Wednesday, November 14, 2007
Tuesday, November 13, 2007
BBCUrdu.com وسعت اللہ خان posted by shafique ahmed
BBCUrdu.com
وسعت اللہ خان
بی بی سی اردو ڈاٹ کام، اسلام آباد چیف آف آرمی سٹاف جنرل پرویز مشرف نے تین نومبر کی شام آئینِ پاکستان معطل کرنے کے بعد اپنی تقریر میں یہ وضاحت کر کے بہت اچھا کیا کہ پاکستان ابھی اس مرحلے تک نہیں پہنچا کہ یہاں کے لوگ مغربی انداز کی سیاسی و جمہوری آزادی یا بنیادی حقوق کے متحمل ہوسکیں۔ جس منزل تک پہنچنے میں مغرب کو صدیاں لگ گئیں وہاں پاکستان ساٹھ برس کی مختصر مدت میں کیسے پہنچ سکتا ہے۔اس جرنیلی وضاحت کے بعد اب پاکستان اپنا جمہوری سفر باآسانی حمورابی، ، رعمیسس، اشوک، خسرو پرویزو اور جولیس سیزر کے دور سے شروع کر سکتا ہے۔ جب بادشاہ کی مخالفت کرنے والے کو مملکت کا غدار سمجھ کر ہاتھی کے پاؤں تلے دے دیا جاتا تھا۔ قلعے کی فصیل سے پھنکوا دیا جاتا تھا۔ کڑھاؤ میں تلوا دیا جاتا تھا، شہر پناہ کے دروازے سے لٹکوا دیا جاتا تھا۔ کھال میں بھوسہ بھروا دیا جاتا تھا یا آنکھوں میں گرم سلائی پھروا دی جاتی تھی۔
جب تک پاکستانی قوم ان تجربات کی بھٹی سے نہیں گذرے گی وہ جمہوریت اور بنیادی حقوق کی قدر کیسے پہچانے گی۔ جنرل پرویز مشرف کی یہ بات بالکل بجا ہے کہ جمہوریت کے گرم گرم حلوے سے منہ جلانے کے بجائے پاکستانی قوم کو برداشت کی سان پر تیز کیا جائے۔
جس طرح جمہوریت کی جانب کوئی شارٹ کٹ راستہ نہیں جاتا اور اس کے لئے وقت اور تجربے کے پل صراط سے گذرنا پڑتا ہے۔ جنرل مشرف کو یہی فلسفہ معیشت پر بھی لاگو کرنا چاہیے۔ ترقی کی قدر اسی وقت ہوگی جب جنرل مشرف کرنسی کے لین دین کی جگہ جنس کے بدلے جنس یعنی بارٹر سسٹم سے اس قوم کو گذاریں۔ کاروں اور بسوں کی جگہ اونٹ اور گھوڑے کی سواری سے ترقی
کا سفر شروع کروائیں۔اپنا پہیہ خود ایجاد کریں۔ ماچس پر پابندی لگوا کر چقماق سے چولہا جلانے کے لئے لوگوں کی حوصلہ افزائی کریں۔اس مشق کے بعد جب پاکستانی قوم جدیدیت کے دور میں داخل ہوگی تو پھر اس کی ترقی کبھی پٹڑی سے نہیں اترے گی۔لیکن یہ سب کروانے کے لئے ایک ایسے جری حکمران کی ضرورت ہے جو ہرطرح کی مصلحت بالائے طاق رکھ کر قوم کے سرکش گھوڑے پر سواری کرسکے۔ مارشل لا، ایمرجنسی، عبوری آئین یا مرحلہ وار جمہوریت جیسی کنفیوژن بڑھانے والی اصطلاحات سے ہمیشہ کے لئے جان چھڑوالے اور کب وردی پہنوں کب شیروانی اتاروں کے مخمصے سے آزاد ہو کر نظریہ ضرورت کو پاکستان کی بنیادی آئینی دستاویز قرار دے دے۔
اس تناضر میں چیف آف آرمی سٹاف جنرل پرویز مشرف ہی اس قوم کی واحد امید اور سہارا نظر آتے ہیں۔ جن کا ہمیشہ سے نعرہ ہے سب سے پہلے پاکستان۔
جنرل مشرف کا پاکستان۔
Monday, November 12, 2007
BBCUrdu.com راجہ ذوالفقار علیKA COLUMN
Monday, 12 November, 2007, 18:10 GMT 23:10 PST
راجہ ذوالفقار علی
بی بی سی اردو ڈاٹ کام، لندن
سیّد بادشاہ کا کارڈ
اپنے پاکستانیوں کے سیّد پرویز مشرف نے دستور سے ہٹ کر اتوار چھٹی کے دن ایک اخباری کانفرنس سے خطاب کیا جس کے بعد سیکریٹری انفارمیشن سیّد انور محمود نے بڑے سیّد کی خواہش کے عین مطابق سوال پوچھنے کا حق پہلے غیر پاکستانی صحافیوں کو دیا۔
جنرل صاحب نے اس پریس کانفرنس کے دوران بظاہر مغربی سماعتوں کی راحت کے لیے انتخابات فروری کی بجائے نو جنوری سے قبل کرانے کا اعلان کیا۔ انہوں نے نسیان کے مارے ہوئے پاکستانیوں کو یاد دلایا کہ وہ وعدہ کہ ’اسمبلیاں اپنی مدت پوری کریں گی‘ پورا کردیاگیا ہے ۔
لیکن کس کی مجال ہے جو سید صاحب کو یاد دلائے کہ جناب سنہ دو ہزار چار میں آپ کا وعدہ یہ تھا کہ آپ وردی اتار دیں گے لیکن ’قوم کے وسیع تر مفاد‘ میں آپ نے اسے پورا کرنے کی ضرورت محسوس نہیں کی۔
بظاہر جنرل پرویز مشرف نے پریس کانفرنس میں اپنے مغربی سامعین کو انتخابات کا مژدہ سنا کر خوش کر دیا لیکن فوجی دانش کے غلاف میں لپٹے ہوئے اس اعلان سے خود پاکستان میں اپوزیشن جماعتوں کو اپنی اپنی پڑ گئی ہے۔
اپوزیشن پہلے ہی بٹی ہوئی تھی، رہی سہی کسر جنرل صاحب نے نکال کر رکھ دی ہے۔ اور اب عالم یہ ہے کہ اسے اپنا لائحہ عمل طے کرنے کے لیے کئی دشواریوں کا سامنا ہے۔
اپوزیشن کے پاس اس وقت بظاہر تین راستے ہیں۔ پہلا یہ کہ وہ انتخابات کا بائیکاٹ کر دے اور اِس مطالبے پر ڈٹ جائے کہ تین نومبر سے پہلے والی عدالت بحال کی جائے۔
دوسرا یہ کہ ایمرجنسی کے نفاذ اور جسٹس افتخار محمد چودھری کی سربراہی والی عدلیہ کو بھول کر بھر پور انداز میں الیکشن کی تیاری کی جائے۔
اپوزیشن کے پاس تیسرا راستہ یہ ہے کہ وہ انتخابات میں حصہ لے ایسے کہ مستقبل کی پارلیمان کی طرف جانے والی راہیں بھی نگاہ سے اوجھل نہ ہوں اور ہنگامی حالت کے خاتمے اور عدلیہ کی بحالی کا مطالبہ بھی ہوتا رہے۔
ماضی میں اپوزیشن نےانتخابات کا بائیکاٹ کیا تھا جس کے افسوس کی بازگشت مختلف سیاستدانوں کے بیانات میں آج بھی سنائی دیتی ہے۔یوں بھی مستقبل میں سیاست کا جو بازار لگے گا اس میں لین دین کا حق صرف انہیں مل سکے گا جو اس کاروبار کا حصہ ہوں گے۔ وہ جو باہر بیٹھے ہوں گے ان کی صدائیں اس بازار کے شور میں کسی کو کم ہی سنائی دیں گی۔
اگر اپوزیشن یہ طے کر لے کہ اسے الیکشن لڑنا ہے تو پہلے تو اسے نہ چاہتے ہوئے بھی یہ کرنا ہوگا کہ عدلیہ بحال ہو یا نہ ہو، ایمرجنسی ہٹے، نہ ہٹے، وہ سیّد مشرف کی تازہ بچھائی گئی سیاسی بساط پر کھیلے گی۔ اس صورت کو اختیار کرنے پر اسے زیادہ سے زیادہ نشستیں لینے کے لیے کم سے کم وقت میں بھرپور زور لگانا پڑے گا۔
لیکن اپوزیشن کا حال یہ ہے کہ نواز شریف اور ان کی چند ہم خیال جماعتیں جن میں قوم پرست بھی شامل ہیں کہہ رہی ہیں کہ ایمرجنسی کا خاتمہ اور عدلیہ کی بحالی الیکشن سے زیادہ اہم ہیں۔ایمرجنسی میں انتخابات بے معنی ہیں اور ان میں دھاندلی کی جائے گی۔ یہ باتیں وہ بیانات کے ذریعے کہہ رہے ہیں چہ جائیکہ ان کے وفادار سڑکوں پر اس مسئلے پر آواز اٹھاتے۔
مذہبی جماعتوں کا اتحاد متحدہ مجلسِ عمل اپنی شکست و ریخت کو بچانے میں ناکام رہا ہے۔ اس اتحاد کے ایک اہم رہنما مولانا فضل الرحمان کا طرزِ عمل کسی سے ڈھکا چھپا نہیں کیونکہ
جنابِ شیخ کا نقشِ قدم یوں بھی ہے اور یوں بھی
اے آر ڈی بکھری پڑی ہے اور اس کی سب سے اہم جماعت پاکستان پیپلز پارٹی کی چیئرپرسن نے بے نظیر سیاست کا مظاہرہ کرتے ہوئے جنرل مشرف سے مراعات کی یقین دہانی بھی کرا لی ہے، کچھ مراعات حاصل بھی کر لی ہیں اور قوم کو دکھانے کے لیے وقتاً فوقتاً جنرل مشرف کو آنکھیں بھی دکھاتی رہتی ہیں۔
اتفاق کہیئے کہ مولانا فضل الرحمان اور بے نظیر بھٹو ہی دو ایسے رہنما ہیں جنہوں نے لانگ مارچ کی کال دی ہے۔ بے نظیر کا لانگ مارچ تیرہ نومبر کو ہونا ہے جبکہ فضل الرحمان کے لانگ مارچ کی کال سولہ نومبر کی ہے۔ جماعتِ اسلامی جس بے چاری پر مارشل لاء کے دوران آمریت کی بی ٹیم ہونے کا الزام لگتا رہا ہے، لانگ مارچ کا کال دینے کی بہت شوقین ہے، مگر تا حال خاموش ہے۔
وہ جنہوں نے جنرل آصف نواز کے دور میں ہونے والا بے نظیر لانگ مارچ دیکھا ہے، گواہ ہیں کہ نواز شریف حکومت نے اس احتجاج کا راستہ روکنے کے لیے پورے ملک کی انتظامی مشینری متحرک کر دی تھی لیکن بے نظیر اپنے جیالوں کے جلو میں اشک آور گیس کے بادلوں، پولیس کی لاٹھیوں اور انتظامی رکاوٹوں کو پیروں تلے روندھتے ہوئے راولپنڈی کے لیاقت باغ تک پہنچ ہی گئی تھیں۔
کیا بینظیر کا لانگ مارچ ایسا ہی ہوگا۔ بظاہر نہیں۔ لاہور کے چودھری اسے روک لیں گے اور بے نظیر بھٹو شاید حفاظتی حصار میں گھر واپس چلی جائیں اگرچہ پنجاب کے گلی محلوں میں جیالے پولیس کے ساتھ وہ آنکھ مچولی کھیلتے رہیں گے جس کا شوق انہیں اکثر ستاتا رہتا ہے۔
یہ ہے وہ اپوزیشن جس کے سامنے جنرل سیّد پرویز مشرف نے انتخابات کا پتّا پھینکا ہے۔
ایم ایم اے اور پیپلز پارٹی سیّد پرویز مشرف کے پھینکے ہوئے اس کارڈ کو ضرور اٹھائیں گے کہ اس کے سوا ان کے پاس کوئی آپشن ہی نہیں۔ اے پی ڈی ایم، خصوصاً نواز شریف کی جماعت کے لیے یہ کارڈ اٹھانا بہت وزنی ہوگا لیکن اسے اٹھائے بغیر ان کی پہلے سے بگڑی ہوئی بات مزید بگڑ جائے گی۔
لہذا آنے والے دنوں میں سیاسی جماعتیں پھر فوجی دانش کا شکار بنتی نظر آ رہی ہیں۔ سیّد پرویز مشرف نے ایک بار پھر دوہری چال چلی ہے اور دوہری چالیں چلنے کا ہنر انہیں خوب آتا ہے۔وہ دوہرے معیار نہ رکھتے ہوں لیکن’ملکی مفاد‘ کے تحت ہر معیار کو دوہرا کرنا جانتے ہیں۔ وہ اصولوں پر تو سمجھوتہ نہیں کرتے لیکن جب چاہیں ’ملکی مفاد‘ میں سمجھوتے کے لیے نئے اصول بنا لیتے ہیں۔
کاش اپوزیشن سمجھ سکتی کہ سیّد صاحب ہمہ جہت شخصیت کے حامل ہیں۔ اگر دربار لگائیں تو پرویز، ایوانِ صدارت سجائیں تو مشرف، مسلم لیگ قاف (کنگز پارٹی) بنائیں تو بادشاہ اور دوہرے عہدے کی طاقت سے آئین اور قانون کی بساط الٹ دیں تو شہنشاہ۔
اور شہنشاہ، شہنشاہ ہوتا ہے۔ اگر شہنشاہ کی گجرات کے چودھریوں سے بنتی ہے تو حیرت کیا، اگر وہ کوئٹہ کے چودھری کا افتخار توڑ ڈالے تو افسوس کیوں؟ اور اگر ملکی میڈیا کی زبان کاٹ دے تو شور کس لیے؟
شہنشاہ نے ہنگامی طور پر نیا فرمان جاری کیا ہے اور اگر وہ چاہتے ہیں کہ سیاسی جماعتیں ججوں کو بُھول جائیں تو سیاسی جماعتیں ججوں کو بُھول جائیں گی۔ اگر وہ چاہتے ہیں کہ اگلے برس ایک معلق پارلیمان وجود میں آئے، تو ایسا ہی ہوگا۔ انہیں اگر اپنے کیے پہ نادم ہونے کی بجائے اپنے کیے کا آئینی جواز چاہیے ہوگا تو اگلی پارلیمان سے یہ بھی مل جائے گا۔ تو کیا اگر شہنشاہ کے پاس سپہ سالار کا عہدہ نہیں ہوگا۔اگر کوئی تبدیلی ہوگی تو سیّد مشرف اور اشفاق کیانی کی ہوگی۔ جنرل پرویز آرمی چیف نہیں ہوں گے نہ سہی، آرمی چیف تو جنرل پرویز ہی ہوں گے۔
Sunni, Shia and US Middle East politics
But the fact is that this statement contradicts history, Iraq Sunni and Shia have been living together for centuries. Modern history books are free from any reference to war between them, but not until the US-led invasion of Iraq. Martin Peretz claims that the most virulent social conflict in Middle Eastern history "is the Sunni hatred of the Shia, and vice versa," another groundless claim seems to suggest that Muslims somehow cause more harm to one another than the illegal occupations of their land. Western analysts and journalists newfound enthusiasm for sectarian history in the Muslim world needs to be contextualised.
The danger in baseless claims made by western journalists, become even greater when policy makers and American voters begin to rely on them to assess appropriate action in the Muslim and Arab regions. It is remarkable that unpopular and unelected rulers, kings and occupiers are the only ones obsessed by alleged sectarian tensions in the region. King Abdullah II of Jordan, a close US ally had warned the west of the supposedly dangerous "Shia crescent" stretching from Iran, moving through Iraq, Syria and ending in Southern Lebanon. Many in the west, including influential pro-Zionist journalists like Thomas Friedman, are praising Egypt, Jordan and Saudi Arabia—states that Nicholas Blanford described as "western friendly Sunni-led Arab states."
George Bush has always been keen to invite the Saudis to the White House for a smile laden photo session with a president who is a frequent user of the term "free world". This insistence on sectarianism revolves around a dangerous twist. Western journalists have continued to suggest that the US presence in Iraq is needed in order to prevent civil war, an idea that many Americans believe in. Needless to say, the American presence has done nothing other than perpetuate civil tensions in the country. Arab kings are freighting their peoples with a false sectarian threat, further consolidating their forceful hold on power. While regimes like the Saudis are now ordering huge quantities of weapons from the west in order to protect themselves from an assumed sectarian threat posed by Iran.
Western journalists and analysts repeating and confirming the existence of sectarian tension in the Middle East are actually justifying an American occupation of great parts of the region, instigate a local arms race where the west is the prime benefactor and protect tyrants' grip on power and monarchies who rule by fear. The fact that the west is arming the un-elected regime in Saudi Arabia against the elected regime in Iran serves as an emphatic indicator of American wishes in the region. It seems that the mounting tensions of Iraq, Palestine and Lebanon, have placed too much stress on the American façade of freedom and democracy and have revealed the true nature of American policy behind it. American policy in the Middle East has two major components: First, the Bush administration has an absolute disdain for true democracy in the Middle East and, secondly, this administration is in great need for civil war throughout the entire region. These observations may appear bold to western reader—it is a common perception amongst Arab and Muslim readers—when we examine US behaviour, however, it becomes difficult to conclude otherwise. Firstly, the major targets of US criticism and Israeli aggression in the current crises—Hamas and Hezbollah are widely popular resistance groups who have democratically elected representative. President Ahmednijad of Iran, who came to office elected by Iranian people himself, is a target of international criticism because of his hard stance against Israel. Yet Mr. Bush who often says he is a leader of a state belongs to the "free world" supports unelected rulers in Saudi Arabia, Jordan, and Egypt. The Bush administration’s cosy relationship with those rulers should serve as fair warning to green eared reformers in the Arab and Muslim world who seek out this administration’s alliance in the hope for political change. Furthermore, analyzing US policy in this regard should shed some light on the recent political history of Iraq and help explain why events have taken that turn in that country. These Arab leaders have justified their unpopular alliance with the United States by invoking sectarianism, while the US has justified its alliance with kings and dictators in the name of "protecting" the mainly Sunni Muslim world against alleged sectarian threat posed by Iran and Hezbollah who are Shia Muslims. Let us be clear—this threat cannot be detected amongst the Arab public, it exists largely as an abstract idea that conveniently serves those in power.
When one takes a step back and looks at the broad picture of the current conflict it becomes apparently and ironically clear that the elected officials and regimes of the Muslim world are the targets of American and Israeli hostility. On one hand we have Iranians, Hamas, and Hezbollah, all of whom were brought to power through an electoral process to greater or lesser degrees. In the case of Hamas and the regime of Ahmadinejad in Iran, we have majority elected governments, in the case of Hezbollah we have a popular organisation elected as a part of a government.
On the other hand we have Egypt, Jordan and Saudi Arabia, a couple of un-elected kings and an unelected ruler standing side by side with the United States, the supposed champion of democracy in the region, acquiescing in Israeli aggression. Condoleezza Rice, the US secretary of state, has described the current conflict as the "birth pangs" of a new Middle East, but it seems this is a Middle East that does not represent the wishes of the people. As I have mentioned, if anyone is curious about Rice’s vision of a new Middle East, you need look no further than Iraq, where the US encouraged a sectarian election and Iraqi citizens have become obsessed by Sunni and Shia affairs to the extent they have forgotten that their land remains illegally occupied. While western analysts are describing Hezbollah as merely an extension of Iran, and therefore "Shia interests," the people of Cairo and Amman, predominantly "Sunni cities" took to the streets carrying pictures of Hasan Nasrallah the Shia Arab leader, defying the "Sunni-Shia rift," described by Peretz.
Most western observers have conveniently ignored widespread Sunni support for Hezbollah throughout the Arab and Muslim world. In Iraq the US employed a formula of sectarianism in order to entrench itself all the more deeply into Iraqi politics; we now find this formula being extrapolated across the greater Muslim world.
Sunni in the Arab world are to forget the constant aggression of Israel against the Arab peoples and rely on the United States to "protect" them from the Shia, while the Shia in Iraq are being convinced they need the US to protect them from the Sunni. Palestinian Prime Minister Ismail Haniya has perhaps put it all in perspective by commenting on the issue of a "new" Middle East. He observes that what the Americans mean by "change" in the Middle East is an end to legitimate resistance against illegal and immoral occupation and Muslim subordination to American and Israeli domination.
His observations seem well justified since the NYT has recently reported that the US is rushing arms to Israel. We must remember, these missiles are meant to bomb Lebanon, a nation with a democratically elected government (of which members of Hezbollah are represented). So much for the theory that democracies do not go to war with one another
ڈان اخبار اداریہ: ’کرم کے حالات پر قابو نہ پایا گیا تو فرقہ وارانہ تنازعات ملحقہ اضلاع میں پھیل سکتے ہیں‘
خیبرپختونخوا کے قبائلی ضلع کرم میں گزشتہ چند ماہ سے صورت حال عدم استحکام کا شکار ہے، ایسے میں جمعرات کو پیش آنے والا ہولناک واقعہ حیران کُن...
-
جنرل مشرف کی نسبت جنرل کیانی زیادہ پراعتماد نظر آئے آخر کار جنرل پرویز مشرف نے آرمی چیف کا عہدہ چھوڑدیا اور پاکستان فوج کی کمان ایک گ...
-
ضلع مہند میں ایف سی اہلکار جمیل حسین طوری کی شہادت جمیل حسین کی لاش تو آبائی گاؤں گوساڑ کے قبرستان میں پاکستان کے جھنڈے میں لپیٹ کر سرکار...