہ جنس کے بدلے جنس یعنی بارٹر سسٹم سے اس قوم کو گذاریں۔ کاروں اور بسوں کی جگہ اونٹ اور گھوڑے کی سواری سے ترقی


کا سفر شروع کروائیں۔اپنا پہیہ خود ایجاد کریں۔ ماچس پر پابندی لگوا کر چقماق سے چولہا جلانے کے لئے لوگوں کی حوصلہ افزائی کریں۔اس مشق کے بعد جب پاکستانی قوم جدیدیت کے دور میں داخل ہوگی تو پھر اس کی ترقی کبھی پٹڑی سے نہیں اترے گی۔

لیکن یہ سب کروانے کے لئے ایک ایسے جری حکمران کی ضرورت ہے جو ہرطرح کی مصلحت بالائے طاق رکھ کر قوم کے سرکش گھوڑے پر سواری کرسکے۔ مارشل لا، ایمرجنسی، عبوری آئین یا مرحلہ وار جمہوریت جیسی کنفیوژن بڑھانے والی اصطلاحات سے ہمیشہ کے لئے جان چھڑوالے اور کب وردی پہنوں کب شیروانی اتاروں کے مخمصے سے آزاد ہو کر نظریہ ضرورت کو پاکستان کی بنیادی آئینی دستاویز قرار دے دے۔

اس تناضر میں چیف آف آرمی سٹاف جنرل پرویز مشرف ہی اس قوم کی واحد امید اور سہارا نظر آتے ہیں۔ جن کا ہمیشہ سے نعرہ ہے سب سے پہلے پاکستان۔
جنرل مشرف کا پاکستان۔


Monday, November 12, 2007

BBCUrdu.com راجہ ذوالفقار علیKA COLUMN

BBCUrdu.com: "

Monday, 12 November, 2007, 18:10 GMT 23:10 PST

راجہ ذوالفقار علی
بی بی سی اردو ڈاٹ کام، لندن

سیّد بادشاہ کا کارڈ

اپنے پاکستانیوں کے سیّد پرویز مشرف نے دستور سے ہٹ کر اتوار چھٹی کے دن ایک اخباری کانفرنس سے خطاب کیا جس کے بعد سیکریٹری انفارمیشن سیّد انور محمود نے بڑے سیّد کی خواہش کے عین مطابق سوال پوچھنے کا حق پہلے غیر پاکستانی صحافیوں کو دیا۔

جنرل صاحب نے اس پریس کانفرنس کے دوران بظاہر مغربی سماعتوں کی راحت کے لیے انتخابات فروری کی بجائے نو جنوری سے قبل کرانے کا اعلان کیا۔ انہوں نے نسیان کے مارے ہوئے پاکستانیوں کو یاد دلایا کہ وہ وعدہ کہ ’اسمبلیاں اپنی مدت پوری کریں گی‘ پورا کردیاگیا ہے ۔

لیکن کس کی مجال ہے جو سید صاحب کو یاد دلائے کہ جناب سنہ دو ہزار چار میں آپ کا وعدہ یہ تھا کہ آپ وردی اتار دیں گے لیکن ’قوم کے وسیع تر مفاد‘ میں آپ نے اسے پورا کرنے کی ضرورت محسوس نہیں کی۔

بظاہر جنرل پرویز مشرف نے پریس کانفرنس میں اپنے مغربی سامعین کو انتخابات کا مژدہ سنا کر خوش کر دیا لیکن فوجی دانش کے غلاف میں لپٹے ہوئے اس اعلان سے خود پاکستان میں اپوزیشن جماعتوں کو اپنی اپنی پڑ گئی ہے۔

اپوزیشن پہلے ہی بٹی ہوئی تھی، رہی سہی کسر جنرل صاحب نے نکال کر رکھ دی ہے۔ اور اب عالم یہ ہے کہ اسے اپنا لائحہ عمل طے کرنے کے لیے کئی دشواریوں کا سامنا ہے۔

اپوزیشن کے پاس اس وقت بظاہر تین راستے ہیں۔ پہلا یہ کہ وہ انتخابات کا بائیکاٹ کر دے اور اِس مطالبے پر ڈٹ جائے کہ تین نومبر سے پہلے والی عدالت بحال کی جائے۔

دوسرا یہ کہ ایمرجنسی کے نفاذ اور جسٹس افتخار محمد چودھری کی سربراہی والی عدلیہ کو بھول کر بھر پور انداز میں الیکشن کی تیاری کی جائے۔

اپوزیشن کے پاس تیسرا راستہ یہ ہے کہ وہ انتخابات میں حصہ لے ایسے کہ مستقبل کی پارلیمان کی طرف جانے والی راہیں بھی نگاہ سے اوجھل نہ ہوں اور ہنگامی حالت کے خاتمے اور عدلیہ کی بحالی کا مطالبہ بھی ہوتا رہے۔

ماضی میں اپوزیشن نےانتخابات کا بائیکاٹ کیا تھا جس کے افسوس کی بازگشت مختلف سیاستدانوں کے بیانات میں آج بھی سنائی دیتی ہے۔یوں بھی مستقبل میں سیاست کا جو بازار لگے گا اس میں لین دین کا حق صرف انہیں مل سکے گا جو اس کاروبار کا حصہ ہوں گے۔ وہ جو باہر بیٹھے ہوں گے ان کی صدائیں اس بازار کے شور میں کسی کو کم ہی سنائی دیں گی۔

اگر اپوزیشن یہ طے کر لے کہ اسے الیکشن لڑنا ہے تو پہلے تو اسے نہ چاہتے ہوئے بھی یہ کرنا ہوگا کہ عدلیہ بحال ہو یا نہ ہو، ایمرجنسی ہٹے، نہ ہٹے، وہ سیّد مشرف کی تازہ بچھائی گئی سیاسی بساط پر کھیلے گی۔ اس صورت کو اختیار کرنے پر اسے زیادہ سے زیادہ نشستیں لینے کے لیے کم سے کم وقت میں بھرپور زور لگانا پڑے گا۔

لیکن اپوزیشن کا حال یہ ہے کہ نواز شریف اور ان کی چند ہم خیال جماعتیں جن میں قوم پرست بھی شامل ہیں کہہ رہی ہیں کہ ایمرجنسی کا خاتمہ اور عدلیہ کی بحالی الیکشن سے زیادہ اہم ہیں۔ایمرجنسی میں انتخابات بے معنی ہیں اور ان میں دھاندلی کی جائے گی۔ یہ باتیں وہ بیانات کے ذریعے کہہ رہے ہیں چہ جائیکہ ان کے وفادار سڑکوں پر اس مسئلے پر آواز اٹھاتے۔

مذہبی جماعتوں کا اتحاد متحدہ مجلسِ عمل اپنی شکست و ریخت کو بچانے میں ناکام رہا ہے۔ اس اتحاد کے ایک اہم رہنما مولانا فضل الرحمان کا طرزِ عمل کسی سے ڈھکا چھپا نہیں کیونکہ

جنابِ شیخ کا نقشِ قدم یوں بھی ہے اور یوں بھی

اے آر ڈی بکھری پڑی ہے اور اس کی سب سے اہم جماعت پاکستان پیپلز پارٹی کی چیئرپرسن نے بے نظیر سیاست کا مظاہرہ کرتے ہوئے جنرل مشرف سے مراعات کی یقین دہانی بھی کرا لی ہے، کچھ مراعات حاصل بھی کر لی ہیں اور قوم کو دکھانے کے لیے وقتاً فوقتاً جنرل مشرف کو آنکھیں بھی دکھاتی رہتی ہیں۔

اتفاق کہیئے کہ مولانا فضل الرحمان اور بے نظیر بھٹو ہی دو ایسے رہنما ہیں جنہوں نے لانگ مارچ کی کال دی ہے۔ بے نظیر کا لانگ مارچ تیرہ نومبر کو ہونا ہے جبکہ فضل الرحمان کے لانگ مارچ کی کال سولہ نومبر کی ہے۔ جماعتِ اسلامی جس بے چاری پر مارشل لاء کے دوران آمریت کی بی ٹیم ہونے کا الزام لگتا رہا ہے، لانگ مارچ کا کال دینے کی بہت شوقین ہے، مگر تا حال خاموش ہے۔

وہ جنہوں نے جنرل آصف نواز کے دور میں ہونے والا بے نظیر لانگ مارچ دیکھا ہے، گواہ ہیں کہ نواز شریف حکومت نے اس احتجاج کا راستہ روکنے کے لیے پورے ملک کی انتظامی مشینری متحرک کر دی تھی لیکن بے نظیر اپنے جیالوں کے جلو میں اشک آور گیس کے بادلوں، پولیس کی لاٹھیوں اور انتظامی رکاوٹوں کو پیروں تلے روندھتے ہوئے راولپنڈی کے لیاقت باغ تک پہنچ ہی گئی تھیں۔

کیا بینظیر کا لانگ مارچ ایسا ہی ہوگا۔ بظاہر نہیں۔ لاہور کے چودھری اسے روک لیں گے اور بے نظیر بھٹو شاید حفاظتی حصار میں گھر واپس چلی جائیں اگرچہ پنجاب کے گلی محلوں میں جیالے پولیس کے ساتھ وہ آنکھ مچولی کھیلتے رہیں گے جس کا شوق انہیں اکثر ستاتا رہتا ہے۔

یہ ہے وہ اپوزیشن جس کے سامنے جنرل سیّد پرویز مشرف نے انتخابات کا پتّا پھینکا ہے۔

ایم ایم اے اور پیپلز پارٹی سیّد پرویز مشرف کے پھینکے ہوئے اس کارڈ کو ضرور اٹھائیں گے کہ اس کے سوا ان کے پاس کوئی آپشن ہی نہیں۔ اے پی ڈی ایم، خصوصاً نواز شریف کی جماعت کے لیے یہ کارڈ اٹھانا بہت وزنی ہوگا لیکن اسے اٹھائے بغیر ان کی پہلے سے بگڑی ہوئی بات مزید بگڑ جائے گی۔

لہذا آنے والے دنوں میں سیاسی جماعتیں پھر فوجی دانش کا شکار بنتی نظر آ رہی ہیں۔ سیّد پرویز مشرف نے ایک بار پھر دوہری چال چلی ہے اور دوہری چالیں چلنے کا ہنر انہیں خوب آتا ہے۔وہ دوہرے معیار نہ رکھتے ہوں لیکن’ملکی مفاد‘ کے تحت ہر معیار کو دوہرا کرنا جانتے ہیں۔ وہ اصولوں پر تو سمجھوتہ نہیں کرتے لیکن جب چاہیں ’ملکی مفاد‘ میں سمجھوتے کے لیے نئے اصول بنا لیتے ہیں۔


کاش اپوزیشن سمجھ سکتی کہ سیّد صاحب ہمہ جہت شخصیت کے حامل ہیں۔ اگر دربار لگائیں تو پرویز، ایوانِ صدارت سجائیں تو مشرف، مسلم لیگ قاف (کنگز پارٹی) بنائیں تو بادشاہ اور دوہرے عہدے کی طاقت سے آئین اور قانون کی بساط الٹ دیں تو شہنشاہ۔

اور شہنشاہ، شہنشاہ ہوتا ہے۔ اگر شہنشاہ کی گجرات کے چودھریوں سے بنتی ہے تو حیرت کیا، اگر وہ کوئٹہ کے چودھری کا افتخار توڑ ڈالے تو افسوس کیوں؟ اور اگر ملکی میڈیا کی زبان کاٹ دے تو شور کس لیے؟

شہنشاہ نے ہنگامی طور پر نیا فرمان جاری کیا ہے اور اگر وہ چاہتے ہیں کہ سیاسی جماعتیں ججوں کو بُھول جائیں تو سیاسی جماعتیں ججوں کو بُھول جائیں گی۔ اگر وہ چاہتے ہیں کہ اگلے برس ایک معلق پارلیمان وجود میں آئے، تو ایسا ہی ہوگا۔ انہیں اگر اپنے کیے پہ نادم ہونے کی بجائے اپنے کیے کا آئینی جواز چاہیے ہوگا تو اگلی پارلیمان سے یہ بھی مل جائے گا۔ تو کیا اگر شہنشاہ کے پاس سپہ سالار کا عہدہ نہیں ہوگا۔اگر کوئی تبدیلی ہوگی تو سیّد مشرف اور اشفاق کیانی کی ہوگی۔ جنرل پرویز آرمی چیف نہیں ہوں گے نہ سہی، آرمی چیف تو جنرل پرویز ہی ہوں گے۔

Sunni, Shia and US Middle East politics

There is a widespread belief amongst political theorists that democracies do not go to war with one another. Indeed, this political paradigm acted as a prime justification for the Bush administration’s call to “democratise” the Middle East.
Since the invasion of Iraq in 2003, this theme of "democratisation" has become a major topic in American political discourse and in fact accompanies nearly all discussions of the Arab-Muslim world and America’s so-called role in it.
The Bush administration’s response to the current conflict in southern Lebanon, reveals the hypocrisy and true ideology of this administration in aiming at provoking sectarian tension in the region.
Western analysts continue to discuss an alleged "historic" hostility between Sunni and Shia in the region. Dexter Filkins, an Iraq based New York Times journalist claimed in a recent radio interview that the Sunni in Iraq have now “realised that the Shia are their true enemy, not the Americans.”

But the fact is that this statement contradicts history, Iraq Sunni and Shia have been living together for centuries. Modern history books are free from any reference to war between them, but not until the US-led invasion of
Iraq.
Martin Peretz claims that the most virulent social conflict in Middle Eastern history "is the Sunni hatred of the Shia, and vice versa," another groundless claim seems to suggest that Muslims somehow cause more harm to one another than the illegal occupations of their land. Western analysts and journalists newfound enthusiasm for sectarian history in the Muslim world needs to be contextualised.

The danger in baseless claims made by western journalists, become even greater when policy makers and American voters begin to rely on them to assess appropriate action in the Muslim and Arab regions.
It is remarkable that unpopular and unelected rulers, kings and occupiers are the only ones obsessed by alleged sectarian tensions in the region. King Abdullah II of Jordan, a close US ally had warned the west of the supposedly dangerous "Shia crescent" stretching from Iran, moving through Iraq, Syria and ending in Southern Lebanon.
Many in the west, including influential pro-Zionist journalists like Thomas Friedman, are praising Egypt, Jordan and Saudi Arabia—states that Nicholas Blanford described as "western friendly Sunni-led Arab states."

George Bush has always been keen to invite the Saudis to the White House for a smile laden photo session with a president who is a frequent user of the term "free world".
This insistence on sectarianism revolves around a dangerous twist. Western journalists have continued to suggest that the US presence in Iraq is needed in order to prevent civil war, an idea that many Americans believe in.
Needless to say, the American presence has done nothing other than perpetuate civil tensions in the country. Arab kings are freighting their peoples with a false sectarian threat, further consolidating their forceful hold on power.
While regimes like the Saudis are now ordering huge quantities of weapons from the west in order to protect themselves from an assumed sectarian threat posed by Iran.

Western journalists and analysts repeating and confirming the existence of sectarian tension in the
Middle East are actually justifying an American occupation of great parts of the region, instigate a local arms race where the west is the prime benefactor and protect tyrants' grip on power and monarchies who rule by fear.
The fact that the west is arming the un-elected regime in Saudi Arabia against the elected regime in Iran serves as an emphatic indicator of American wishes in the region.
It seems that the mounting tensions of Iraq, Palestine and Lebanon, have placed too much stress on the American façade of freedom and democracy and have revealed the true nature of American policy behind it.
American policy in the Middle East has two major components: First, the Bush administration has an absolute disdain for true democracy in the Middle East and, secondly, this administration is in great need for civil war throughout the entire region.
These observations may appear bold to western reader—it is a common perception amongst Arab and Muslim readers­—when we examine US behaviour, however, it becomes difficult to conclude otherwise.
Firstly, the major targets of US criticism and Israeli aggression in the current crises—Hamas and Hezbollah are widely popular resistance groups who have democratically elected representative.
President Ahmednijad of Iran, who came to office elected by Iranian people himself, is a target of international criticism because of his hard stance against Israel.
Yet Mr. Bush who often says he is a leader of a state belongs to the "free world" supports unelected rulers in Saudi Arabia, Jordan, and Egypt. The Bush administration’s cosy relationship with those rulers should serve as fair warning to green eared reformers in the Arab and Muslim world who seek out this administration’s alliance in the hope for political change.
Furthermore, analyzing US policy in this regard should shed some light on the recent political history of Iraq and help explain why events have taken that turn in that country.
These Arab leaders have justified their unpopular alliance with the United States by invoking sectarianism, while the US has justified its alliance with kings and dictators in the name of "protecting" the mainly Sunni Muslim world against alleged sectarian threat posed by Iran and Hezbollah who are Shia Muslims.
Let us be clear—this threat cannot be detected amongst the Arab public, it exists largely as an abstract idea that conveniently serves those in power.

When one takes a step back and looks at the broad picture of the current conflict it becomes apparently and ironically clear that the elected officials and regimes of the Muslim world are the targets of American and Israeli hostility.
On one hand we have Iranians, Hamas, and Hezbollah, all of whom were brought to power through an electoral process to greater or lesser degrees. In the case of Hamas and the regime of Ahmadinejad in Iran, we have majority elected governments, in the case of Hezbollah we have a popular organisation elected as a part of a government.

On the other hand we have
Egypt, Jordan and Saudi Arabia, a couple of un-elected kings and an unelected ruler standing side by side with the United States, the supposed champion of democracy in the region, acquiescing in Israeli aggression.
Condoleezza Rice, the US secretary of state, has described the current conflict as the "birth pangs" of a new Middle East, but it seems this is a Middle East that does not represent the wishes of the people.
As I have mentioned, if anyone is curious about Rice’s vision of a new Middle East, you need look no further than Iraq, where the US encouraged a sectarian election and Iraqi citizens have become obsessed by Sunni and Shia affairs to the extent they have forgotten that their land remains illegally occupied.
While western analysts are describing Hezbollah as merely an extension of Iran, and therefore "Shia interests," the people of Cairo and Amman, predominantly "Sunni cities" took to the streets carrying pictures of Hasan Nasrallah the Shia Arab leader, defying the "Sunni-Shia rift," described by Peretz.

Most western observers have conveniently ignored widespread Sunni support for Hezbollah throughout the Arab and Muslim world. In
Iraq the US employed a formula of sectarianism in order to entrench itself all the more deeply into Iraqi politics; we now find this formula being extrapolated across the greater Muslim world.

Sunni in the Arab world are to forget the constant aggression of Israel against the Arab peoples and rely on the United States to "protect" them from the Shia, while the Shia in Iraq are being convinced they need the US to protect them from the Sunni.
Palestinian Prime Minister Ismail Haniya has perhaps put it all in perspective by commenting on the issue of a "new" Middle East. He observes that what the Americans mean by "change" in the Middle East is an end to legitimate resistance against illegal and immoral occupation and Muslim subordination to American and Israeli domination.

His observations seem well justified since the NYT has recently reported that the
US is rushing arms to Israel. We must remember, these missiles are meant to bomb Lebanon, a nation with a democratically elected government (of which members of Hezbollah are represented). So much for the theory that democracies do not go to war with one another

ڈان اخبار اداریہ: ’کرم کے حالات پر قابو نہ پایا گیا تو فرقہ وارانہ تنازعات ملحقہ اضلاع میں پھیل سکتے ہیں‘

خیبرپختونخوا کے قبائلی ضلع کرم میں گزشتہ چند ماہ سے صورت حال عدم استحکام کا شکار ہے، ایسے میں جمعرات کو پیش آنے والا ہولناک واقعہ حیران کُن...